ہمگام کالم : ہم اس پر بحث کیوں کر رہے ہیں کہ بلوچستان یونیورسٹی میں انتظامیہ کی گٹھ جوڑ سے بلوچ طالبات کو جنسی ہراساں کرنے کے پے در پے واقعات رونما ہو رہے ہیں ان میں ملوث مجرمین کو کیا سزا ملنی چاہیے یا نہیں ۔۔۔؟
میں ذاتی طور پر بلوچستان کے تدریسی اداروں میں طالبات کے خلاف سازش کوئی انفرادی، غیرارادی عمل ماننے کو تیار نہیں نہ میں کسی ایک فرد کو سزا دلوانے سے مستقبل میں ایسی حرکات کے خاتمے کی ریاستی دعووں پر یقین رکھتا ہوں۔ بلوچستان میں تعلیمی اداروں کو جان بوجھ کر اپاہج کیا جارہا ہے اور اس مکروہ عمل کے اصل مہرے تو جی ایچ کیوسے تعلق رکھتے ہیں۔
تیس ہزار بلوچوں کے اغوا کار ریاستی درندہ صفت آئی ایس آئی، ایم آئی اور دیگر اداروں کو کب سزا ملی کہ اب بلوچ طالبات کو جنسی ہراساں کرنے والے بے لگام پنجابی پیرول پر کام کرنے والوں کو سزا ملے گی؟
بلوچستان سے دریافت ہونے والی کونسی اجتماعی قبر سے ملنے والی لاش کے باقیات کی جانچ کی گئی اور کونسی مسخ لاش کا ڈی این اے ہوا؟ کونسے بلوچ چرواہے، دہقان کی جھگی کو آگ لگانے والوں کا احتساب ہوا؟
اصل سوال یہ ہے بلوچ قوم کے مستقبل کے معماروں کے خلاف یہ گھناونا کھیل کیوں؟ اس کے پیچھے کون ملوث ہے ، بلوچستان کے تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانے کے پیچھے محرکات کیا ہوسکتے ہیں؟ دشمن ہماری ماؤں بہنوں کو خاص طور پر کیوں نشانہ بنارہاہے؟
ہمارا دشمن کافی شاطر ہے وہ یونیورسٹی کو تالہ لگا کر براہ راست اسے بند کرکے بلوچستان سے متوقع رد عمل سے بچنا چاہتا ہے، وہ بلوچ معاشرے کی حساسیت سے بخوبی واقف ہے اس لیے وہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بلوچ معاشرے میں عورت کی عزت پر ہاتھ ڈلوا کر ہرگھر کی بلوچ ماں، باپ، بھائی اور خاوند کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ تمھارےتعلیمی ادارے تمھاری عورتوں کے لیے محفوظ نہیں ہیں لہذا انہیں پڑھانے کے لئے گھر سے باہر نہ بھیجو۔ جس طرح پنجابی فوج اور اداروں نے افغانستان کی بچیوں کے لئے جدید تعلیم کو کفر قرار دے کر ان کے لیے پڑھنے کے دروازے بند کردیئے تھے اسی طرح بلوچ طالبات کو بھی رفتہ رفتہ تعلیمی سرگرمیاں معطل کرانے پر مجبور کیا جارہا ہے۔
اگر آپ اپنے دماغ کو ٹٹول کر سوچیں گے تو آپ کی نظروں کے سامنے بلوچ آزادی پسند قیادت کی وہ تشویشناک بیانات گزریں گے جب فوجی آمر جنرل مشرف نے اقتدار پر براجمان ہوتے ہی کوہلو، خضدار، ڈیرہ بگٹی اور گوادر میں فوجی چھاؤنیوں کی تعمیر کا اعلان کیا تھا۔ ان فوجی چھاؤنیوں کا بنیادی مقاصد بھی یہی تھا کہ بلوچستان کو عملا ایک فوجی حصار میں گھیرا جائے ، چپھے چپھے پر فوجی چھاؤنیوں کی موجودگی سے وہ بڑے پیمانے پر جبری طور پر اغوا کئے گئے۔ بلوچ اسیران کو بآسانی ایک قلی کیمپ سے دوسرے تک منتقل کرسکیں۔ اس کے علاوہ پورے بلوچستان میں سڑکوں کا جال بچھایا جائے تاکہ فوجی نقل و حمل میں آسانی رہے۔ مشرف دور میں اعلان کردہ فوجی چھاؤنیوں کو بالکل بھی موخر نہیں کیا گیا بس ان کے قیام کے لیے چین سے پیسے بٹورے گئے اور سی پیک کے نام پر وہی عزائم کی تکمیل ہورہی ہے ، اس بلوچ کش منصوبے کو ترقی جیسے خوشنما نعرے میں لپیٹ کر بلوچوں کو پیش کیا جارہا ہے۔ پنجاب کا بلوچ کش منصوبہ تو وہی ہے پر نام بدل دیا گیا ہے۔ کل صرف کوہلو، ڈیرہ بگٹی، خضدار اور گوادر میں چھاؤنیوں کی تعمیر پر بات ہورہی تھی آج پورے بلوچستان کو چھاؤنی میں تبدیل کردیا گیا ہے مزے کی بات یہ ہے کہ کل فوجی چھاؤنیوں کی تعمیر پر شور مچانے والے آج پورے بلوچستان کو چھاونی میں تبدیل ہوتا دیکھ کر نہ صرف خاموش ہیں بلکہ سی پیک (فوجی چھاونی ) کی تکمیل میں افرادی قوت مہیا کرنے کی حامی بھی بھر رہے ہیں۔ شہید نواب اکبر بگٹی کے بغل میں کھڑے ہوکر چھاؤنیوں کے خلاف دھواں دار تقاریر کرنے والے اب سی پیک جو بلوچستان میں ریاستی اداروں اور فوج کے لیے سڑکوں کا جال بچھانے جارہی ہے اس کا حصہ بن کر قابض ریاست کے لیے بی ٹیم کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
گو کہ بلوچ مضبوط مزاحمت سے پنجابی قابض فوج اپنی ان فوجی منصوبوں کو اب تک عملی جامع نہ پہنا سکی لیکن اس کا ایک متبادل ڈھونڈنے کا بندوبست ضرور کیا وہ یہ کہ بڑی چھاؤنیوں کی تعمیر میں چونکہ لاگت زیادہ آتی ہے لہذا معاشی بوجھ سے بچنے کے لیے اور ان چھاؤنیوں کو دنیا کی نظروںں سے اوجھل رکھنے کے لیے ریاستی اداروں نے بلوچستان کے ہر ضلعے،تحصیل اور حلقے کی سطح پر چھوٹے پیمانے کی چھاؤنیاں بنانا شروع کردیں اس کے علاوہ پیسہ اور لالچ دے کر کچھ مقامی سطح کے بیروزگار اور جرائم پیشہ افراد کو بطور ریاستی آلہ کار بھرتی کرنا شروع کردیا۔ ان موبائل فوجی چھاؤنیوں کے قیام نے پورے بلوچ سماج کو یرغمال بنا کر رکھ دیا ہے۔
اسی منصوبے کے تحت پاکستانی فوج نے بلوچستان کے تمام تعلیمی اداروں میں اپنی موجودگی یقینی بنائی تاکہ طلباء ایک تو ڈر اور خوف کے ماحول میں رہیں دوئم یہ کہ ان کو ایک کھلے اور آزاد ماحول میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ہی نہ مل سکے۔اسی تناظر میں اگر جامعہ بلوچستان کو جگی فوجی چھاونی پکارا جائے تو بے جا ن ہوگا کیونکہ ایک فوجی چھاونی میں داخل ہونے کے لئے جن مراحل اور پراسیس سے گزرنا پڑتا ہے بالکل اسی طرز کی چیکنگ اور جانچ پڑتال یہاں بھی ہورہی ہے بلکہ چھاونی سے بھی زیادہ سخت اور پریشان کن حد تک چھان بین ہوتی ہے۔ دنیا میں تعلیمی ادارے پرسکون اور وہاں زیر تعلیم طلبا و طالبات کو ہر طرح کی ذہنی دباؤ سے پاک ماحول میں پڑھنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے لیکن مقبوضہ بلوچستان کے تعلیمی ادارے اذیت کی جگہ اور طلبہ و طالبات کے لیے ذہنی دباؤ کے مراکز کی شکل اختیار کرچکے ہیں۔ یہاں اسٹوڈنٹس اپنے کورس اورامتحانات پر توجہ دینے کی بجائے دن رات ہر لمحہ اپنی حفاظت، عزت اور ناموس کو لیکر ذہنی کوفت کا شکار رہتے ہیں۔ دشمن بھی یہی چاہتا ہے کہ بچے زندگی کا ہر لمحہ ڈر ، ڈر کر گزاریں اور پھر تھک ہار کر اور بیزار ہوکر تعلیم کو خیرباد کہہ دیں۔
جس طرح کسی درخت کو تباہ کرنے کے لیے اس کی جڑ کو کاٹا جاتا ہے بالکل اسی طرح کسی معاشرے اور قوم کو پیچھے دھکیلنا ھو تو اس کے نسل کو تعلیم جیسی زیور سے محروم کردو۔ آج بلوچستان میں تعلیمی اداروں پر قدغن لگانے کے وسیع منصوبے پر عمل کیا جارہا ہے۔ بلوچ طلبہ پر پنجاب کی مختلف جامعات پر ریاستی حمایت یافتہ غنڈوں کے ذریعے حملے اور انہیں امتحانات دینے سے روکنا ہو یا بی ایم سی میں بلوچ طالبات کے ہاسٹل کی بندش یہ سب سوچھےسمجھے ریاستی حربے و منظم منصوبے ہیں۔
قابض ریاست نے بلوچ نوجوانوں کے لئے کھیل، معیشت، صنعت و حرفت، سفارتی، سیاسی اور دیگر دروازے بند کردیئے تھے اب تعلیمی اداروں سے بھی انہیں بیدخل کرنے کا ریاستی منصوبہ عروج پر ہے۔
رونے دھونے اور شغان بازیوں یا بھڑک بازیوں سے دشمن باز آجائےگا یا پارلیمنٹ میں تھیکی بحث مباحثوں سے دشمن رام ہوجائےگا،مجھے نہیں لگتا کہ ایسا کرنے سے ہم پنجاب کو باز رکھنے میں کامیاب ہوپائیں گے۔
ہمیں مسئلے کی تہہ تک جانا ہوگا، بلوچستان اور پاکستان کا رشتہ قابض اور مقبوض کا ہے۔ اسی رشتے کی نوعیت کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں پالیسیاں مرتب کرنا ہونگی۔ بلوچ اپنی شناخت چاہتا ہے اور پنجاب ہماری شناخت ہمیشہ کے لئے مٹانا چاہتاہے۔ اب اس خوش فہمی میں رہنا کہ پنجابی فوج بلوچوں کو پڑھنے دیگی یا پارلیمنٹ کی سیٹ ہمیں قومی شناخت دیگی تو ایسی سوچ رکھنے والے خودفریبی کا شکار ہیں کیونکہ جو دشمن آپ کے جان کے در پہ ہو وہ بھلا کیسے چاہےگا کہ آپ پڑھ لکھ کر اپنی قوم اور ملک (بلوچستان) کے لیے کچھ کریں۔
تو پھر حل کیا ہے؟
کسی کے پاس بھی اللہ دین کا چراغ نہیں کہ گھماتے ہی بلوچستان آزاد ہوپائے، نہ ہی یہ چراغ شیخ مجیب الرحمن کے پاس تھی ، اور نہ دیگر مقبوضہ خطوں کے لیڈران کے پاس ، تمام اقوام نے اپنی قومی طاقت کو یکجا کرکے اپنی ، اپنی مملکتیں آزاد کروائیں۔بلوچ ایک غیرت مند قوم ہے لیکن جب یہ غیرت قومی آزادی کے کام نہ آئے تو کس کام کا، بلوچ ایک وفادار قوم ہے لیکن جب ان کی وفا بلوچ سرزمین کے کام نہ آتی تو بےسود، بلوچ ایک جنگجو قوم ہے لیکن ان کے ہاتھ کی بندوق جب ان کی ماں بہن اور بیٹیوں کی حفاظت نہیں کرسکتا تو اس بندوق کا کیا فائدہ، بلوچ ایک سخت جان قوم ہے لیکن اس سخت جانی کی تعریف کیسے کروں کہ وہ ہندوستان سے بھاگے ہوئے بھگوڑے پنجابی کے سامنے سجدہ ریز ہےجس کی اپنی پوری قومی تاریخ و پہچان ہی طاقت ور کے سامنے سجدہ ریزی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی بلوچ قوم پر بیرونی دشمن حملہ آور ہوا ہے تو بلوچ اپنےتمام آپسی چھوٹے بڑے اختلافات کو بھلا دیتا ہے اور مل جل کر اس بیرونی جلوگیری کے خلاف قومی طاقت کا مظاہرہ کرکے اسے نکال باہرکرتا ہے، آج دشمن نہ صرف ہم پر حملہ آور ہے بلکہ ہماری چادر و چاردیواری کو پامال کرکے اب ہماری قومی غیرت کو للکار چکا ہے اور ہم ٹولیوں، تنظیموں، پارٹیوں میں بٹ کر اپنی قومی طاقت کو یکجا نہیں کر پارہے۔
پہلے پنجابی نے ہماری مملکت چھین لی، پھر قومی طاقت کو تقسیم کیا، پھر فوجی طاقت سے دور دراز علاقوں کے بلوچ عوام کو نشانہ بنایا، پھر اس فوجی جارحیت پر آواز بلند کرنے والے شہری کارکنان کونشانہ بنایا، اب بلوچستان کے تعلیمی اداروں میں طلبہ و طالبات کے لیے دروازے بند کرکے بلوچ قومی شناخت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کی جانب گامزن ہے اور ہم ہیں۔۔۔۔کہ۔۔۔۔۔۔—