واشنگٹن/ارابِیل(ہمگام نیوز) امریکی انتظامیہ عراقی کردستان ریجن کی سکیورٹی فورسز، پیشمرگہ، کے لیے جاری فوجی امداد کے معاہدے کی تجدید نہ کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اس اقدام کی صورت میں آئندہ مالی سال سے پیشمرگہ فورسز کے لیے امریکی فوجی معاونت میں نمایاں کمی یا مکمل خاتمہ ہو سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا رواں سال پیشمرگہ فورسز کے لیے تقریباً 61 ملین ڈالر کی فوجی معاونت فراہم کر رہا ہے، جس میں تربیت، سازوسامان اور دیگر سکیورٹی معاونت شامل ہے۔ موجودہ معاہدہ 30 ستمبر 2026 کو ختم ہوگیا ہے اور واشنگٹن کی جانب سے اسے دوبارہ جاری نہ کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
امریکی اقدام کو عراق میں داعش کے خلاف بین الاقوامی اتحاد کے فوجی مشن میں ہونے والی تبدیلیوں اور خطے میں امریکی فوجی موجودگی میں ممکنہ کمی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ امریکا طویل عرصے سے عراقی سکیورٹی فورسز اور پیشمرگہ کو داعش کے خلاف کارروائیوں کے لیے تربیت، اسلحہ اور دیگر فوجی معاونت فراہم کرتا رہا ہے۔
پیشمرگہ فورسز نے داعش کے خلاف جنگ میں امریکی قیادت میں قائم عالمی اتحاد کے ساتھ اہم کردار ادا کیا ہے۔ خاص طور پر 2014 کے بعد داعش کے خلاف فوجی کارروائیوں میں کرد فورسز امریکا کی اہم اتحادی رہی ہیں۔
تاہم دستیاب اطلاعات کے مطابق امریکا نے ابھی پیشمرگہ کے لیے فوجی امداد ختم کرنے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ کردستان ریجن کے حکام کی جانب سے بھی اس معاملے پر حتمی فیصلے کی عدم موجودگی کی نشاندہی کی گئی ہے۔
اگر واشنگٹن موجودہ فوجی امدادی معاہدے کی تجدید نہ کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس سے عراقی کردستان کی سکیورٹی فورسز کی تربیت، سازوسامان اور دفاعی صلاحیت پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم اس فیصلے کے عملی اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ امریکی حکومت مستقبل میں پیشمرگہ کے ساتھ کس نوعیت کا سکیورٹی تعاون برقرار رکھتی ہے۔
امریکا کی جانب سے اس ممکنہ اقدام کی حتمی تفصیلات اور اس کے دائرۂ کار کے بارے میں مزید وضاحت متوقع ہے۔















