Homeخبریںآپریشن گوبٹ کے تحت قلات میں قابض فورسز اور قمبر خان کے...

آپریشن گوبٹ کے تحت قلات میں قابض فورسز اور قمبر خان کے ڈیتھ سکواڈ سے منسلک اہم کارندہ میرو کو ہلاک کرنے کی ذمہ داری قبول کرتےہیں۔ بی ایل اے ترجمان آزاد بلوچ

شال (پریس ریلیز) 28 اکتوبر، 2026 : بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان آزاد بلوچ نے کہا ہے کہ 16 اکتوبر کو آپریشن گوبٹ یعنی گوئٹ کے سلسلے میں نیمرغ قلات سے پاکستانی فوج اور مقامی ڈیتھ سکواڈ سربراہ قمبرخان کی نیٹ ورک سے منسلک اہم کارندہ میرمحمد عرف میرو ولد واستی خان کو ایک چھاپے کے دوران گرفتارکیا تھا۔ ان سے ایک عدد کلاشنکوف، تین بھرے ہوئے میگزین اور ایک عدد وائرلس سیٹ برآمد کرکے ضبط کیا گیا۔ ہمارے تحقیقاتی ادارے کو میرو نے دوران تفتیش بتایا ہے کہ وہ گذشتہ گیارہ سالوں سے خفیہ اداروں کی تشکیل کردہ مقامی ڈیتھ سکواڈ سربراہ قمبرخان اور پسند خان کے ہمراہ کام کررہے تھے۔ وہ پسند خان اور ان کے والد قمبر خان کی سربراہی میں گذشتہ گیارہ سالوں سے پاکستانی خفیہ اداروں کے ساتھ مل کر بلوچ جہد کاروں کیخلاف کئی آپریشنوں میں شریک رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے ویڈیو اعترافی بیان میں مارچ 2019 کو تین بلوچ سرمچاروں ماما شمس پرکانی، ڈاکٹر شعیب، اور ظفر عرف خُدل کو فوج کے ساتھ مل کر شہید کروانے کا بھی اقبال جرم کیا ہے۔ ان کے قبول اس واقعہ کے عیوض قابض فورسز کی طرف سے اسے ایک لاکھ پاکستانی کرنسی دیا گیا تھا۔ ریاستی آلہ کار میرو نے بی ایل اے کے تفتیشی ٹیم کو بتایا ہے کہ انہیں قمبر خان اور پسند خان نے ہدایات دے رکھے تھے کہ وہ علاقے میں بھیس بدل کر گھومیں اور بلوچ سرمچاروں کی جاسوسی کریں۔ اس غرض سے وہ دشت گوران کے علاقے میں موجود تھے اس اثنا میں انہیں بی ایل اے کے سرمچاروں نے دبوچ لیا۔ بلوچ قومی عدالت میں انہیں بلوچ جہد کاروں کو جانی و مالی نقصان پہنچانے ، بلوچ چادر چار دیواری کے تقدص کی پامالی جیسے گھناونی جرائم میں براہ راست ملوث ہونے کی بنا پر سزائے موت دے دی جس پر عمل درآمد کرتے ہوئے بی ایل اے کے فائرنگ سکواڈ نے انہیں چھبیس اکتوبر کی رات آٹھ بجے قلات میں کیفر کردار تک پہنچایاہے۔

‎قمبر خان ، پسندخان اور ان کا گروہ پاکستان کی فوج اور خفیہ اداروں کی ایما اور عسکری کمک سے علاقے میں سماجی برائیوں ، چوری ڈکیتی ، لوگوں کے زمینوں پر قبضہ اور دہشت پھیلانے میں ملوث ہیں۔ رواں ماہ پندرہ اکتوبر  کو بی ایل اے کی جانب سے جب قمبر خان کے خفیہ ٹھکانے پر چھاپہ مارا گیا تو انہوں نے قابض پاکستان فوج کوہمارے سرمچاروں سے لڑنے کے لئے طلب کیا تھا۔ انہیں فوج کی طرف سے اسلحہ کا کھیپ بھی پہنچائی گئی۔ قلات اور ملحقہ علاقوں کے سنجیدہ بلوچ حلقے قمبر خان، پسند خان اور ان جیسے ریاستی آلہ کاروں کے مزموم عزائم سے بخوبی واقف ہیں۔ بی ایل اے قلات اور گرد و نواح میں تمام مقامی بلوچ عوام کو مطلع کرتی ہے کہ وہ قمبر خان ، پسند خان اور قابض فوج کی سربراہی میں چلنے والے ڈیتھ سکواڈ عناصر سے دوری اختیار کرے۔ ان کےساتھ کسی بھی قسم کی لین دین اور سہولت کاری سے گریز کریں۔ جو لوگ قمبرخان ، پسند خان کی نجی کاروبار کو تحفظ فراہم کررہے ہیں یا عسکری طور پر ان کا ڈھال بننے کی کوشش کررہےہیں وہ بھی قمبرخان کے جرم برابر کے شریک تصور ہونگے۔

‎بلوچ تحریک آزادی کا یہ پانچوں دور کامیابی سے جاری و ساری ہے۔ فتح بلوچ قوم کی ہے اور شکست دشمن کے مقدر میں لکھی جاچکی ہے ۔ بلوچ نوجوان اور ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے عوام دشمن کے عزائم کو ناکام بنانے کے لئے اپنی قومی ذمہ داریاں نبھانے میں کوتاہی نہ برتے۔ پاکستان کی قابض فوج بلوچ سرمچاروں سے بری طرح شکست و فاش سے دوچار ہوچکی ہے ۔ دشمن نے ہروقت تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی کے تحت بلوچ کوبلوچ کے خلاف استعمال کیا ۔ ماضی کے سامراجی قوتوں کی اپنائی گئی اس پالیسی کووسعت دیتے ہوئے قابض پاکستان کی فوج نے اسے بلوچستان میں تسلسل کے ساتھ جاری رکھا۔ پیسے کی ریل پیل اور سستی شہرت کے حصول کے لئے دشمن کو کچھ مہرے دستیاب ہوتے رہے لیکن تاریخ اس بات کی بھی گواہ ہے کہ جنہوں نے بھی بلوچستان کی آزادی کے خلاف بندوق اٹھائی انہیں بلوچ عوام نےاپنے صفحوں سے نکال باہر کیا۔ ایسے مسترد شدہ عناصر کو ماضی میں بلوچ تحریک مخالف عناصر کی بھیانک انجام سے سبق سیکھنا چاہیے۔ ‎

‎بلوچستان کا بچہ بچہ آج اس حقیقت سے بخوبی آشنا ہے کہ باوقار خوشحال مستقبل کا حصول صرف اور صرف آزاد بلوچستان میں ہی ممکن ہے۔ آج دشمن معاشی اعتبار سے بھی دیوالیہ پن کا شکار ہے ۔ بلوچستان میں جنگ آزادی کی شدت کی وجہ سے قابض پاکستان بلوچستان کے معدنیات کی لوٹ کھسوٹ میں مشکلات کا شکارہے۔ اپنی اس لوٹ مار اوراپنے فوجیوں کی تحفظ کے لئے پریشان دشمنکو مقامی جاسوس اور مخبروں کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔ آزادی کی تحریکوں میں قابض ریاست کے بھیجے گئے مخبر دیمک کا کام کرتے ہیں جو اندر سے نقصان پہنچانے کا باعث بنتے ہیں۔ بلوچ تحریک آزادی کو اندرونی خطرات سے محفوظ رکھنے کے لئے آپریشن گوبٹ یعنی گوئٹ کے تحت قابض دشمن کے پیرول پر چلنے والے مقامی ڈیتھ سکواڈز کا قلع قمع کرنا ناگزیر ہے۔ بلوچ تحریک آزادی کے خلاف کام کرنے والے ان عناصر کو بلوچ سماج میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

‎بی ایل اے اپنے باشعور اور باغیرت بلوچ عام سے توقع کرتی ہے کہ وہ اپنے صفحوں سے ریاستی آلہ کاروں کی نشاندہی کرے اور ان کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے انہیں دشمن کے لئے استعمال ہونے سےروکے۔ مقامی معتبرین ، بلوچ عمائدین کی قومی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے محلوں ، قصبوں اور شہروں میں نوجوانوں کو شعوری طور پر بیدار کرنے اور انہیں قابض کے لئے چند پیسوں کے عیوض استعمال ہونے جیسے جال میں پھنسنے سے خردار کرے۔ ہماری بارہا تنبہہ کے باوجود جو بھی قابض دشمن کے لئے جاسوسی اور مخبری کرتے پکڑا گیا تو وہ اپنے تمام تر نقصانات کا خود ذمہ دار ہونگے۔

‎ہماری جنگ بلوچستان کی آزادی اور قابض فورسز کی بلوچ گلزمین سے انخلا تک مزید شدت کے ساتھ جاری رہے گی۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز