ہمگام کالم :بلوچستان کا سب سے اعلی تعلیمی ادارہ ‘جامعہ بلوچستان’ سیکورٹی کے نام پر ایک تعلیمی ادارے کے بجائے مکمل فوجی کیمپ میں تبدیل ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔
قندیل آزادی شہید پروفیسر صباء دشتیاری کہا کرتے تھے۔”محکوم اقوام کا فلسفیانہ شعور انقلاب کی بنیاد اور قابض کی موت ہے” یونیورسٹی میں وار ڈریس میں فوج کا موجود ہونا ریاست کی خوف اور بوکھلاہٹ کا واضح ثبوت ہے کہ بلوچستان میں ریاست کو تعلیم اور شعور سے ڈر لگتا ہے کیونکہ تعلیم حقیقت سے روشناس کراتی ہے اور مقبوضہ اقوام کیلئے حقیقت کا علم بذات خود قبضہ گیر کی موت ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے طلباء و طالبات کو بندوقوں اور خوف کے سائے میں تعلیم دیا جا رہا ہے تاکہ وہ نفسیاتی حوالوں سے خوفزدہ اور مفلوج ہوکر ریاست کی بدمعاشیوں کو دیکھ کر بھی خوف کے سائے تلے آواز بلند نہ کرسکیں۔ طلباء کو تعلیمی ماحول کے بجائے ہر وقت بندوق اور مختلف قسم کے ہتھیار دکھا کر ان کو ہر وقت خوف و ہراس میں رکھا جاتا ہیں ۔
جامعہ بلوچستان صوبے کا واحد ادارہ ہے جہاں بیک وقت ہزاروں کی تعداد میں طلباء و طالبات بلوچستان بھر سے تعلیم کے زیور سے آراستہ ہورہے ہیں۔ مگر حالیہ فوجی مداخلت کی وجہ سے جامعہ ہر طرف سے بشمول طلباء، اساتذہ اور دیگر ملازمین کے مسائل میں بری طرح ڈوبا ہوا ہے جیسے فیسوں میں اضافہ، ہاسٹلز کی کمی، ٹرانسپورٹ کی کمی، لیکچررز اور پروفیسرز کی کمی، انتظامیہ کی غنڈہ گردی، یونیورسٹی میں کرپشن اور اقرباء پروری، کیفے ٹیریاز کا بند ہونا، اسکے علاوہ سیکورٹی اہلکاروں کا جامعہ میں بلا ضرورت دندناتے پھرنا وغیرہ قابل ذکر مسائل ہیں۔ مگر ان تمام تر مسائل پر جب کسی بھی قسم کی پرامن احتجاج کرنے کی نوبت آتی ہے تو جامعہ کے حکام بالا اور دیگر مقتدر قوتیں یعنی ایف سی اور آئی ایس آئی کے اہلکار ایکشن میں آکر یونیورسٹی میں طلبہ اور اساتذہ کے جمہوری حقوق پر مزید قدغن لگانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ جسکی حالیہ مثال یونیورسٹی میں مختلف طلبہ تنظیموں کے تنظیمی سرکلز کو سبوتاژ کرنا شامل ہیں ۔ اسکے علاوہ یونیورسٹی انتظامیہ نے جامعہ کے اندر طلبہ کو اپنے بنیادی حقوق سے دور رکھنے کے لیے نام نہاد سوسائٹیز اور یونینز کے نام سے تنظیمیں بنائی ہیں جنکا مقصد طلباء کو مختلف مراعات کے ذریعے طلبہ سیاست سے دور رکھنا ہے۔
سپوڑس بلاک کو ایف سی اپنے جنگی ساز و سامان اور رہائش کیلئے استعمال کرتا آرہا ہے مگر نفری بڑھنے اور جگہ کم ہونے کی وجہ سے اب ہاسٹل پر قبضہ شروع ہورہا ہے۔ یونورسٹی میں اسٹوڈنٹس کو حالیہ سال ہاسٹل میں الاٹمنٹ نہیں دیا جارہا۔ اس کی وجہ یہ ہے کے ہاسٹل میں ایف سی کے لئے جگہ بنایا جارہا ہے۔ دو بلاک جن میں 50 سے زائد کمرے آتے ہیں وہ سب VC نے ایف سی کے حوالے کردئیے ہیں۔ یاد رہے ہاسٹل پہلے سے ہی مکمل طور پر ایف سی کی کنٹرول میں رہا ہے مگر اب اسٹوڈنٹس کے ساتھ ان کے رہائش کا بھی انتظام کیا جا رہا ہے۔ نتیجتا دور دراز کے علاقوں سے آئے ہوئے غریب طلباء کو ہاسٹل میں جگہ نہیں مل رہا ہے جسکی وجہ سے وہ در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔
یونیورسٹی آف بلوچستان ملک کا وہ انوکھا تعلیمی ادارہ ہے جہاں VC کے گھر میں ایک کرنل رہائش پذیر ہے اور اسپورٹس کمپلیکس کو مکمل طور پر سیکورٹی اداروں کے رہائش کیلئے مختص کیا گیا ہے جس کی وجہ سے کہیں سالوں سے کھیل کی سرگرمیاں بند ہو چکی ہیں۔ یونیورسٹی کے اندر جگہ جگہ مورچے بنائے گئے ہیں وردی پوش افراد مفتوحہ علاقہ سمجھ کر روزانہ دندناتے پھرتے ہیں جبکہ سیکورٹی اور امن و امان کے نام پر روزانہ طلباء کی تذلیل کی جاتی ہے۔
مزید یہ کہ طلباءوطالبات پر سختیاں بڑا دی گئی ہیں گیٹ پر ان کو روک کر سختی سے ان کی چیکنگ کی جاتی ہے جب کہ اس کے برعکس ایف سی اہلکار و دیگر پنجابی آبادکار اسلحہ اور مختلف قسم کے ہتھیاروں سے لیس جامعہ کے اندر بغیر روک ٹوک کے آتے جاتے ہیں۔ لائبریری، بک پوائنٹ اور کینٹینز سمیت ہر جگہ ہر وقت سول سادہ وردی میں ایجنسیوں کے اہلکار بیھٹے ہوئے ہوتے ہیں جوکہ اسٹوڈنٹس پر نظر رکھ رہے ہوتے ہیں۔ جبکہ ان تمام حالات میں حکومت اور شہری حقوق کے نام پر سیاست کرنے والے پارلیمانی سیاسی جماعتوں و لیڈروں کی خاموشی ایک اہم سوالیہ نشان ہے !















