کابل(ہمگام نیوز)مانیٹرنگ نیوز ڈیسک رپورٹ کے مطابق افغان طالبان نے اتوار 26 دسمبر کو احکامات جاری کيے ہے کہ طويل سفر کرنے والی خواتين کو کسی مرد کے بغير ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم نہ کی جائے۔ مختصر فاصلے تک سفر کرنے والی خواتين کو البتہ اس سے استثنیٰ حاصل ہے۔ يہ حکم نامہ طالبان کی اس وزارت کی جانب سے اتوار کو جاری کيا گيا ہے، جس کا کام ‘گناہوں کو روکنا اور اچھی اقدار کا فروغ‘ ہے۔ وزارت نے تمام ٹرانسپورٹ والوں کو يہ ہدايت بھی دی ہے کہ حجاب کے بغير عورتوں کو گاڑيوں پر سوار نہ کيا جائے۔
افغانستان ميں طالبان کے سابقہ دور ميں عورتوں کے حقوق کی پامالی ايک بڑا مسئلہ تھا۔ يہی وجہ ہے کہ دوحہ ميں امريکا اور طالبان کے مابين مذاکراتی عمل ميں بھی اس بات پر خاصی توجہ دی گئی تھی کہ طالبان عورتوں کے حقوق کے تحفظ کو يقينی بنائيں۔ البتہ رواں سال اگست ميں ملک کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد سے طالبان نے کئی ايسے اقدامات کيے ہيں، جن سے ايسا ہوتا دکھائی نہيں ديتا۔ متعدد صوبوں ميں اسکول کھل چکے ہيں ليکن لڑکيوں کو سيکنڈری اسکولوں سے دور رکھا گيا ہے۔ اسی ماہ طالبان نے اپنے رہبر اعلیٰ کے حوالے سے ايک حکم نامہ جاری کيا جس ميں عورتوں کے حقوق کے تحفظ کو يقينی بنانے کا کہا گيا مگر اس ميں تعليم تک رسائی کا کوئی ذکر نہيں۔ علاوہ ازيں کئی معاملات ميں عورتوں کو پابنديوں اور رکاوٹوں کا سامنا ہے۔
واضح رہے خواتين صحافيوں کو خبريں پڑھتے وقت حجاب اور چند ہفتوں قبل لوگوں کوگاڑيوں ميں موسيقی نہ چلانے کا حکم بھی اسی وزارت کی جانب سے ديا گيا تھا-


