کوئٹہ (ہمگام نیوز) بلوچستان کے مختلف علاقوں سے دوران آپریشن، گھروں پر چھاپوں، تعلیمی اداروں اور دوران سفر پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری طور پر اغوا بلوچوں کی بازیابی کیلئے قائم بھوک ہڑتالی کیمپ کو 3684 دن مکمل ہو گئے.
وائس فار بلوچ مسنگ پرسن بلوچستان میں قائم کی گئی ایک ایسی تنظیم ہے جو بلوچستان کے مختلف علاقوں سے غیر قانونی طور پر حراست میں لیے گئے بلوچوں کی بازیابی کیلئے گزشتہ ایک دہائی سے سراپا احتجاج ہے.
وائس فار بلوچ مسنگ پرسن کے وائس چیئرمین جو ایک بینک ملازم تھے انکا جوان سال بیٹا جلیل ریکی بلوچ کو پاکستانی فورسز نے 2011 کو کوئٹہ سے جبری طور پر اغوا کرکے انکی مسخ شدہ لاش ہمراہ ٹھیکیدار یونس بلوچ کے بلوچستان سے متصل سرحدی علاقے مند میں پھینک دیا تھا.
ماما قدیر بلوچ کا کہنا ہے کہ بیٹے کی جدائی کے جس اذیت سے میں گزرا ہوں میں نہیں چاہتا کہ باقی ماں، باپ بہنیں اسی اذیت ناک لمحے سے گزریں اسی لیے لاپتہ بلوچوں کیلئے جدوجہد آخری بلوچ فرزند کی بازیابی تک جاری رہے گی.


