چهارشنبه, مارچ 11, 2026
Homeخبریںکابل،وزارت دفاع دفتر کے قریب کار بم دھماکہ 35بچوں سیمت100 افراد زخمی

کابل،وزارت دفاع دفتر کے قریب کار بم دھماکہ 35بچوں سیمت100 افراد زخمی

کابل(ہمگام نیوز ڈیسک) ہمگام مانیٹرنگ ڈیسک رپورٹ کے مطابق افغان وزارت دفاع کی عمارت کے قریب بم ٹرک میں نصب تھا جو زوردار دھماکے سے پھٹ گیا.
تفصیلات کے مطابق افغانستان کے دارلحکومت کابل میں وزارت دفاع کی عمارت کے قریب بم حملے کے نتیجہ میں اب تک 35 بچوں سمیت 100 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، جبکہ افغان فورسز اور حملہ آوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی جاری ہے۔سرکاری حکام کے مطابق کم سے کم تین حملہ آور دھماکے کے دوران وزارت دفاع کے شعبہ انجینئرنگ میں گھس گئے، جہاں افغان سیکورٹی فورسز کے ساتھ ان کی فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔

وزارت داخلہ کے ترجمان نصرت رحیمی نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا کہ صبح نو بجے کے قریب گلبہار ٹاور کے قریب وزارت دفاع کے لاجسٹک اینڈ انجینئیرنگ ڈیپارٹمنٹ کے قریب کار بم دھماکہ ہوا اور پھر خودکش حملہ آور ایک زیر تعمیر عمارت کے اندر داخل ہو گئے جن کا پولیس کے ساتھ تصادم جاری ہے۔۔وزارت صحت کے ترجمان وحید اللہ میار کے مطابق دھماکے میں 35 بچوں سمیت 100افراد زخمی ہوئے ہیں، اب تک ایک شہری کی لاش ہسپتال منتقل کی گئی ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے کابل میں نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ‘دھماکہ اتنا شدید تھا کہ ان کے دفتر کی عمارت بھی لرز اٹھی، اچانک فائرنگ کی آوازیں آنے لگیں اور ایمبولینسز کے سائرن گونجنے لگے۔’

حکام کے مطابق جائے وقوعہ کے قریب متعدد سرکاری اور غیر سرکاری تنصیبات اور دفاتر ہیں، افغان فٹ بال فیڈریشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ دھماکے میں ان کے صدر سمیت متعدد اراکین بھی زخمی ہوئے ہیں۔

کابل میں دھماکہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا ساتواں دور قطر کے دارلحکومت دوحہ میں جاری ہے، امریکہ کے خصوصی ایلچی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد بھی مذاکراتی عمل میں شریک ہیں جس کا مقصد افغانستان میں 18 سال سے جاری جنگ کا خاتمہ ہے۔دوحہ مذاکرات میں 4 نکات زیر بحث ہیں جن میں نمبر۔1 افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلا، نمبر 2مکمل جنگ بندی، نمبر 3 بین الافغان مذاکرات اور نمبر 4 انسداد دہشت گردی شامل ہیں۔

امریکی خصوصی مزاکرات کار زلمے خلیل زاد متعدد بار طالبان سے جنگ بندی کی اپیل کر چکے ہیں تاہم طالبان کا یہ موقف رہا ہے کہ جب تک امریکہ اور اس کی اتحادی افواج افغانستان سے نکل نہیں جاتیں اس وقت تک جنگ بندی نا ممکن ہے۔

طالبان نے کابل حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے، ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق اس کارروائی میں وزارت دفاع کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ جبکہ ‘متعدد طالبان جنگجو، شہری اور سرکاری ملازمین زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔’

یہ بھی پڑھیں

فیچرز