یکشنبه, مارچ 8, 2026
Homeخبریںبلوچستان، وبائی امراض کے باعث اموات ہو رہی ہیں، ادویات کی فراہمی...

بلوچستان، وبائی امراض کے باعث اموات ہو رہی ہیں، ادویات کی فراہمی یقینی بنایا جائے ۔ ینگ ڈاکٹرز 

 

کوئٹہ ( ہمگام نیوز ) ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے چیئرمین ڈاکٹر بہار شاہ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں سیلاب کے بعد ملیریا سمیت دیگر وبائی امراض پھوٹ چکے ہیں جس سے متعدد اموات ہو چلی ہیں۔ ہنگامی اقدامات نہ اٹھائے گئے تو اموات کی شرح بڑھ سکتی ہے ، سیلاب متاثرہ علا قوں میں ادویات فراہم کی جائیں ۔ صوبائی حکومت فوری طور پر سینئر ڈاکٹروں کی تعیناتی اور کنٹریکٹ ڈاکٹروں کی بھرتی کو یقینی بنائے ۔ یہ بات انہوں نے بدھ کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی ۔

 

ڈاکٹر بہاد شاہ نے کہا کہ چیف سیکرٹری بلوچستان عبدالعزیز عقیلی ڈاکٹروں کو کنٹریکٹ پر بھرتی کرنے کی سمری بار بار مستردکر رہے ہیں وزیر اعلی بلوچستان سے مطالبہ ہے کہ کنٹریکٹ پر ڈاکٹروں کی بھر تی کی منظوری دی جائے ۔

 

انہوں نے کہاکہ ہم سب نے ملکر سیلاب متاثرین کی مدد کرنی ہے انسانی حقوق اور محکمہ صحت کے تمام ادارے دور دراز علاقوں میں اپنی موجودگی کو یقینی بنائیں جبکہ حکومت تمام سینئر ڈاکٹرز اور اسپیشلسٹ کو جعفر آباد ، نصیر آباد بھیجے ۔

انہوں نے کہاکہ وزیر صحت سمیت دیگر اعلی حکام کا آگاہ کرچکا ہوں کہ اس مسئلہ کو اگر سنجیدگی سے نہیں لیا گیا تو حالات پر قابو کرنا مشکل ہو جائے گا ۔ انہوں نے کہاکہ نصیر آباد میں حالات انتہائی خراب ہیں نصیر آباد اور جعفر آباد میں پروفائل ایکس شروع کیا جائے ۔

 

انہوں نے کہاکہ سیلاب کے بعد ینگ ڈاکٹرز نے سیلاب متاثرہ علاقوں میں کام شروع کیا ہے انسانی حقوق اور محکمہ صحت کے تمام عہدیداروں کو ملیریا کی صورتحال کا بتا دیا ہے اگر اب بھی اموات میں اضافہ ہوتا ہے ذمہ داری حکومت بلوچستان پر عائد ہوگی ۔

انہوں نے کہا کہ ملیریا اور ہیپاٹائٹس کی وجہ سب زیادہ سے زیادہ اموات بچوں کی ہورہی ہیں نصیر آباد میں غربت بہت زیادہ ہے وہاں کے لوگ ہسپتال تک نہیں جاسکتے ۔

انہوں نے کہاکہ جعفر آباد کے ڈسٹرکٹ ہسپتال میں 3 ڈاکٹرز ہیں جو بغیر کسی چھٹی کے مسلسل ڈیوٹیز سرانجام دے رہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ جعفر آباد ، نصیر آباد ، جھل مگسی سمیت سیلاب سے متاثرہ دیگر علاقوں کے ڈسٹرکٹ ہسپتالوں میں ڈاکٹرز نہ ہونے اور ادویات کی عدم فراہمی کی وجہ سے عوام کو مشکلات کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ سیلابی صورتحال کے بعد ادویات کی ذخیرہ اندوزی ہو رہی ہے ان حالات میں ہمیں چاہیے کہ ہم سب ملکر کام کریں اور عوام سے اپیل ہے کہ وہ بتائیں کس علاقے میں کتنی اموات ہو چکی ہیں ۔

انہوں نے کہاکہ جب ہمارے تنظیم کے لوگ جیل میں تھے تب چند افراد مسٹرز کے جیبوں میں مزے کر رہے تھے ہم اپنی تنظیموں کو لاواث نہیں چھوڑ سکتے جس کی وجہ سے بعض لوگوں کو تنظیم سے برخاست کیا گیا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز