ہمگام کالم : گلدان میں رکھے ہر پھول کی اپنی ہی فطرت و حیثیت ہوتی ہے گو کہ ہر انسان ان پھولوں کی فطرت و حیثیت سے واقف نہیں ہوتا لیکن ظاہری شکل و شباہت انھیں متاثر کرتی ہے اور ہر ظاہری ادا میں ایک باطنی خوبصورتی بھی چھپی ہوتی ہے جو نظروں سے ہمیشہ اوجھل ہی رہتی ہے جسے صرف کچھ ہی لوگ جان سکتے ہیں جو اس علم سے واقف ہو جو صلاحیتوں و خاصیتوں سے واقف ہوتے ہیں پھول کی فطرت خوشبو پھیلانے کے ساتھ ہی خوبصورتی ہے جو انسان کے آنکھوں کو خیرہ کرتی ہے یہ خوبصورتی صرف پھولوں تک محدود نہیں انسان بھی پھول ہی کہلاتے ہیں جو اپنی جداگانہ صلاحیتوں کی وجہ سے وہ عظیم کارنامے سرانجام دیتے ہیں جو بعد میں علامتی کردار بن کر قوم و وطن کی پہچان بنتے ہیں یہی ہیں وہ لوگ جو کہ ایک قوم کے سرمایہ ہوتے ہیں اور انکے کردار و عمل کی خوشبو ہر سو بکھر جاتی ہیں ہر پھول کی طرح ہر ایک انسان کی اپنی ہی خاصیت ہوتی ہیں اور انھی خاصیتوں کی بدولت وہ دوسرے سے جداگانہ حیثیت کا مالک ہوتا ہے اور پھر خاص کر کسی بڑے منزل کی تلاش میں نکلنے والے یا اپنی جان دینے والے بڑے حیثیت کے مالک قرار پاتے ہیں اسی طرح ہمارے بلوچ معاشرے میں ایسے پھولوں کی کمی نہیں جو اپنی نازک طبعیت کے ساتھ ہر موسم و ماحول میں رہ کر اپنی وجود کو برقرار رکھنے کی تگ و دو کرتے ہیں سیاسی میدان سے لیکر جنگ تک کا سفر وہ بڑی بہادری کے ساتھ طے کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ایسے ہی ہزاروں لوگوں میں ایک نوجوان شہید عبدالرسول بنگلزئی بھی تھا جو زمانہ طالب علمی میں بی ایس او سے منسلک رہا بی ایس او کے سینئر وائس چئیرمین ڈاکٹر اللہ نظر جو کہ پارلیمانی طرز سیاست سے خائف ہوکر کر علیحدہ گروپ کی صورت میں سامنے آیا جو وطن کی آزادی کا بیڑہ اٹھانے کی ذمہ داری لی تھی وہ اسی گروپ سے منسلک ہوا اور پولی ٹیکنیک کالج میں پڑھتا رہا اور ساتھ ساتھ وطن کی آزادی کا بیڑہ بھی اپنے کندھوں پر اٹھا کر آزادی کے لیے دن رات ایک کرتا رہا شہید حکیم شہید کریم شہید سہراب شہید رحمت شاہین کے قریبی ساتھیوں میں رہنے والا یہ نوجوان بھی اپنا کردار ادا کرتا رہا. شہید رحمت شاہین کے قربت میں رہنے کی وجہ سے وہ بلوچ لبریشن آرمی سے منسلک ہوا اور شہید رحمت شاہین و دیگر جانثاروں کے ساتھ اپنے خاموش طبعیت کے ساتھ اپنے کندھوں پر قومی آزادی کا بوجھ لے کر میدان جنگ میں اپنا کردار ادا کرتا رہا. رحمت شاہین مچھ شہر میں اپنے قومی ذمہ داریاں نبھاتا رہا اور شہید رسول جو کہ گھر بار چلانے کے لیے اپنے دکان میں بیٹھا کپڑے سیتا رہا تاکہ گھر کو چلا سکے اور رات کی تاریکی میں وہ دشمن پر حملہ آور ہو کر مختلف کاروائیوں میں اپنے فرائض انجام دیتا رہا وہ کم گو تھا لیکن جب کسی مسلئے پر اختلافی نقطہ سامنے آتا تو وہ شائستگی کے ساتھ اپنے موقف پر ڈٹ جاتا. 2005 میں وہ مسلح جہد آزادی کا ہمسفر بنا تھا اور کوئٹہ نیٹ ورک میں اپنے قومی ذمہ داریاں انجام دے رہا تھا وہ ہر دن کسی کام کی تلاش کرکے دشمن کو نقصان پہنچانے کا پلان لے آتا وہ بہادری کے ساتھ سمجھ داری سے لیس تھا وہ وطن کی محبت سے اس حد تک سرشار تھا کہ تنظیمی کام کی ذمہ داریوں کے بعد اسے اپنے گھر بال کی فکر نہیں رہتی وہ گھر بار یا کسی ذاتی کام کے حوالے سے ضرور دوستوں سے مشورہ کرتا کہ ایسا کوئی کام اس سے سرزد نہ ہو جس سے قومی فرض میں اس سے کوتاہی ہو یا کہ وہ کام قومی فرض کے لیے رکاوٹ بنے وہ سمجھ چکے تھے کہ آزادی کے راہ پر نکلتے ہی گھر بار مال دولت زندگی کے تمام خواہشات کسی جگہ دفن ہونگے تب وطن کی آزادی کے لیے ایک فرض شناس سرمچار کہلانے کے مستحق ہونگے کیونکہ آزادی کے تقاضے انتہائی سخت ہوتے ہیں جو آپ کو زندگی کے ہر حسین لمحے سے دور کرکے آپکو عظیم مقصد و عظمت کی طرف لے جاتے ہیں جہاں پر دنیاوی زندگی اس وقت آپکو حسین نظر آئے گی جب آپ آزاد وطن میں سانس لے سکیں گے جہاں آپ اپنی تاریخ ثقافت و زبان سے موبوط ہو کر دنیا کے سامنے اپنی علیحدہ شناخت سے روبرو ہونگے جہاں آپکی حسرتیں پوری ہوتی دکھائی دیں گے جہاں آپ آزادانہ اپنے خیالات کا اظہار کر سکیں گے تب آپ زندگی کی حسن سے واقف ہونگے نہ کہ غلامی کی زندگی میں آپ مردہ ضمیر کے ساتھ زندہ رہ سکتے ہیں لیکن زندہ ضمیر کے ساتھ آپ زندہ نہیں رہ سکتے اگر آپ کا ضمیر زندہ رہا تو آپ آزادی کے پر خار رستے کے ہمسفر ساتھی ہونگے وہ زندہ ضمیر کے ساتھ وطن کی آزادی کے لیے پرکھٹن راستے کا انتخاب کرکے اپنی ذمہ داریاں نبھا رہا تھا. وہ اور شہید رحمت شاہین کئی تنظیمی کاموں میں ایک ساتھ رہے تھے شہید رحمت شاہین کی ذمہ داریاں زیادہ تر مچھ و بولان سے وابستہ تھے جبکہ شہید عبدالرسول کوئٹہ نیٹ ورک سے منسلک تھے شہید عبدالرسول اپنے قومی فرائض جوان مردی کے ساتھ انجام دیتے تھے وہ کئی محاذوں کو کامیابی سے سر کی تھی اس نے دشمن پر کئی جانثارانہ حملہ کر چکے تھے اور کامیابی سے لوٹے تھے وقت کی دھار کے ساتھ وہ بھی دوڑتا رہا اسکے قریبی ساتھی شہید رحمت شاہین دشمن کے عقوبت خانوں میں تھے وہ دشمن کی عقوبت خانوں میں دکھ و تکلیف سے دن گزار رہے تھے لیکن رسول بنگلزئی دلیری کے ساتھ اپنے محاذ پر اپنی ذمہ داریاں نبھاتا رہا کچھ مہینے کے بعد شہید رحمت شاہین بھی سبی جیل منتقل ہو چکا تھا بعد میں شہید رحمت شاہین ضمانت پر رہا ہو کر واپس گلزمین کی دفاع میں پہلے سے زیادہ مستحکم دکھائی دیتا رہا اور شہید رحمت شاہین وعبدالرسول بنگلزئی مستحکم ارادوں کے ساتھ آزادی کی جنگ میں اپنا حصہ خلوص نیت کے ساتھ ڈالتے رہے. اس بیچ حالات کی ناسازگاری کی وجہ سے ان سے رابطہ منقطع ہوا کچھ وقت کے بعد جب رابطہ بحال ہوا تو وہ بی ایل ایف کے ساتھیوں سے قربت رکھتے تھے اور انکے ساتھ اپنے قومی ذمہ داریاں نبھاتے رہے. وہ مخلص ساتھی تھے وطن سے اسکی محبت محبوبہ جیسا ہی تھا وہ وطن کے عشق میں طالب علمی کے زمانے میں گرفتار ہوچکے تھے اور اپنی شہادت تک اپنے وطن سے محبت کی لاج رکھتے رہے وہ شہید رحمت شاہین کے ساتھ کچی سے آتے ہوئے ڈھاڈر کے مقام پر 12 مارچ 2011 کو خفیہ اداروں کے ہاتھوں اغوا ہوئے وہ دشمن کے مدمقابل زندان میں انکے ظلم و ستم کا مقابلہ کرتے رہے شہید رحمت کی لاش 1 اپریل کو برآمد ہوئی جبکہ شہید رسول بنگلزئی دشمن کے ظلم و ستم سہتے رہے اور 13 جولائی 2011 کو اسکی لاش اسپلنجی سے برآمد ہوئی جسے گولی مار کر شہید کیا گیا تھا اسکے بدن پر شدید تشدد کے نشانات تھے وطن کی محبت میں گرفتار ایک اور محبوب اپنی وطن کی مٹی کا ہو کر رہ گیا اور اسکے کارناموں کی خوشبو گلزمین کے فضا میں ہر سو پھیل گئی جسکی خوشبو تا ابد محسوس ہوتی رہے گی جو وطن کا قرض ادا کرکے امر ہو گئے .