سه شنبه, مارچ 10, 2026
Homeخبریںبی این ایف کا پانچواں مرکزی کونسل کااجلاس سیکریٹری جنرل خلیل بلوچ...

بی این ایف کا پانچواں مرکزی کونسل کااجلاس سیکریٹری جنرل خلیل بلوچ کی صدارت میں منعقد ہوا

کوئٹہ ( ہمگام نیوز ) بلوچ نیشنل فرنٹ کا پانچواں مرکزی کونسل کااجلاس سیکریٹری جنرل خلیل بلوچ کی صدارت میں منعقد ہوا ۔اجلاس میں کونسل کے تما م کونسلروں نے شرکت کی ۔اجلاس کا ا فتتاح شہدا ء کی یاد میں دومنٹ کی خاموشی سے ہوا۔سیکریٹری رپورٹ،تنظیمی امور،بلوچستان اورخطے کی سیاسی صورتحال پر تفصیلی غورو غوص کے بعد آئندہ لائحہ عمل زیر بحث رہے ۔مرکزی کونسل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خلیل بلوچ نے کہا کہ بلوچ قوم نے اپنی سیاسی ارتقاء میں قربانیوں کی تاریخ رقم کی ہے اور بلوچ قومی جدوجہد کی ارتقاء آج پختہ مقام پر پہنچ چکاہے اوراس کا ثمرموجودہ دور میں تحریک کے تسلسل کی صورت میں نمایاں ہیں۔بلوچ قومی تحریک مختصر دورانیہ کے نشیب و فراز سے گزر کر واضح نظریاتی پختگی کے ساتھ دنیا میں اپنی سرزمین کو متنازعہ خطہ قرار دلانے میں کامیابی حاصل کی ہے اور آج ریاست بارے بلوچ قومی موقف کی صداقت کو دنیا تسلیم کررہاہے ۔جنوبی اور وسطی ایشیاء میں بلوچ سرزمین انتہائی اہمیت کی حامل ہے، اس خطے سے وابستہ سیاسی ،عسکری اور معاشی مفادات کی پالیسیاں ہماری سرزمین اورقومی تحریک کے اغراض ومقاصد کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن یہ بلوچ قوم پر انحصار کرتا ہے کہ وہ کس حد تک اپنی قومی تحریک اور قومی موقف کو برقراررکھ سکتا ہے، کیونکہ افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف جنگ یاآج کے طالبان کے خلاف جنگوں کا تجزیہ یہ ثابت کرتا ہے کہ ان جنگوں کے مستقبل کے دلچسپی کا مرکزومحوربلواسطہ یا بلا واسطہ بلوچ سرزمین ہے۔بلوچستان میں نام نہاد ترقی کے منصوبے بلوچ سرزمین کوریاست کا اپنی مفادات کے لئے استعمال کی پالیسی ہے اور بلو چ قوم کی سیاسی و شعوری جدوجہد کی وجہ سے تمام سرمایہ کاری کے منصوبے اور معاہدے ناقابلِ عمل ہوکر سردخانے کے حوالے ہوچکے ہیں۔گوادر پورٹ ،گوادر تا کاشغر اکنامک کوریڈور پرقوت کے ذریعے اس لئے عمل درآمدہورہا ہے کیونکہ یہ قطعی طورپرمعاشی واقتصادی منصوبہ نہیں بلکہ پورے خطے’’ افغانستان ،ہندوستان ،روس،ایران وغیرہ شامل ‘‘میں طاقت کی توازن کو اپنے حق میں بڑھانا ،خطے پر مکمل کنٹرول اور سیاسی و عسکری مفادات کی تکمیل کے لئے چینی سامراجی عزائم اورنوآبادیاتی منصوبے ہیں ۔بلوچستان میں قومی تحریک نے ریاست کی معاشی و عسکری کمرتوڑکررکھ دی ہے اس لئے وہ مکمل نوآبادیاتی کردار کے لئے بلوچ سرزمین کو چین کی حوالے کررہاہے ۔آج یک قطبی اور مغربی دنیا کے مقابلے کے لئے محاذ آرائی اور اشتعال کے بجائے چین پاکستان کی مدد سے بلوچ قومی تحریک کو کچل کراس خطے میں پاؤں جمانے کی پالیسیوں پر گامزن ہے کیونکہ وہ بلوچستا ن کے جغرافیائی اہمیت سے بخوبی آگاہ ہے جو اسے مغربی بلاک کے سیاسی و عسکری اثر و رنفوذ کو ختم کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔چین گوادر تاکاشغر اکنامک کوریڈورکے ذریعے اپنی بڑھتی ہوئی تزویراتی،عسکری اورمعاشی ضروریات کی تکمیل کے لیے بلوچستا ن کے اہم جیوپولیٹیکل اہمیت کے حامل سرزمین اور وسائل جن میں ایندھن اور یورینیم کے بیشمار ذخائر ہیں، ان تک پہنچنا اور انہیں اپنے تصرف میں لانا اس کے مقاصد میں شامل ہیں اور چین بالخصوص معاشی و عسکری میدان میں اپنے مدِ مقابل اور ہمسایہ بھارت کو کمزور اور گھیراؤ کرنے کے لیے ہماری سرزمین پر قدم جماکر اپنی حیثیت منوانے پاکستان سے مل کر بلوچ نسل کشی میں اہم محرک کے طور پر سامنے آرہا ہے۔ چین اپنے کثیرالمقاصدپالیسیوں کی تکمیل کے لئے بلوچ قومی تحریک کو کچلنے اور اس کے اثرات کو زائل کرنے کے لیے کھربوں ڈالر ہماری سرزمین میں لگا چکا ہے ۔ریاست کی درندگی اور چینی سرمایہ کاری کے خلاف مزاہم ،گوادر کاشغر کے روٹ پر سے تمام آبادی کو IDPs بنادیا گیا ہے ۔ آبادیوں کو بلڈوز کرنا اور انہیں علاقہ بدر ہونے پہ مجبور کرنا اورسامراجی منصوبوں پر دسویں ہزاروں کی تعداد میں فورسز کی تعیناتی اور جبر و دہشت خیزی اس حقیقت کے واضح ثبوت ہیں کہ بلوچ قوم پاکستان کے ساتھ چین کے عزائم کو بھانپ کر اس کے تمام نوآبادیاتی منصوبوں کی تکمیل اور فعالیت کی راہ میں مزاحم ہیں ۔ یہاں سیاسی ،عوامی اور عسکری مزاحمت جاری ہے اور بلوچ کسی بھی عنوان پر سامراجی اور نوآبادیاتی پالیسیوں اور منصوبوں کوقبول نہیں کرسکتا۔خطے کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے چیئرمین خلیل بلوچ نے کہا’ ،آج دنیا میں انسانیت کو درپیش سنگین بحران اور سفاکانہ سوچ و نظریات کی جڑیں مغرب کی مفاد پرستانہ اور پراکسی وار کے پالیسیوں میں پیوستہ ہیں۔اگر مغربی طاقتیں انصاف اور برابری کی پالیسیاں بناتیں تو دنیا اس مقام پہ ہرگز نہ پہنچتا۔ایسے حالات میں مہذب دنیا کا یہ فرض بنتاہے کہ ان سنگین حالات ، استحصالی سوچ اور نظریات سے چھٹکارہ پانے اور دنیا کو تعمیر و ترقی کی راہ پہ گامزن کرنے کے لیے نیشنلزم کے نظریے کی نہ صرف حمایت بلکہ ان کی قومی ریاستوں کی تشکیل کے لیے کردار بھی ادا کرنا چاہیے۔ آج دنیا کی امن اور بقاء کے لیے سب سے بڑا خطرہ شدت پسندی ہے جو مغرب اور اس کے حواریوں کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے کیونکہ مغرب نے سوشلزم سمیت اپنی تما م مقابل قوتوں کو پراکسی وار اور مذہب کے ہتھیا ر سے ختم کرنے کی راہ اپنائی آج انہی مغربی پالیسیوں نے اپنے ثمر کے طورپر مذہبی شدت پسندی کے دیو کو انسانیت کے سامنے لاکھڑاکیاہے ۔ آج مذہبی شدت پسند دنیا میں سرمایہ داریت و سوشلزم کے بعد طاقت تیسری قوت بننے کی خواب دیکھ رہے ہیں تاکہ شمشیر کے زور پر دنیامیں اپنے خوف و دہشت اور بھیانک خون خرابیوں کی خلافت قائم کی جائے اور دنیا پہ اپنی دھاک بٹھانے کے لیے بے دریغ انسانیت کا لہو بہارہے ہیں ۔بلوچ ایسی سوچ اور نظریات کو انسانیت کی بقاء اور قوموں کے وجود کے لیے سب سے بڑا خطرہ قراردے کر اس کی شدید مذمت کرتا ہے۔ قومی تحریک پہ بات کرتے ہوئے چیئرمین خلیل بلوچ نے کہا کہ ریاست قومی تحریک کو کچلنے کے لیے کثیر الجہتی پالیسیوں اور حکمت عملیوں پہ گامزن ہے ۔ تمام عالمی انسانی واخلاقی اقدار کو پاوں تلے روند کر آج دشمن بلوچ کو اغواء و لاپتہ کررہا ہے۔ بولان آپریشن میں متعدد خواتین و بچوں کو غائب کرنا ،،چین کی توسیع پسندانہ اور نوآبادیاتی پالیساں اور بلوچ تحریک کو کچلنے کے لئے غیر انسانی حرکات بلوچ قوم کے لئے ایک مشکل وقت اور کھٹن مرحلہ ضرور ہے مگر یہ ایک ایسی کسوٹی بھی ہے جس نے بلوچ قوم کے ہمدردو حقیقی قوم پرست اورقبضہ گیر کے معاونین و جرائم میں برابرکے شریک کار سیاسی پارٹی ،نام نہاد مذہبی طبقہ ،سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کے چہرے سے نقاب ہٹادیا ہے اورریاست کے بلوچ کی نسل کُشی کے جرائم کے شریک کردار نہ صرف بلوچ قوم کے مجرم ہیں بلکہ ان کا کردار پوری انسانیت کے لئے باعثِ شرم ہے ،اس کسوٹی میں سب کے اصل کردار آج دنیا کے سامناواضح ہوچکا ہے ، وہ چاہے بلوچ حقوق کے دعویدارہوں ، اسلام کے زریں اصولوں کے پاسبان یا انسانی اقدار کے محافظ سول اور انسانی حقوق کے علمبردار ۔فورسزروزانہ پوری کی پوری بستیاں جلارہا ہے ،فورسزکے ہاتھوں بلوچ فرزندوں کی شہادتیں اور اغواء کرکے لاپتہ کرنا معمول بن چکاہے ۔ کئی فورسز آپریشنوں میں قرآن پاک کو بھی جلایا گیا ہے ، اس پر دینی علما کی خاموشی افسوسناک ہے۔ریاست کے ساتھ ساتھ حکومت پر براجماں سیاسی پارٹی اور دکھاوے کی اسمبلیوں میں موجود نام نہاد قوم پرستوں کے ہاتھ بلوچ کی خون سے رنگین ہیں۔بالخصوص ایک سیاسی پارٹی کی بلوچ خواتین کی اغواء میں معاونت نے انہیں بلوچ قوم کا ہمیشہ کے لئے مجرم بنادیا ہے ۔ ہم دنیا پر یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ بلوچ قوم اپنی سیکولر ، روشن خیال اقدار ، لبرل تشخص کے مطابق نیشنلزم کے واضح نظریے پر کاربند ہوکر عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق اپنی قومی تحریک چلارہاہے اور ہمارے نظریے اور سوچ میں دنیا کے لیے امن ،شانتی اور پائیدار ترقی کا پیغام مضمر ہے ۔ بلوچ اس خطے اور پوری دنیا میں تخریب، تخریبی سوچ کی بجائے تعمیری سوچ و فلسفے پر گامزن ہے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز