واشنگٹن/گوانتانامو(ہمگام نیوز ) امریکی فوجی عدالت کے جج نے 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے مبینہ ماسٹرمائنڈ خالد شیخ محمد کی جانب سے 2007 میں ایف بی آئی کے تفتیش کاروں کو دیے گئے اہم بیانات کو مقدمے میں ثبوت کے طور پر استعمال کرنے سے روک دیا ہے۔
امریکی فضائیہ کے لیفٹیننٹ کرنل مائیکل شراما نے قرار دیا کہ خالد شیخ محمد کے یہ بیانات رضاکارانہ طور پر نہیں دیے گئے تھے اور ان کے حصول سے قبل سی آئی اے کی حراست میں ہونے والے مبینہ تشدد اور شدید جبر نے ان پر اثر ڈالا تھا۔
عدالت کا یہ فیصلہ امریکی فوجی استغاثہ کے لیے ایک اہم دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ 2007 میں ایف بی آئی کو دیے گئے بیانات مقدمے میں استغاثہ کے اہم شواہد میں شامل تھے۔ جج کے فیصلے کے مطابق استغاثہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ خالد شیخ محمد نے ایف بی آئی کو یہ بیانات آزادانہ اور رضاکارانہ طور پر دیے تھے۔
خالد شیخ محمد کو امریکی حکام 11 ستمبر 2001 کو امریکا میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کا مرکزی ملزم قرار دیتے ہیں۔ وہ 2003 میں گرفتار ہوئے تھے اور بعد ازاں انہیں گوانتانامو بے منتقل کیا گیا، جہاں وہ دیگر ملزمان کے ہمراہ طویل عرصے سے قید ہیں۔
اس مقدمے میں شواہد کی قانونی حیثیت، بالخصوص سی آئی اے کی خفیہ حراستی مراکز میں تفتیش کے دوران حاصل کیے گئے بیانات، گزشتہ دو دہائیوں سے اہم قانونی تنازع کا باعث رہے ہیں۔ خالد شیخ محمد اور دیگر ملزمان کے وکلا نے طویل عرصے سے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مبینہ تشدد اور جبر کے نتیجے میں حاصل کیے گئے بیانات کو عدالت میں ثبوت کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
مقدمے کی سماعت 2028 میں ہوگی
دوسری جانب امریکی فوجی جج مائیکل شراما نے رواں ہفتے خالد شیخ محمد اور تین دیگر ملزمان کے مقدمے کی سماعت کے لیے 5 جون 2028 کی تاریخ مقرر کی ہے۔ یہ مقدمہ گوانتانامو بے میں قائم امریکی فوجی عدالت میں چلایا جائے گا۔
خالد شیخ محمد کے ساتھ ولید بن عطاش، علی عبدالعزیز علی المعروف عمار البلوچی، اور مصطفیٰ احمد الحوساوی بھی مقدمے میں ملزمان ہیں۔ ان چاروں پر 11 ستمبر 2001 کے حملوں سے متعلق قتل اور دیگر سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
مقدمے کی کارروائی گزشتہ کئی برسوں سے شواہد کی قابلِ قبولیت، خفیہ حراست، مبینہ تشدد اور دیگر قانونی تنازعات کے باعث تاخیر کا شکار رہی ہے۔ جج نے استغاثہ کی جانب سے جنوری 2027 میں مقدمے کی سماعت شروع کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے 5 جون 2028 کی تاریخ مقرر کی ہے۔
استغاثہ اپیل پر غور کر رہا ہے
امریکی فوجی استغاثہ نے خالد شیخ محمد کے بیانات کو ناقابلِ قبول قرار دینے کے فیصلے کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے اور اس کے خلاف اپیل کیے جانے کا امکان موجود ہے۔ اگر استغاثہ اپیل کرتا ہے تو مقدمے کی کارروائی مزید قانونی تاخیر کا شکار ہو سکتی ہے۔
عدالت کا موجودہ فیصلہ خالد شیخ محمد کی بے گناہی کا فیصلہ نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق صرف ان مخصوص بیانات کی قانونی حیثیت سے ہے جو انہوں نے 2007 میں ایف بی آئی کے سامنے دیے تھے۔ مقدمے میں دیگر شواہد اور الزامات بدستور زیرِ سماعت رہیں گے۔
11 ستمبر 2001 کے حملوں کو تقریباً 25 برس گزرنے کے باوجود خالد شیخ محمد اور دیگر ملزمان کے خلاف مقدمے کی باقاعدہ سماعت ابھی تک شروع نہیں ہو سکی۔ نئی عدالتی پیش رفت کے بعد بھی مقدمے کا آغاز مزید قانونی کارروائیوں اور ممکنہ اپیلوں سے مشروط ہے۔















