بلوچ سرزمین اور خطے کی بدلتی سیاسی و عسکری صورتحال کے پس منظر میں واشنگٹن پوسٹ میں بلگرٹز کے تجزیاتی تحریرکا اردو میں ترجمہ
(مترجم حیرآس بلوچ کا سیاسی کارکنوں کیلئے ایک رپورٹ)
قرن افریقہ میں اپنی پہلی بیرونی فوجی اڈا کھولنے کے بعد چین اب گوادر میں اپنی دوسری فوجی اڈا کھولنے کی تیاریوں میں ہیں۔دونوں فوجی اڈوں کی تکمیل سے بیجنگ کو ایک اسٹریٹجک بحری موجودگی فراہم ہوگی جس سے تیل سے مالا مال مشرق وسطی کے راستوں سے چین کو رسدات بھیجنے میں استعمال ہوگی۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور اسکے آس پاس کے خطوں میں بڑے فوجی بیڑوں کو جگہ دینے کیلئے بندرگاہ کی سہولتوں کو وسعت دے چکی ہیں۔مزید یہ جاری فوجی نقل و حرکت کو بہتر بنانے کیلئے گوادر بین الاقوامی ایئرپورٹ کو بھی اونچے درجے پہ لارہی ہیں۔
بشمول سینئر پیپلز لبریشن آرمی آفیسرز کے ستمبر سے سینکڑوں کی تعداد میں چائنیز گوادر میں کام کر رہے تھے۔پچھلے کچھ مہینوں سے بے شمار فوجی اہلکار گوادر پہنچے ہیں۔مزید اطلاعات ہے کہ حال ہی میں چائنیز نے کراچی کے پاس Sonmiani bay کا دورہ کیا جو گوادر کے مشرق میں سینکڑوں میل دور ہیں جو خلائی تحقیق اور جدید کمپیوٹنگ مراکز کیلئے جانا جاتا ہیں۔ امکان یہ ہے کہ چائنیز اسی جگہ ایک اور بندرگاہ بنانے کیلئے تیاریوں میں مصروف ہیں ۔
کمانڈر آف سینٹرل کمانڈ جنرل Joseph votel جو کہ پورے خطے میں اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کے دونوں جگہوں میں موجودگی پر انہیں تشویش ہیں۔ انہیں چین کی پاکستان اور کئی جگہوں میں بندر گاہیں، راستے تعمیر کرنے اور سہولیات کے بارے میں علم ہیں۔ انہوں نے ٹمپا میں رپورٹرز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ” انہیں تشویش ہے اس خطے میں دوسروں کی مداخلت کا یہ ہمارے لیے اور اس خطے کی سیکورٹی کیلئے ایک سوالیہ نشان ہیں۔ “؟ یہ چاہے کم یا زیادہ عرصے کیلئے ہو ہمارے لیے موجود رہے گا ہمیں اس سے جلدی سے نمٹنا ہوگا۔ بندرگاہ میں چائنیز تعمیرات اور فوجی سرگرمیاں ایسی ہیں جیسے چین نے Djibouti میں کیا تھا۔ لشکر کشی (Startegically)کے حوالے سے بحرہ احمر (Red sea) کے نزدیک (Bab el Mandeb) کہلاتا ہے۔شروع میں چین نے کہا تھا کہ Djibouti ایک لاجسٹک بیس ہے جہاں سے بحری جہازوں کو نئی رسد بھیجنا ہیں۔ جنھیں امن قائم رکھنے اور انسانی مہم میں استعمال کرینگے۔
لیکن مبصرین کہتے ہے کہ Djibouti میں ایک سخت فوجی اڈا ہے جو بڑے تیل لے جانے والے جہازوں کے راستے کی نگرانی کررہا ہیں۔
اگر گوادر چین کیلئے دوسری بڑی فوجی اڈا بنے گی تو یہ بیجنگ کو دو اسٹریٹجک جگہوں پر بالا دستی اور مشرق وسطی کی دونوں اطراف کی تیل لے جانے والے راستے کو خلل ڈالنے کی قابلیت دے گی۔
انڈین آرمی کے ریٹائرڈ کرنل ونایک بٹ نے حال ہی میں Djibouti کے سیٹلائٹ سے لیے گئے تصویروں پر تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ افریقن اڈا اسی لیئے بنایا گیا تھا تاکہ چین اپنے فوج کے بڑے دستے اور بے شمار ہیلی کاپٹرز کو جگہ دے سکے ۔
دو سو ایکڑ پرمحیط فوجی اڈا کی تعمیر کا کام جاری ہے ۔ جس میں بشمول کم ازکم دس سٹوریج بیرک،گولہ بارود کی سٹوریج ایک بڑی آفس کمپلیکس اور ایک ہیلی اڈا بنانا ہیں ۔کرنل ونایک بٹ نے کہا کہ Djibouti اڈے کی مدد سے وہ براعظم افریقہ میں مداخلت کرے گی اور یہ مستقبل میں گوادر یا کراچی جیسے بندرگاہ ایسے ہی مقاصد کیلئے استعمال ہونگے ۔چین کے یہ دو بندرگاہیں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ چین ایک منصوبے پر کام کر رہی ہے جو سالوں پہلے “موتیوں کی تار” کہلاتی تھی۔ فوجی اڈوں کی سیریز مشرق وسطی سے لیکر جنوب مشرقی ایشیا تک بنانا ہے جو مستقبل کیلئے PLAپاور پروجیکٹ میں استعمال ہونگی۔


