سوئیزرلینڈ (ہمگام نیوز) سیاسی رہنما محمد انور بلوچ ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ پاکستانی حکمرانوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ بلوچستان پاکستان کا حصہ تھا نہ ہے کیونکہ برطانیہ،انڈیا اور افغانستان تاریخی معتبر گواہ ہیں لیکن چند بھوکے بھیکاری سردار و نواب اور پارلیما نی لیڈروں کی مدد سے بلوچستا ن پر پاکستان کا قبضہ کی حما یت اور بھارت پر الزام لگا کر انسانیت اور انصاف کی روح کو مسخ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں حالانکہ یہ تو عالمی برادری کی بھی ذمہ داری ہے کہ ناانصافی کے خلاف دینا میں انصاف اور امن وامان قائم کرنے کیلئے ایک دہشت گرد ریاست کی دہشت گردانہ نظریہ کو ختم کر نے کیلئے اْسکی منہ پر زور دار تماچہ ماراجائے تاکہ وہ واپس پتھر کے دور میں چلا جائے اب جبکہ حق وانصاف اور انسانیت کی خاطر بلوچستا ن بارے انڈیا اْٹھ کھڑا ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ انڈیا کے قریبی دوست ممالک بھی انڈیا کے ساتھ متفق ہونگے گویا کہ بلوچ آزادی کیلئے گرین سگنل ہے وقت کا تقاضہ یہی ہے کہ تحریک کے صفوں میں اتحاد پیدا کرکے تحریک کو منظم کرکے تحریک میں مرکزیت کا قیام کریں کیونکہ کو ئی بھی مدد گار درجن بھر لیڈرز کو فرداً فرداً حمایت کرنے اور اِسطرح تحریک کو مدد کرنے کے حق میں نہیں ہوگا افسوس ہے کہ ہم سب کچھ قربان کرنے کے بوجود عدم برداشت کو مضبوط سے تامے ہوئے اَنا کے سرکش گھوڑے کو مہارکرنے میں ناکام ہوگئے ہیں حالانکہ اتحادمضبوط قومیت، تحریک اور ریاست کیلئے اولین شرط ہے ہمیں سکولر قومی جمہوری ریاست کیلئے أنا،تعصب اور عدم برداشت سے بالا تر ہو کر صرف صلاحیت کو تحریک ،ملک اور قوم کا شعار بنالینا چائے تاکہ بلوچستان کی آزادی کے بعد ایک مضبوط جمہوری ریاست خطے کے آشوب حالات سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہو اگر ابھی آزادی پسند ہوش کے ناخن نہ لیں تو اِسکا مطلب صاف وواضح رہے گا کہ آزادی پسند لیڈران آزادی کے حق میں مخلص نہیں ہیں بلکہ آزادی کے نام پر اپنی سربلندی ،نام و نمود اور خود پسندی کیلئے بلوچستان کی قبضہ کو تقویت دینے اور بلوچ قوم کو نابود کرنے کی کوشش میں مبتلا ہیں وگرنہ مخلص وایماندار قومی لیڈر اپنے قومی مقصد کیلئے کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرتے اور نہ ہی بڑے چھوٹے ہونے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں مزاہمت کار سنگت لیڈران پر دباؤ ڈالکر مجبور کریں کہ وقت کو ذائع کئے بغیر سنجیدگی سے بیٹھ کر اتحاد کیلئے گفتگو کرکے اختلافات کا خاتمہ کریں اس گرین سگنل کے بوجود پھر بھی اگر اللہ نذر ،براہمدغ اور حیربیار متحد ہوکر اشتراک عمل نہ کریں تو بہتر یہی ہے کہ وہ قربانی دے کر تحریک سے علیحدگی اختیار کریں تحریک بھانج نہیں ہے کوئی اور تحریک کی اس کمی کو پورا کرے گا بصورت دیگر تحریک میں انتشار ،کمزوری ،مالی وجانی نقصانات اور قوم کی مایوسی کی ذمہ دار ہونگیں۔


