پنجشنبه, مارچ 12, 2026
Homeخبریںشمالی وزیرستان سے پاکستانی فوج کے مکمل انخلاء تک ہمارا دھرنا جاری...

شمالی وزیرستان سے پاکستانی فوج کے مکمل انخلاء تک ہمارا دھرنا جاری رہے گا:محسن داوڑ

شمالی وزیرستان(ہمگام نیوز ڈیسک ) ہمگام میوز ڈیسک کو موصول ہونے والی رپورٹس کے مطابق پی ٹیم ایم کے رہنما اور ممبر قومی اسمبلی محسن داوڑ نے شمالی وزیرستان سے فوج کے مکمل انخلاء کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ جب تک آپ لوگ (فوج) ہمارے وطن، یعنی علاقوں سے نکل نہیں جاتے، تب تک ہمارا احتجاج جاری رہے گا اور ہم مختلف علاقوں میں مظاہروں کے لیے نکلتے رہیں گے۔ واضع رہے قوم پرست سیاسی رہنما اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے بھی اسی طرح کا مطالبہ کر رکھا ہے۔
شمالی وزیرستان کے ضلعی ہیڈ کوارٹر میران شاہ میں پشتون تحفظ موومنٹ کا احتجاجی دھرنا بدھ کو تیسرے روز بھی جاری رہا۔ تحریک کے مرکزی رہنما اور ممبر قومی اسمبلی محسن داوڑ خود مظاہرین کی قیادت کر رہے ہیں۔اس کے جواب میں صوبائی وزیرِ اطلاعات شوکت یوسفزئی نے بدھ کو ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ یہ کیسا مطالبہ ہے؟ بقول ان کے کیا فوج پاکستان کی نہیں ہے؟ وہ کیسے ملک کی سرحدوں کی حفاظت نہ کرے۔ یاد رہے کچھ دن قبل شمالی وزیستان میں ہونے والی پی ٹی ایم کے پرامن ریلیوں پر پاکستانی فوج کی جانب سے فائرنگ کے چار دن گزرنے کے بعد خیبر پختونخوا حکومت کے وزیر اطلاعات نے پہلی بار صوبائی حکومت کے جانب سے اس واقع میں پاکستانی فورسز اور وفاقی حکومت کی حمایت کرتے ہوئے فوج اور دیگر سیکورٹی اداروں کےخلاف پی ٹی ایم اور حزب اختلاف میں شامل جماعتوں اور ان کے رہنماؤں کی تنقید کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ جن ، جن لوگوں نے پاکستانی فورسز پر حملہ کیا ہے ان کےخلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائیگی۔ چاہیے اس میں منتخب ممبران اسمبلی کیوں شامل نہ ہو۔ جبکہ شمالی وزیرستان سے آگے دتہ خیل اور شوال تک سڑک ہر قسم کی آمدروفت کیلئے بند ہے جبکہ تحصیل دتہ خیل میں ابھی تک کرفیو نافذ ہے۔ ضلع بھر میں مواصلاتی نظام ابھی تک معطل ہے۔ تاہم، جزوی طور پر معاشی اور کاروباری سرگرمیاں بحال ہوئی ہیں۔

یاد رہے منگل کی رات ایک آڈیو پیغام میں محسن داوڑ نے کہا ہے کہ حکومت نے اتمان زئی وزیر قبیلے کے سرکردہ مشران پر مشتمل ایک جرگے کے ذریعے مذاکرات اور مصالحت کیلئے رابطہ کیا ہے۔ مگر ان کا موقف ہے کہ جب تک تحریک کے دیگر رہنما یہاں نہیں پہنچ پاتے تب تک وہ اس بارے میں اکیلے کوئی فیصلہ نہیں کر سکتے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز