سه شنبه, مارچ 10, 2026
Homeخبریںبلوچ جبری لاپتہ افراد اور شہدا کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو آج...

بلوچ جبری لاپتہ افراد اور شہدا کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو آج 4566 ہو گئے اظہار یکجہتی کے لیئے تمام مکاتب فکر کا دورہ جاری

کوئٹہ (ہمگام نیوز) گزشتہ بارہ برسوں سے جاری بلوچ جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کے حق میں اور شہدائے بلوچستان کے لیئے لگائے کیمپ کو آج 4566 دن ہوگئے اس دوران تمام مکاتب سے شامل سیاسی، سماجی اور دیگر کارکنوں اظہار یکجہتی کے لیئے کیمپ میں آنا جاری ہے ـ
اظہار یکجہتی کرنے والوں میں آج اوتھل سے سیاسی سماجی کارکناں محمد عثمان بلوچ در محمد بلوچ اور لوگوں نے آ کر مرد اور خواتین لواحقین سے اظہار یکجہتی کی
اس موقع پر وی بی ایم پی کے رہنما ماما قدیر بلوچ نے مخاطب ہوکر کہا کہ تشدد سے جسم ختم ہوتا ہے لیکن نظریہ نہیں ختم کیا جاسکتا، انسان دیکھے جا سکتے ہیں پرکے جاسکتے ہیں تم انہیں پکڑ سکتے ہو ان پر حملہ کر سکتے ہو اور قیدکرکے ان پر مقدمہ چلا سکتے ہو انہیں تختہ دار پرلٹکا سکتے ہو لیکن انکے فکر و خیالات پر اس طرح قابو نہیں پایا جاسکتا وہ نا محسوس طور پر پھیلتے ہیں نفوذ کر جاتے ہیں چھپ جاتے ہیں اور اپنے مٹانے والوں کی نکا ہوں سے مخیفی ہو جاتے ہیں روح کی گہرائیوں میں چھپ کر نشو نما پاتے ہیں پھلتے پھولتے ہیں جڑیں نکالتے ہیں جتناتم ان شاخوں کو بے اختیاطی کے باعت ظاہر ہو جائیں کاٹ ڈالوگے اتنا ہی ان کی زمین دوز جڑیں محفبوظ ہوجائیں گی ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ اگر آپ کسی ایک پرامن جدوجہد سے واقف ہیں اور آپ اپنے دل میں یہ سمجھتے ہیں کہ وہ پرامن جہدکے بالکل بر حق ہے لیکن پھر بھی اس کا حصہ بننے سے انکار کردیں تو وہ وقت ہے جب آپ کی موت شروع ہوجاتی ہے اور میں نے اپنی زندگی میں بہت سی چلتی پھرتی لاشیں دیکھیں جو پرامن جدوجہد اور نقصان کی باتیں کرتے ہوئے نہیں تھکے انہوں نے مزید کہا کہ بلوچ نوجوان اپنا قومی فرض ۔ فرض شناسی کے ساتھ غرور گھمنڈ خود غرضی کائلی لاپروائی جیسے کینسر سے مکمل طور پر صحت یاب ہوکر تنظیمی سماجی شخصی قبائلی علاقے جیسے ناسور تعصبات سے نکل کر صرف اور صرف بلوچ بن کر مشکل حالات میں اپنی قومی موقف پرڈٹ کر ہمت بہادری کے ساتھ اپنا قومی فرض نبھائیں دشمن کی جانب سے بلوچ قوم کے خلاف مزید بے رحمی زندگی جبر بربریت کی توقح ذہن میں رکھنا چاہیے لیکن لیکن تمام تر ظلم ستم کے باوجود کا میالی لواحقین کی ہوگی کیونکہ یہ ایک تاریخی باب ہے قابض ظالم نے کبھی تشدد کے فلسفے پر کامیابی حاصل کی ہے اور نہ ہی اب کامیابی حاصل کر سکے گا ۔
جبری گمشدہ آصف بلوچ اور رشید بلوچ کی فیملی بھی آج وائس فار بلوچ مسسنگ پرسنز کے کیمپ میں بیٹھے رہے، جبکہ کل کراچی پریس کلب کے سامنے انہوں نے احتجاج کے بھی کال دی ہے ـ

یہ بھی پڑھیں

فیچرز