شنبه, مارچ 14, 2026
Homeخبریںبلوچ سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی سوراب زون کا اجلاس 5 رکنی آرگنائزنگ باڈی...

بلوچ سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی سوراب زون کا اجلاس 5 رکنی آرگنائزنگ باڈی تشکیل

سوراب(ہمگام نیوز) بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی سوراب کا 5 رکنی آرگنائزنگ باڈی تشکیل دے دیا گیا اجلاس زیر صدارت زونل آرگنائزر شہزاد کے ڈی منعقد ہوا ہے.

سوراب اجلاس میں مرکزی وائس چیئرمین شبیر بلوچ بطور مہمان خاص اور مرکزی کمیٹی کے رکن یاسر بلوچ اعزازی مہمان شریک ہوئے.

اجلاس میں مرکزی سرکولر سابقہ رپورٹ تنقید برائے تعمیر تنظیمی امور و تجاویز علاقائی و عالمی سیاسی صورتحال اور آئندہ لائحہ پر سیر حاصل بحث کے بعد آئندہ لائحہ عمل میں تنظیمی امور میں بہتری کے لئے متعدد فیصلے لیے گئے۔

جنرل باڈی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وائس چیئرمین شبیر بلوچ نے کہا کہ آج دانستہ طور پر بلوچ قوم کو زبان اور علاقوں کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔کتابی نصابوں میں بلوچ قوم کو مختلف القابات سے نوازنے کے بعد ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بلوچ اور براہوی کو الگ الگ قوم ظاہر کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں مگر تنظیم کے بروقت ردعمل نے ایسی پروپیگنڈوں کو بے نقاب کیا۔

انہوں نے کہا ایک مرتبہ پر ایک ایسا منفی ماحول تیار کیا جارہا ہے جہاں بلوچ اور براہوی کے خود ساختہ تضاد کو پھر ابھارا جاسکے تاکہ تعلیمی اداروں سے ایسی ذہنیت کو پروان دیا جائے جو کہ بلوچ کو زبانوں کی بنیاد پر تقسیم کرے.

اجلاس کے مہمان خاص شبیر بلوچ نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ بلوچ اسٹوڈنٹس ایکش کمیٹی بلوچ راج دوستی کی بنیاد پر بلوچ طلباء کے لیے جدوجہد کرتی آرہی ہے اس کے ساتھ طلباء کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ہمہ وقت بغیر کسی جنسی تفریق نسل ذات و پات اور زبان کے پیش پیش رہی ہے جس کی مثالیں تنظیمی پروگرام میں دیکھنے کو ملتی ہیں۔بلوچ قوم کو زبان اور علاقوں کی بنیاد پر تقسیم کرنے کے خلاف تنظیم نے ہر وقت آواز اٹھائی ہے۔اس کے ساتھ اپنے ممبرز کی تربیت کےلیے کارآمد پالیسیاں ترتیب دی ہیں تاکہ طلباء کو بھی ان تعصبات سے پاک کیا جائے جس کی مثال تنظیم کا مرکزی سہ ماہی تاک نوشت ہے جس میں بلوچی اور براہوی زبان کو یکساں طور پر نمائندگی دی گئی ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تنظیم بلوچ قوم کے زبانوں کو فروغ دینے میں کوشاں ہے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی کمیٹی کے رکن یاسر بلوچ نے کہا کہ سوراب بلوچ سیاست کے حوالے سے ایک تاریخی ضلع رہا ہے، یہاں کے طلباء ہر وقت مختلف موضوعات پر بحث مباحثے کرتے رہتے ہیں مگر کچھ عرصے سے مختلف وجوہات کی بنیاد پر سوراب کا سیاسی ماحول جمود کا شکار بن گیا تھا۔

یاسر بلوچ نے مزید کہا کہ سوراب میں تنظیمی وجود اس بات کو بخوبی ظاہر کرتا ہے کہ بساک بحثیت قومی طلباء تنظیم کے دیگر بلوچ علاقوں کے طرح مرکزی و زونل سطح پر مختلف پروگرامز مرتب کرکے ایک مرتبہ پھر سوراب میں سیاسی ماحول کو فروغ دے رہا ہے ۔

مرکزی کمیٹی کے رکن یاسر بلوچ نے خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ تنظیمی فعالت ہی منفی اور غیر سیاسی ریویوں کے خاتمہ کا نام ہے،کسی معاشرے میں تنظیم کے محترک ہونے کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ سماج میں ہر برے اور غیر ضروری کاموں کی بیخ کنی کرتے ہوئے لوگوں کو سیاست کی جانب راغب کرے تاکہ وہ سماجی فلاح و بہبود کے لیے جدوجہد کرسکیں۔تاریخ شاہد ہے کہ قومی و سماجی فلاح و بہبود کا راز علم و ادب میں موجود ہے اس لیے تنظیمیں علم و شعور کا سہارہ لے کر سماج کو محترک کرتے ہیں۔

سوراب اجلاس میں مختلف ایجنڈوں پر سیر حاصل گفتگو کے بعد آئندہ لائحہ عمل کے ایجنڈے میں نئی آرگنائزنگ باڈی کا قیام عمل میں لایا گیا جس میں آرگنائزر ضیاء بلوچ، ڈپٹی آرگنائزر عاصم بلوچ جبکہ آرگنائزنگ باڈی کے رکن شہزاد بلوچ ، لیاقت اور شہزاد KD منتخب ہوئے۔

نومنتخب زونل آرگنائزنگ باڈی نے سوراب میں تنظیمی فعالیت کا اعادہ کیا کہ زون نووشت اسٹڈی سرکل کا جلد سے جلد اہتمام کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز