واشنگٹن(ہمگام نیوزڈیسک) امریکی کانگریس کے ایوانِ نمائندگان کے ایک ڈیمو کریٹ پینل نے وائٹ ہاؤس کے سعودی عرب میں جوہری ری ایکٹر تعمیر کرنے کے منصوبہ کے حوالے سے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
اس حوالے سے بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے مشرق وسطی میں عدم استحکام پیدا ہوسکتا ہے،اور جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کو بڑھاوا ملے گا۔ایوانِ نمائندگان کی نگران کمیٹی کے مطابق اس معاملے کی ’تحقیقات خاص طور پر ضروری ہیں کیونکہ بظاہر انتظامیہ کی جانب سے سعودی عرب کو امریکہ کی حساس جوہری ٹیکنالوجی کی منتقلی کا عمل جاری ہے۔‘ایک غیرملکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس اقدام سے مشرق وسطی میں عدم استحکام پیدا ہوگا اور جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کو بڑھاوا ملے گا.
ایوانِ نمائندگان کی نگران کمیٹی کے مطابق اس معاملے کی تحقیقات خاص طور پر ضروری ہیں کیونکہ بظاہر انتظامیہ کی جانب سے سعودی عرب کو امریکہ کی حساس جوہری ٹیکنالوجی کی منتقلی کا عمل جاری ہے.
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 12 فروری کو وائٹ ہاﺅس میں جوہری توانائی بنانے والے افراد سے ملاقات کی اور سعودی عرب سمیت مشرق وسطی کے ممالک میں جوہری پلانٹس لگانے کے حوالے سے بات چیت کی. صدر ٹرمپ کے داماد اور وائٹ ہاﺅس کے مشیرجیرڈ کشنر بھی رواں ماہ مشرق وسطی کا دورہ کریں گے تاکہ ٹرمپ انتظامیہ امن منصوبے کے معاشی پہلوﺅں کے بارے میں تبادلہ خیال کر سکیں.
سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اسے اپنی توانائی کے ذرائع بڑھانے کے لیے جوہری توانائی کی ضرورت ہے‘تاہم امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس کی حریف ریاست ایران کی جوہری ٹیکنالوجی کے ہوتے ہوئے اس حوالے سے خدشات پائے جاتے ہیں. ناقدین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی امریکی جوہری ٹیکنالوجی تک رسائی خطے میں ہتھیاروں کی ایک خطرناک دوڑ شروع کر سکتی ہے.
یہ رپورٹ وسل بلوئر یعنی خبردار کرنے والوں کے کچھ بیانات اور دستاویزات پر مبنی ہے جن میں ٹرمپ انتظامیہ کے اہلکاروں اور جوہری کمپنیوں کے درمیان رابطوں کی تفصیلات ہیں. اس کے مطابق امریکہ کے اندر کچھ مضبوط نجی کمرشل سطح پر اس حوالے سے دلچسپی پائی جاتی ہے اور وہ شدت سے حساس جوہری ٹیکنالوجی کے سعودی عرب منتقل کیے جانے کے لیئے دباﺅ ڈال رہے ہیں. یہ کمرشل ادارے سعودی عرب میں ان جوہری سہولیات کی تعمیر کے کنٹریکٹس کی مدد سے اربوں ڈالر کما سکتے ہیں. رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سارے معاملے میں براہِ راست ملوث ہیں‘وائٹ ہاﺅس نے تاحال اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے.


