جمعه, مارچ 13, 2026
Homeخبریںمارگٹ چخوبی وڈھ میں گرفتار ہونے والے ٹیلی کام کمپنی کے 3...

مارگٹ چخوبی وڈھ میں گرفتار ہونے والے ٹیلی کام کمپنی کے 3 مزدوروں کو اقوام متحدہ یا ریڈ کراس سمیت عالمی اداروں کی ذمہ داری پر رہا کریں گے۔ بی ایل اے

کوئٹہ(ہمگام نیوز) بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان آزاد بلوچ نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ ہمارے سرمچاروں نے 26 جون کو مقبوضہ بلوچستان کے شہر کوئٹہ کے علاقے مارگٹ چخوبی وڈھ میں موبائل ٹاور لگانے والے 6 مزدوروں کو گرفتار کرلیا اور کمپنی کے مشینریز سمیت دیگر آلات کو نظر آتش کیا۔ حراست میں لئے گئے تین مزدور (گل شاہ خان، عبدالعادی اور مہراج) جنکا تعلق کوئٹہ ژوب اور قلعہ سیف اللہ سے تھا کو اسی دن رہا کردیا جبکہ باقی تین (محمد یوسف سکنہ کوئٹہ، امانت علی سکنہ گجرات پنجاب، رحمت اللہ سکنہ قلعہ سیف اللہ) کو مشکوک پا کر ہمارے سرمچار اپنے ساتھ لے گئے جو تاحال بی ایل اے کے حراست میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ بلوچستان میں مختلف ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کو بارہا تنبیہ کی جاچکی ہے کہ وہ سامراجی قوتوں کے توسیع پسندانہ عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں سہولت کار کا کردار ادا نا کریں۔ سامراجی ریاست چین قابض پاکستان کے ساتھ مل کر ٹیلی کام نیٹورکنگ کا جال بچھا کر Huawei سمیت دیگر ٹیلی کام کمپنیوں کو مقبوضہ بلوچ سرزمین پر جاسوسی کیلئے استعمال کررہی ہے، جس میں دیگر Subcon کمپنیاں (Netcom, Exeleron, ZTE) وغیرہ بھی شامل ہیں۔ اور ان تمام منصوبوں کی فنڈنگ یونیورسل سروس فنڈ (Universal Service Fund) کے تحت ایک منظم انجینئرڈ پراجیکٹ کے ذریعے عمل میں لائے جارہے ہیں۔

آزاد بلوچ نے کہا کہ چین پہلے سے ہی مقبوضہ بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں بلوچ قوم کی منشاء کے خلاف اپنے اقتصادی و عسکری عزائم کو ایک حد تک عملی جامہ پہنا چکی ہے، جہاں چائنہ پاکستان اکنامک کاریڈور (CPEC) منصوبے کو بلوچ سرمچاروں سے لاحق خطرات کی وجہ سے چین اور پاکستان بلوچ نسل کشی کیلئے آئے روز نت نئے طریقے آزما رہے ہیں۔ ذکر کردہ ٹیلی کام کمپنیاں پاکستانی فوج کی ایماء پر بلوچستان کے غیر آبادی والے پہاڑی علاقوں میں موبائل ٹاور لگا رہے ہیں جن کی آڑ میں چین اور پاکستان کے مابین بلوچ مزاحمت کاروں کے متعلق خفیہ معلومات کا تبادلہ ہوتا ہے، اور مقبوضہ بلوچستان میں جاری پاکستانی فوج کی جارحیت اور آئے روز نوجوانوں کو اغواء کرنا اسی سازش کی کڑی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ مارگٹ چخوبی وڈھ میں گرفتار ہونے والے مزدور اسی استحصالی منصوبے کا حصہ تھے۔ اس وجہ سے تنظیم یہ فیصلہ کرچکی ہے کہ اگر اقوام متحدہ کے ادارے یا پھر جینوا میں موجود ریڈ کراس کے نمائندوں سمیت دیگر عالمی ادارے 10 روز کے اندر زیر حراست مزدوروں کی ذمہ داری اس شرط پر اٹھاتے ہیں کہ وہ پھر سے ایسے منصوبوں کا حصہ نہیں بنیں گے تو اس صورت میں انہیں رہا کیا جائے گا، وگرنہ بارہا تنبیہ کیے جانے کے باوجود باز نہ آنے کے جرم میں بلوچ قومی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز