آج سے پندرہ سال پہلے ایک خوبصورت اور جوشیلے نوجوان زوہیب رودینی کی ہمراہی میں آشخان ندی کنارے چلتے گھومتے اور مجلس کرتے لشکرآپ کے میٹھے چشمے سے پانی پینے کے بعد ساتھ والے ٹیلے پر قبلہ رخ کر کے بیٹھ گئے. یہاں بیٹھ کر ہماری حد نگاہ سرلٹ کا احاطہ کر سکتی اور اس مقام کا بھی جہاں سے ریاست قلات کی جبری الحاق کے خلاف ایک مزاحمتی لشکر آغا عبدالکریم خان احمدزھی کی قیادت میں ماہ مئی 1948 میں اس مقصد سے افغانستان میں داخل ہوا تھا۔ تاکہ جبری الحاق کے ذریعے سلب کی گئی آزادی کے دوبارہ حصول کے لیے مزاحمتی تحریک منظم کی جا سکے ۔ میرے ہمراہ خوبصورت نوجوان زوہیب رودینی کے دادا غلام فاروق رودینی بھی اسی مزاحمتی لشکر کے سپاہی کی حیثیت سے آغا عبدالکریم خان کے ساتھ ہم گام رہے تھے اور پانچ سال کی قید بھی کاٹ چکے تھے، نوخیز اور جوشیلے زوہیب رودینی کے ساتھ موضوع بحث بھی بلوچ قومی تحریک ہی تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب ریاست کے تشکیل کردہ مسلح جھتے منظر عام پر نہیں آئے تھے۔بلوچ مزاحمتی جدوجہد کے حوالے سے پورے بلوچستان میں آگاہی پھیل چکی تھی۔قابض ریاست اپنے اندر کے کھوکھلے پن کو چھپانے کی بے سود جتن کرتے ہوئے اپنے بوسیدہ وجود کو مختلف بیساکھیوں کے ذریعے سہارا دینے کی کوشش کررہا تھا۔ زوہیب جیسے نوجوانوں کے ذہنوں پر اپنے وطن کے لیے کچھ کر گزرنے اور اپنا حصہ ڈالنے کا عزم انتہائی حد تک راسخ ہو چکا تھا۔اس وقت ضرورت اس بات کی تھی کہ وطن کی آزادی کے لیے مر مٹنے والوں کی نظریاتی تربیت کرتے ہوئے ایک منظم لڑی میں انھیں پرویا جاتا۔ بلوچ نوجوانوں کی جم غفیر کو فکری و نظریاتی ہتھیاروں سے لیس کر کے بلوچ تحریک کو عوامی سطح پر وسعت دیاجاتا۔ عموماً قابض ریاستیں چاہے وہ دنیا کے جس کسی کونے میں ہوں اور چاہے جس قوم کی آزادی سلب کرنے کے لیے تاویلیں گڑھتی رہی ہوں ان کے رویوں میں اور مقبوضہ سرزمین کے عوام کے ساتھ سلوک میں ایک حد تک مماثلت ڈھونڈی جا سکتی ہے اور کسی نہ کسی موقع پر وہ اپنی اصلیت اور حقیقت آشکار کر دیتی ہیں۔ بلوچ سرزمین پر قابض ریاست چونکہ کوئی تاریخی جواز نہیں رکھتی اور خود مٹی گارے اور ریت کا ملغوبہ ہے ،اس لیے اس کی پالیسیاں ایک مخصوص داہرے تک محدود رہتے ہیں اس داہرے میں مذہب کو ایک دفاعی شیلڈ کی حیثیت حاصل ہے کیونکہ قابض کے ہاتھ میں مذہب ہی وہ واحد ہتھیار ہے ،جس کو اسے دوسرے اقوام بلوچ، پشتون، سندھی کے سرزمین پر قبضہ اور قومی شناخت کو ختم کرنے کے لیے استعمال کرنے میں آسانی رہتی ہے۔ ریاست کے بے بنیاد وجود کو کوئی تاریخی، سیاسی اور اخلاقی جواز نہیں اس لیے پالیسیاں بھی سطحی سوچ کے مطابق تشکیل دی جاتی ہیں جو کہ نہ معروض سے مطابقت رکھتی ہیں اور نہ موضوعی طور پر علمی بنیادوں پر تشکیل دی گئی ہوتی ہیں اس لیے ناکامی ان پالیسیوں کا مقدر بن جاتی ہے۔ بلوچ قومی آزادی کی نئی لہر اور ابھار کے بعد سے بلوچ قومی تحریک کو کاؤنٹر کرنے کے لیے ریاست پاکستان نے پچھلے بیس سالوں میں مختلف بیانیے اور پالیسیاں اختیار کیں ، پورے بلوچ سماج اور سماج کے مختلف طبقوں کے لیے عموماً اور بلوچ نوجوانوں کے ذہنوں کو ریاستی سانچے کے مطابق ڈالنے کے لیے خصوصاً مختلف ترغیبی اور مراعاتی پیکجز دیے گئے۔ پاکستان کے ریاستی اختیار داروں نے مزاحمتی تحریک کے ابتدائی دنوں میں ایک بیانیہ اختیار کیا کہ یہ تین سرداروں کا ایک قبائلی لشکر ہے جو عصر حاضر کے تقاضوں سے غافل، بیگانہ اور ترقی مخالف گروہ کے طور پر ریاست کی پرامن پالیسیوں کے آگے رکاوٹ ہیں۔ بلوچ قوم کو پسماندہ رکھنے میں انھی سرداروں کا ہاتھ ہے۔ساتھ ہی ساتھ نوجوانوں کو تعلیم، روزگار، اور ترقی کے پرفریب اور سطحی نعروں سے بہلانے کی کوشش ہوئی۔ دوہزار سات اور آٹھ کے دوران پاکستانی ریاست کے اہم اور طاقت ور مرکز پنجاب کے مکروہ چہرہ کو خوبصورت بنانے اور ریاست کی بھیانک شکل کو ایک ہمدرد و خیرخواہ کے کے طور پر پیش کرنے کی حکمت عملی کے تحت بلوچستان سے بلوچ طلباء کو فری ٹور یعنی سرکاری خرچے پر پنجاب اور اسلام آباد کے تعلیمی اداروں کے دوروں کے منصوبے بنائے گئے ۔ بلوچستان پیکج کے نام پر طلباء کو روزگار کے ترغیبی گرداب میں پھنسانے کی کوشش بھی کی گئی۔فورسز میں بھرتی کرنے کے لیے ترتیب شدہ تقاضوں میں نرمی لائی گئی تاکہ نوجوان اپنے ہی بلوچوں کے خلاف صف آراء ہوں اور پنجاب اسی طرح ستر سالوں سے جاری لوٹ کھسوٹ کو اپنے پیٹ پھلانے کے لیے استعمال کرتا رہے۔ پاکستانی آرمی اور ایف سی میں بلوچستان کے لیے بھرتی کے شرائط یعنی چھاتی کی پیمائش میں کوئی حد نہیں رکھی گئی کیونکہ اپنے ہی بھائی کی بندوق سے نکلی گولی کو اپنے چھاتی پر سہنے کے لیے انچوں کی پیمائش کوئی معنی نہیں رکھتی۔ وہ تمام منفی ہتھکنڈے اور حربے آزمائے گئے جو بلوچستان میں پنجاب کی قبضہ گیریت کو دوام بخشنے میں کارگر ہوسکتے تھے، نہیں ہوئے تو اس کی سب بڑی وجہ یہ ہے کہ بلوچ قومی آزادی کی تحریک کی جڑیں تاریخ کی زمین میں مضبوطی سے پیوستہ ہیں یہ نہ کوئی وقتی ابھار ہے اور نہ کسی واقعے کا لمحاتی ردعمل یہ تحریک وطن کی آزادی تک جاری رہے گی، ایک خوبصورت سماج کی تشکیل تک۔ زوہیب رودینی سے وہ ملاقات آخری ملاقات رہی. اگست 2010 میں وڈھ سے واپسی پر خضدار آتے ہوئے اسے ریاستی فورسز نے خضدار کینٹ کے سامنے سے اُٹھایا۔ان کی گاڑی وہیں پر کھڑی ملی اور چند دن بعد 14 اگست کو انھیں شہید کیا گیا۔آج ان کی بارہویں برسی پر ان سے ملاقات کے حوالے سے یادداشت رقم کرنے کی کوشش کی۔


