کراچی (ہمگام نیوز) آمدہ اطلاعات کے مطابق بانک کریمہ بلوچ کی غائبانہ نماز جنازہ قابض فورسز کی جانب سے کئی رکاوٹوں کے باوجود آج صبح دس بجے عثمان پارک لیاری میں ادا کردی گئی۔
تفصیلات کے مطابق عثمان پارک لیاری میں بانک کریمہ بلوچ کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کردی گئی۔ جبکہ بانک کریمہ بلوچ کی میت ابھی تک قابض پاکستانی فوج کی تحویل میں ہے۔
اس موقع پر ماما قدیر بلوچ نے سوشل میڈیا میں بذریعہ ویڈیو پیغام بتایا کہ ہم کثیر تعداد میں بانک کریمہ بلوچ کی میت وصول کرنے کیلئے کراچی ائیرپورٹ گئے ہوئے تھے مگر ائیرپورٹ پر تعینات رینجرز، فوج و پولیس نے ہمیں اندر جانے کی اجازت نہیں دی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بانک کریمہ بلوچ کی میت خاندان کو حوالے کرنے کی بجائے قابض فورسز نے خاندان کے افراد کو بھی اپنی تحویل میں لے لیا اور زبردستی میت کے ہمراہ تربت کی جانب روانہ ہوگئے۔ ماما قدیر بلوچ کے مطابق بانک کریمہ بلوچ کی میت اور ان کے لواحقین اس وقت فوج کی تحویل میں ہیں۔
ماما قدیر کا مزید کہنا تھا کہ ہم ابھی تک بانک کریمہ بلوچ کے لواحقین سے رابطے میں ہیں مگر انہیں خود بھی معلوم نہیں کہ ہم کہاں ہیں اور قابض پاکستانی فوج ہمیں کہاں لے جارہی ہے۔
اس موقع پر ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ نے کہا کہ ہم پاکستانی قابض فوج کی جانب سے اس غیر انسانی و غیر اخلاقی عمل کو اغواء سمجھتے ہیں اور ہمارے پاس ان الفاظ کے علاوہ اور کوئی الفاظ نہیں کہ بزدل ریاست اور اس کی غیر مہذب بزدل فوج بانُک کریمہ بلوچ کی جسد سے بھی خوف زدہ ہیں۔
ڈاکٹر ماہرنگ نے مزید کہا کہ چونکہ ہم نے میت کے ساتھ تربت اور پھر تمپ جانا تھا لیکن میت اغواء ہونے کے بعد بھی ہم تربت کی جانب روانہ ہونگے تاکہ بانُک کی جسد کو پاکستانی فوج کے قبضے سے بازیاب کرکے قومی اعزاز اور فخر کے ساتھ سپرد گلزمین کریں۔
مقبوضہ بلوچستان کے مختلف علاقوں سے اطلاعات موصول ہورہی ہیں کہ بلوچستان بھر میں موبائل سروس معطل کردی گئی ہے اور لوگوں کو ڈرا کر اور حراساں کرکے جنازے سے دور رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔


