اسلآم آباد(ہمگام نیوز ڈیسک)ہمگام نیوز ڈیسک کو موصول ہونے والی رپورٹس کے مطابق پاکستان میں حقوقِ انسانی کے کمیشن کے سربراہ ڈاکٹر مہدی حسن نے آج اپنے ایک بیان میں شمالی وزیرستان میں ’فوجی طاقت کے استعمال کے نتیجے میں کم از کم پی ٹی ایم کے تین کارکنوں کی ہلاکت‘ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سے تنظیم اور پاکستان کے سکیورٹی اداروں کے درمیان تناؤ میں مزید اضافہ ہو گا۔
ان کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے ریاست اور قبائلی اضلاع کے رہائشیوں کے درمیان مستقل بنیادوں پر کشیدگی جنم لے سکتی ہے۔
HRCP نے ایم این اے علی وزیر کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوری طور پر ایک پارلیمانی کمیشن قائم کیا جائے جو معاملے کی تحقیقات کر کے حقائق سامنے لائے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پی ٹی ایم ایک برس سے زیادہ عرصے سے قبائلی اضلاع کی مقامی آبادی کے مسائل کو اجاگر کرتی آئی ہے اور یہ خدشات دور کرنے اور مطالبات پورے کرنے کے لیے سنجیدہ کوشش ہونی چاہیے اور یہ کہ ذرائع ابلاغ اور سول سوسائٹی کو قبائلی اضلاع تک آزادانہ رسائی دی جانی چاہیے۔پاکستان میں حقوقِ انسانی کے کمیشن نے خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع شمالی وزیرستان میں پاکستانی فوجیوں کے ہاتھوں پشتون تحفظ موومنٹ کے کارکنوں کی ہلاکت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے معاملے کی تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ کیا ہے۔
ادھر پشتون تحفظ موومنٹ کے تین کارکنوں کی ہلاکت کی تصدیق کے بعد اب پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ اسے علاقے سے پانچ مزید لاشیں بھی ملی ہیں.پی ٹی ایم نے اپنے کارکنوں کی ہلاکت اور جنوبی وزیرستان سے رکن قومی اسمبلی علی وزیر کی فوجی حکام کے ہاتھوں گرفتاری کے خلاف آج سوشل میڈیا پر مہم چلانے کا اعلان کیا ہے جبکہ ہلاکتوں کے خلاف پشاور اور بلوچستان کے کچھ شہروں میں مظاہرے بھی ہوئے ہیں۔علی وزیر کو حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ محسن داوڑ کے بارے میں آطلاعات آرہی ہے کہ وہ روپوش ہیں.


