واشنگٹن (ہمگام نیوز) مانیٹرنگ نیوز ڈیسک رپورٹس کے مطابق امریکی خلائی ایجنسی ناسا کا پرسیورینس روور مریخ کی چٹان کا پہلا نمونہ لینے کے لیے تیار ہے۔ پرسرویرنس ایک خود کار گاڑی ہے اور اس کے پیچھے نشانات اس راستے کی نشاندہی کر رہے ہیں جہاں سے وہ چل کر آئی۔ ایک انگلی کے حجم جتنا یہ ٹکڑا ایک مہر بند ٹیوب میں پیک کیا جائے گا جس کے بعد اسے زمین پر لایا جائے گا۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جدید ترین تجربہ گاہوں میں مریخ کی سطح سے آنے والے مادے کا مطالعہ کر کے ان کے لیے اس بات کا تعین کرنے کا بہترین موقع ہو گا کہ آیا مریخ پر کبھی زندگی تھی۔
پرسیورینس فروری میں سیارے کے جیزیرو نامی 45 کلومیٹر چوڑے (30 میل) گڑھے میں اترا تھا۔
مصنوعی سیارے سے بھیجی جانے والی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں کبھی ایک جھیل ہوا کرتی تھی اور ایک دریائی ڈیلٹا سے پانی ملا کرتا تھا۔
اس طرح، یہ قدیم مائکروبیل حیاتیات کے تحفظ کے لیے ایک بہترین جگہ سمجھی جاتی ہے، اگر وہ کبھی یہاں موجود تھی تو۔
ناسا کا یہ روبوٹ اس مقام سے تقریباً 1 کلو میٹر جنوب کی سمت سفر کر چکا ہے جہاں وہ پانچ ماہ قبل ڈرامائی انداز میں اترا تھا۔ اب یہ ایک ایسی جگہ پر رک گیا ہے جسے ’پیور سٹونز‘ یا ’فکچرڈ رف‘ کا نام دیا گیا ہے۔


