پنجشنبه, مارچ 19, 2026
Homeخبریںپنجگور کے تحصیل کیلکور میں پاکستانی فوج کی بربریت کے خلاف تربت...

پنجگور کے تحصیل کیلکور میں پاکستانی فوج کی بربریت کے خلاف تربت پریس کلب میں کیلکور کے عوام کا پریس کانفرنس:

پنجگور (ہمگام نیوز) اطلاعات کے مطابق مقبوضہ بلوچستان کے ضلع پنجگور کے تحصیل کیلکور میں پاکستانی فوج کی بربریت کے خلاف تربت پریس کلب میں کیلکور کے عوام نے پریس کانفرنس منعقد کیا۔

تفصیلات کے مطابق ضلع پنجگور کے تحصیل کیلکور میں پاکستانی فوج نے چار افراد کو آپریشن کے نام پر موقع پر ہی قتل کردیا جبکہ ایک شخص زیر حراست میں بدترین تشدد کی وجہ سے جان کی بازی ہار گیا۔ پاکستانی فوج کے مظالم سے تنگ آکر علاقہ مکینوں نے خواتین ، بچوں اور بوڑھوں کے ساتھ تربت پریس کلب میں اتوار کے روز پریس کانفرنس کی اور قابض ریاست پاکستان کی اصل چہرہ دیکھایا۔

پریس کانفرنس میں رحمت داؤد نے میڈیا کو بتایا کہ پاکستانی فورسز نے ہمارے چار نہتے پیاروں کو بےدردی سے شہید کر دیا ہے اور پیرجان کو فورسز نے حراست میں لے کر شدید تشدد کا نشانہ بنایا جس سے وہ جان کی بازی ہار کر شہید ہوگئے۔

انھوں نے کہا کہ ہمارا جینا ریاستی اداروں نے دوبر کر دیا ہے، ہمارے گھروں کو نظر آتش کردیا گیا ہے۔

ہمیں بتایا جاتا ہے کہ یہ فورسز آپ لوگوں کی حفاظت کے لیے تعینات کیے گیے ہیں، مگر یہ تو ہمیں مار رہے ہیں۔ ہمارے مال مویشیوں کو بھی فائر کرکے مار دیا گیا ہے، ہمارے پانچ اونٹوں کو گولیوں سے مار دیا گیا،ہمارے خواتین کی بے حرمتی کی جاتی ہے، ہمیں سمجھایا جائے کہ کیا یہ کسی محافظ کے اعمال ہو سکتے ہیں؟

اس موقع پر غلام نبی نے کہا کہ ہمیں اپنی زمینوں پر کاشتکاری کرنے کی اجازت نہیں ہے ہمارے فصلوں کو تباہ و برباد کر دیا گیا ہے۔

میرے اور میرے ہمسایوں کے گھر میں چھاپہ مار کر ہمارے خواتین کی بے حرمتی کی گئی، ہم اعلیٰ حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ ہمیں اس بے لگام فورسز کی ظلم و بربریت سے نجات دلائے۔

جانگل بلوچ نے میڈیا کے سامنے ایک چھوٹے بچے کو پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ پانچ سال کا بچہ مگل ہے، جس کے والد دلجان کو آپریشن کے دوران شہید کیا گیا ہے۔ اس یتیم بچےکو اب کون انصاف دلائے گا؟ ہمیں تو اس ملک سے کہیں بھی انصاف ملنے کی توقع نہیں، ہمیں ہمارا جرم بتایا جائے، آخر ہم نے اس فوج کا کیا بگاڑا ہے؟ میں صرف اتنا کہنا چاہتی ہوں کہ ہمیں اپنے سرزمین پر جینے کا حق دیا جائے۔

جب ان سے اس ہجرت کی وجہ پوچھی تو انھوں نے بتایا کہ جب سے پاکستانی فوج یہاں جارحانہ کارروائیوں کے لیے آئی ہے اور اس نے یہاں اپنی چوکیاں قائم کی ہیں تب سے گاؤں کی خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کا سلسلہ جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز