کوئٹہ(ہمگام نیوز) مقبوضہ بلوچستان میں مون سون کی بارشوں نے کئی اضلاع میں تباہی مچا دی مکانات کی چھتیں گرنے اور سیلابی ریلوں میں بہنے سمیت مختلف حادثات میں کم از کم 19 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے سے مقبوضہ بلوچستان کے بیشتر علاقے مون سون کی بارشوں کی لپیٹ میں ہیں جبکہ پیر سے بدھ تک کوئٹہ، سبی، نصیرآباد، جعفر آباد، کوہلو، لورالائی، بارکھان، ژوب، موسی خیل، زیارت، ہرنائی، قلعہ سیف اللہ اور قلعہ عبداللہ میں مزید بارشوں کی پیشنگوئی کی گئی ہے جس کے نتیجے میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
صوبائی ڈیزاسسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(پی ڈی ایم اے) کے مطابق بارشوں سے پشین، چاغی، واشک، قلات، کیچ، موسی خیل، خضدار، سبی، جھل مگسی اور بولان میں رابطہ سڑکوں، کھڑی فصلوں، بجلی کی تنصیبات اور لوگوں کی املاک کو نقصان پہنچا ہے۔
زرائع کے مطابق بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث پیش آنے والے مختلف حادثات میں 19 اموات میں چھ کیچ اور پانچ ضلع پشین سے رپورٹ ہوئی ہیں۔ واشک، چاغی اور کوہلو میں دو دو، موسی خیل اور لسبیلہ میں ایک ایک شخص کی موت ہوئی ہے۔
مکران ڈویژن کے ضلع کیچ (تربت) میں سب سے زیادہ اموات ہوئی ہیں۔ ڈپٹی کمشنر حسین جان کے مطابق بارشوں کے بعد ضلع کے مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے انہوں نے بتایا کہ دو خواتین اور ایک بچے سمیت چار افراد کی موت مرگاپ میں ہوئی جن کی کار سیلابی ریلے میں بہہ گئی تھی جبکہ پانچ افراد کو بچا لیا گیا چار افراد میں سے دو کی لاشیں جمعرات کو اور باقی دو کی لاشیں جمعہ کو نکالی گئیں ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ ایک شخص کی موت ناصر آباد میں سکول کی عمارت منہدم ہونے سے ہوئی جبکہ ایک آٹھ سالہ بچہ بھی تربت میں ندی میں ڈوب کر ہلاک ہوا۔ انہوں نے مزید بتایاکہ بارش کے بعد میرانی ڈیم تقریبا بھر گیا ہے اور پانی کی سطح 235 فٹ تک پہنچ گئی۔ ڈپٹی کمشنر کے مطابق پانی کی سطح مزید دس فٹ بلند ہوئی تو سپل وے کھول دیے جائیں گے گوادر اور پسنی میں بھی بارشوں کے بعد ڈیموں میں پانی کی سطح بلند ہوگئی جس سے شہر میں کئی ہفتوں سے جاری پانی کی قلت کے خاتمے کی امید پیدا ہوگئی ہے۔
کوئٹہ سے متصل ضلع پشین کے علاقے ریگی بوستان میں جمعرات کو شدید بارشوں کے نتیجے میں مکان کی چھت گرنے سے پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔ علاقے کے اسسٹنٹ کمشنر کے مطابق مرنے والوں میں محمد داد اور ان کے چار کم عمر بچے شامل ہیں۔ پشین کے علاقے خانوزئی اور ملحقہ علاقوں میں سیلابی ریلوں نے زراعت کو نقصان پہنچایا ہے۔
چاغی کے علاقے دالبندین میں طوفانی بارش کے بعد سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی، درجنوں مکانات منہدم ہوگئے۔ بجلی کے تیس سے زائد کھمبے گر گئے جس کے باعث تیس گھنٹوں تک بجلی کی فراہمی معطل رہی۔ کوئٹہ سے ایران کو ملانے والی ریل نیٹ ورک کی پٹڑی21 مقامات پر تباہ ہوئی ہے۔ دالبندین کے اسسٹنٹ کمشنر جاوید ڈومکی کے مطابق دالبندین کے کلی خدائے رحیم میں دیوار گر گئی ملبے تلے دب کر نشے کے عادی دو افراد ہلاک ہوگئے جبکہ دو مختلف مقامات پر گھروں کی چھتیں گرنے سے خواتین اور بچوں سمیت آٹھ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ اسسٹنٹ کمشنر دالبندین کا کہنا ہے کہ نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیے سروے شروع کردیا گیا ہے۔
کوہلو میں بھی بارشوں کے باعث ندی نالوں میں طغیانی پیدا ہوگئی۔ کوہلو لیویز کنٹرول کے مطابق جمعرات کو ایف سی کے ون کمانڈنٹ ماوند لیفٹیننٹ کرنل فیاض احمد کی گاڑی منجھرہ نالہ میں سیلابی ریلے کی زد میں آکر بہہ گئی۔ حادثے میں دو ایف سی اہلکار ہلاک ہوگئے جن میں سے ایک کی لاش تاحال نہیں ملی جبکہ لیفٹیننٹ کرنل فیاض احمد اور دیگر اہلکاروں کو بچالیا گیا۔
سبی میں ضلعی انتظامیہ کے مطابق دریائے ناڑی، تلی ندی اور لہڑی ندی میں اونچے درجے کا سیلابی ریلہ گزر رہا ہے۔ تلی ندی میں آنے والے 52 ہزار کیوسک کے سیلابی ریلے نے یونین کونسل مل کا رخ کر لیا جس سے مل چانڈیا، رضا چانڈیا، چاچڑ،مل بجیری، مل گہرام زئی زیر آب آگئے متعدد مکانات اور ان کی دیواریں گر گئیں، سیلابی پانی میں بہنے سے درجنوں مال مویشی ہلاک ہوگئے جبکہ اناج اور سینکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلوں کو بھی نقصان پہنچا ہے تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق دریائے ناڑی کے پانی نے بھی آبادی کا رخ کر لیا جس سے لونی، بکڑا غلام بولک کے گاں زیر آب آگئے جبکہ بندات کمزور ہونے سے سبی شہر کو بھی خطرات لاحق ہیں ادھر سبی اور کوہلو کو آپس میں ملانے والی سڑک کو تین دن بعد جمعہ کو آمدو رفت کے لیے بحال کردیا گیا۔
بولان کے ڈپٹی کمشنر صلاح الدین نورزئی کے مطابق بارشوں سے بانا ناڑی، بھاگ اور سنی شوران میں کچھ بولان کے علاقے بالا ناڑی، بھاگ ناڑی اور سنی شوران میں بالائی علاقوں سے آنے والے سیلابی ریلوں کے نتیجے میں کئی دیہات زیرب آب آئے ہیں تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
جھل مگسی میں بھی تین روز سے سیلابی صورتحال ہے مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ سب سے زیادہ تحصیل گنداواہ کی یونین کونسل پتری اور کھاری متاثر ہوا جس کا ضلع بھر سے دو دنوں سے رابطہ منقطع ہے جبکہ گنداواہ میں پانچ دنوں سے بجلی بھی غائب ہے جس سے پانی کی قلت پیدا ہوگئی۔
لسبیلہ کی ویراب ندی پار کرتے ہوئے شاہ نورانی جانے والا کراچی کا رہائشی چالیس سالہ شخص سیلابی ریلے میں بہہ کر ہلاک ہوگیا۔
خضدار کی تحصیل وڈھ کے علاقے ساروانہ اور شاہ نورانی میں بند ٹوٹنے سے چھ دیہات زیر آب آگئے اور پانی مکانات میں داخل ہوگیا پیاز، کپاس کی کھڑی فصلوں، زرعی مشینری اور سولر پینلز کو بھی نقصان پہنچا ہے۔


