چهارشنبه, مارچ 11, 2026
Homeخبریںشمالی وزیرستانPTMکارکنوں پرفائرنگ4افرادشہید43زخمی25گرفتار

شمالی وزیرستانPTMکارکنوں پرفائرنگ4افرادشہید43زخمی25گرفتار

میران شاہ(ہمگام نیوز) نماہندہ ‘ہمگام’ کے مطابق آج میران شاہ میں پی ٹی ایم کارکنوں اور پی ٹی ایم رہنما محسن داوڑ اور علی وزیر کی طرف سے دھرنے کیلئے پرامن قافلے کی صورت میں ان کے ساتھیوں نے میران شاہ کے علاقے بویا میں پرامن مظاہرہ کرتے ہوئے پشتون قوم کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف نعرہ لگارہے رہے تھے۔لیکن قابض پاکستان کے بد معاش ریاستی حمایت یافتہ ‘گڈ طالبان’ نے فائرنگ کی ،جس کے نتیجے میں ممبر اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر سمیت 43 کارکن زخمی ،زخمیوں میں بعض کی حالت شدید نازک بتائی جارہی ہیں۔اور 4 افراد شہید ہوگئے ہیں۔اور 25 کے قریب پرامن مظاہرین کو حراست میں لینے کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔اور یہ بھی اطلاعات آرہی ہے کہ شمالی وزیرستان میں قابض پاکستانی فوج نے کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہیں۔بنوں اور ٹانک سے سینکڑوں لوگ زخمیوں کی مدد اور خون عطیہ کرنے کی غرض سے روانہ ہوئے ،لیکن درمیانی راستے میں انھیں فوج کی کرفیو لگانے کے وجہ سے روکا گیا ہیں۔جس سے مزید زخمیوں کی زندگی خطرے میں ہیں۔

، اس دوران فوج کے حمایت یافتہ گڈ طالبان اور پی ٹی ایم کارکنوں میں جھڑپ کے بعد متعدد افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق پی ٹی ایم رہنما محسن داوڑ کو گولی ہاتھ میں لگی ہیں، اس وقت میران شاہ کے علاقے بویا میں موجود ہیں، محسن داوڑ نے پرامن مظاہرہ میں اپنے قوم کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں بارے نعرہ شروع کر دی جس میں ان کے ساتھی بھی شامل ہو گئے.واضع رہے محسن داوڑ کا تعلق شمالی وزیرستان سے ہے اور وہ 2018 کے الیکشن میں آزاد حیثیت میں ایم این اے منتخب ہوئے تھے ،اور انہوں نے کسی بھی جماعت میں شمولیت اختیار نہیں کی اور وہ پاکستان اور ریاستی اداروں کے مظالم کے خلاف کئی بار پارلیمنٹ اور سوشل میڈیا خصوصا ٹوئیٹر پر صدائے حق بلند کی ہے۔اس سے قبل ٹویٹر پر رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے اپنے جزبہ حب الوطنی و قوم دوستی بارے ٹوئیٹر بیان میں کہا تھا کہ جغرافیہ بدلتے ہے، قومیں نہیں بدلتیں، میں افغان تھا، افغان ہوں اور افغان رہوں گا۔ پی ٹی ایم رہنما ارمان لونی کی بہیمانہ موت پاکستانی فورسز حوالے سے بھی محسن داوڑ نےٹوئیٹ کرنے پر افغان صدر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستانی ریاست نے ارمان لونی کے ریاستی قتل کو اپنا جرم سمجھنے کی بجائے پی ٹی ایم کے کارکنوں کو گرفتار کرنا شروع کر دیا ہیں۔یاد رہے آج سے قریبا مہینہ قبل پاکستانی فوج کے ترجمان نے PTM بارے باقاعدہ سرکاری سطح پر پالیسی بیان جاری کرتے ہوئے دھمکی دی تھی،کہ بہت ہوچکا بقول جنرل غفور کے پی ٹی ایم نے’ ریڈ لائن’ کراس کرلی ہے مزید رعایتیں نہیں دی جاسکتی اور ان سے ریاستی طاقت سے نمٹا جائیگا،اور آج پرامن مظاہرین پر پاکستانی فوج کی سرپرستی میں چلنے والے پالتو ‘گڈ طالبان’ کے زریعئے بلا امتیاز فائرنگ کرکے اپنے دھمکی آمیز بیان کے عین مطابق عمل کرکے درجن بھر پشتون نوجوانوں کو ماہ مبارک رمضان کے مہینے میں خون میں نہلا دیا۔جبکہ جلسے کے آرگنائزر ڈاکٹر گل عالم کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔علی وزیر کو فوج نے گرفتار کرکے ٹانک کینٹ لے گئے ہے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز