کابل (ہمگام نیوز ڈیسک) ہمگام نیوزڈیسک کی موصولہ رپورٹس کے مطابق وزارت داخلہ کے ترجمان نصرت رحیمی کا کہنا ہے کہ گرین ٹرینڈ پارٹی کے ہیڈ کوارٹر پر ہونے والے حملے میں 50 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔
انہوں نے بتایا کہ ‘حملہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا جس میں سیکیورٹی فورسز اور حملہ آوروں کے درمیان گولیوں کا تبادلہ جاری رہا’۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ‘واقعے میں متعدد حملہ آور ہلاک ہوئے’۔نصرت رحیمی کا کہنا تھا کہ ‘حملہ آوروں کا نشانہ انتخابات میں نائب صدر کے امیدوار اور خفیہ ادارے کے سابق سربراہ امراللہ صالح تھے جنہیں عمارت سے نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے جبکہ دیگر 85 شہریوں کو بھی اندر سے باحفاظت نکال لیا گیا ہے۔
حملے کی فوری طور پر کسی بھی جانب سے ذمہ داری قبول نہیں کی گئی تاہم طالبان باغی اور داعش کابل میں سرگرم ہیں اور وہ ماضی میں بھی حملے کرچکے ہیں۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز افغانستان میں صدارتی مہم کا آغاز ہوا تھا جبکہ ووٹنگ کا عمل ستمبر کے آخر میں ہوگا۔
حملے کے بعد افغان صدر اشرف غنی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے بتایا امراللہ صالح حملے میں محفوظ رہے۔ پولیس سربراہ کے ترجمان فردوس فرامرز کا کہنا تھا کہ حملے کا آغاز گاڑی میں سوار خود کش دھماکے سے ہوا جس کے بعد حملہ آور عمارت میں گھس آئے اور سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ کی۔دھماکا اتنا شدید تھا کہ اس کی آواز پورے کابل میں سنی گئی۔
My brother, true son of the Afghan soil and first VP candidate of my electoral team, @AmrullahSaleh2 has survived a complex attack by enemies of the state. We are relieved and thank the almighty that attack has failed.
— Ashraf Ghani (@ashrafghani) July 28, 2019


