Oplus_16908288

زاہدان/تہران (ھمگام نیوز ) قابض ایرانی وزارت اطلاعات نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں، بالخصوص بلوچستان اور دشتِ دامغان میں چار مبینہ کارروائیوں کے دوران ایک مسلح گروپ اور چار آپریشنل سیلز کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ اس کارروائی کے نتیجے میں 5 افراد ہلاک اور 19 کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ دوسری جانب، آزاد ذرائع نے ہلاک ہونے والے بعض افراد کی شناخت عام شہریوں کے طور پر کی ہے۔

 

سیکورٹی فورسز کا جانی نقصان اور بارود کی برآمدگی

وزارت اطلاعات کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، ان آپریشنز کے دوران ایک مبینہ خودکش دھماکے کے نتیجے میں ایک ایرانی سیکورٹی اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوا ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے مختلف شہروں میں تخریب کاری کا ارادہ رکھنے والے ایک نیٹ ورک کو بلوچستان، یزد اور سمنان کے صوبوں سے ٹریس کیا گیا، جہاں سے 5 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ زاہدان میں ان کے ایک مبینہ ٹھکانے سے 20 سے زائد تیار دھماکہ خیز آلات (آئی ای ڈیز) بھی برآمد کیے گئے ہیں۔

 

“ایرج بامری” کی ہلاکت اور مبینہ نیٹ ورکس کا خاتمہ

 

سرکاری اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ سیکورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ایک مشترکہ کارروائی کے دوران “ایرج بامری” نامی شخص کو ہلاک کر دیا گیا ہے، جسے حکام نے بدامنی پھیلانے والے ایک گروہ کا سرغنہ قرار دیا ہے۔

 

اس کارروائی میں ان کے مزید 3 ساتھیوں کو گرفتار کرنے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔

 

مزید برآں، ایرانی انٹیلی جنس نے جنوب مشرقی سرحدوں پر مبینہ طور پر “امریکہ اور اسرائیل” سے وابستہ تین دیگر سیلز کو مسمار کرنے اور ان کے 11 ارکان و معاونین کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق ان افراد کے ذمے جنوب مشرقی بلوچستان کے اضلاع میں دھماکے، ٹارگٹ کلنگ، اور چابہار بندرگاہ کے اقتصادی مراکز اور انفراسٹرکچر کی جاسوسی جیسے ٹاسک تھے۔ ان کے پاس سے ہلکا اور نیم بھاری اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے، اور گرفتار شدگان میں بعض غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔

 

آزاد ذرائع اور مقامی رپورٹس کا تضاد

 

بلوچستان کے حالات پر نظر رکھنے والی انسانی حقوق کی تنظیم “رسانک” کی رپورٹ کے مطابق، حکومتی دعووں اور زمینی حقائق میں واضح فرق ہے۔

6 جون 2026 کی رات کو ایرانی سیکورٹی فورسز نے ایک بلوچ شہری “ایرج بامری” کی رہائش گاہ پر دھاوا بولا تھا اور اندھا دھند فائرنگ کر کے انہیں قتل کر دیا تھا۔

 

6 جون کی صبح سویرے سیکورٹی فورسز نے سراوان کے علاقے میں ایک اور کارروائی کی، جس میں “جلیل نہتانی”، ان کے بیٹے “محمد عمر نہتانی” اور مزید دو افراد کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا۔

اس مسلح تصادم کے دوران ایک مقامی فوجی اہلکار “محمد سیاہانی” بھی مارا گیا تھا جبکہ اس کا ایک ساتھی زخمی ہوا تھا۔

آزاد ذرائع اور غیر جانبدار مبصرین کا کہنا ہے کہ ایرانی وزارت اطلاعات کی جانب سے عائد کردہ الزامات اور گرفتار کیے گئے افراد کی اصل شناخت کے حوالے سے تاحال کوئی تصدیق شدہ تفصیلات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔