لندن (ہمگام نیوز ڈیسک) ہمگام مانیٹرنگ نیوز ڈیسک رپورٹس کے مطابق برطانیہ کی رائل میرینز نے گزشتہ روز ایران کے سپر آئل ٹینکر کو جبل الطارق میں تحویل میں لے لیا ہے ۔ جہاز کی دستاویزات کے مطابق خام تیل پڑوسی ملک عراق سے لیا گیا، جبکہ ٹریکنگ ڈیٹا سے معلوم ہوا کہ یہ تیل ایران کی بندرگاہ پر لوڈ ہوا تھا اور مشتبہ طور پر یعنی چھپکے سے شام لے جایا جارہا تھا۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب یورپی یونین، ایران کی جانب سے 2015 کے جوہری معاہدے میں افزودہ یورینیم کی حد سے تجاوز کرنے کے اعلان کے بعد ردعمل کے لیے سوچ بچار کر رہی ہے۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان عباس موسوی نے تسلیم کیا تھا کہ خام تیل کا کارگو ایران سے چلا تھا۔ ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر نے جبل الطارق میں رائل میرینز کی جانب سے تہران کا آئل ٹینکر تحویل میں ردعمل میں برطانوی جہاز قبضے میں لینے کی دھمکی دے دی۔ پاسداران انقلاب کے کمانڈر محسن رضائی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ٹویٹر’ پر کہا کہ ‘اگر برطانیہ، ایرانی آئل ٹینکر کو آزاد نہیں کرتا تو یہ ایرانی حکام کی ذمہ داری ہے کہ وہ برطانیہ کا آئل ٹینکر قبضے میں لے لیں۔
‘جبل الطارق کی حکومت نے کہا کہ سپر ٹینکر ‘گریس ون’ کے عملے سے مجرم کے طور پر نہیں بلکہ شاہدین کے طور پر انٹرویو کیا گیا، تاکہ کارگو اور اس کی حتمی منزل سے متعلق حقائق سامنے لائے جاسکیں۔
واضع رہے برطانیہ کی رائل میرینز نے گزشتہ روز ایران کے سپر ٹینکر کو جبل الطارق میں تحویل میں لے لیا تھا۔امریکا نے گزشتہ سال ایران کے 2015 میں عالمی طاقتوں کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے سے یکطرفہ طور پر علیحدگی اختیار کرتے ہوئے ایران پر دوبارہ سخت اقتصادی پابندیاں عائد کر دی تھیں جس کے بعد یورپی ممالک، معاہدے سے جڑے رہنے کی خواہش کے باوجود تہران سے معاملات میں بہت احتیاط سے کام لے رہے ہیں۔
واشنگٹن نے ایران کی تیل کی برآمدات مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے گزشتہ دو ماہ کے دوران تہران پر پابندیوں میں مزید اضافہ کیا ہے، جس کے بعد اس وقت ایران شدید معاشی اور سیاسی بحران کا شکار ہے۔پاسداران انقلاب کے کمانڈر محسن رضائی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ٹویٹر’ پر کہا کہ ‘اگر برطانیہ، ایرانی آئل ٹینکر کو آزاد نہیں کرتا تو یہ ایرانی حکام کی ذمہ داری ہے کہ وہ برطانیہ کا آئل ٹینکر قبضے میں لے لیں۔


