واشنگٹن (ھمگام نیوز ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل داغنے پر رد عمل میں تہران سے کشیدگی ختم کرنے اور مذاکرات میں واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔ ٹرمپ نے فوکس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ میزائلوں کا یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے اور اب وقت ہے کہ ایران مذاکرات کی میز پر آ کر معاہدہ کرے۔ انہوں نے واشنگٹن اور ایران کے درمیان معاہدے کے امکان ظاہر کیے، تاہم ساتھ ہی بیروت پر اسرائیلی حملے پر نا پسندیدگی کا اظہار کیا۔ امریکی ویب سائٹ axios کے مطابق ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے بات کر کے انہیں مزید جوابی کارروائی سے روکنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی اہداف پر ایرانی حملوں نے لبنان میں جنگ بندی کی امریکی کوششوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اسرائیل نے بیروت کے جنوبی مضافات میں کارروائی کی، جبکہ ایران کا موقف ہے کہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی امن معاہدے میں لبنان میں جنگ بندی شامل ہونی چاہیے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکی اڈے اور اسرائیلی مفادات اب جائز اہداف ہیں، کیونکہ یہ فریقین صرف طاقت کی زبان سمجھتے ہیں۔

ایرانی رکن پارلیمنٹ ابراہیم رضائی نے لبنانی محاذ پر حملوں کا “فیصلہ کن جواب” دینے کی دھمکی دی، جس کے جواب میں اسرائیل نے کہا کہ وہ اپنی سرزمین پر ہر حملے کا جواب دینے اور اسے اپنی فوجی مہم کی تجدید کا موقع سمجھنے میں حق بجانب ہے۔

واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری یہ کشیدگی فروری میں شروع ہوئی تھی، جس کے بعد سے ٹرمپ نے ایران پر فضائی حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر جلد معاہدہ نہ ہوا تو وہ ایران کو تباہ کر دیں گے۔ اس وقت آبنائے ہرمز میں کشیدگی عروج پر ہے جہاں ایران نے جہاز رانی روک رکھی ہے اور امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ کر رکھا ہے۔ امریکی افواج نے ہفتے کے روز ہرمز میں ایرانی ریڈار تنصیبات پر حملے کیے، جس کے جواب میں پاسداران انقلاب نے کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔

ٹرمپ نے واضح کیا کہ کسی بھی معاہدے کے لیے ضروری ہے کہ ایران جوہری ہتھیاروں سے دست بردار ہو۔ تہران اپنے مطالبات میں پابندیوں کے خاتمے، آبنائے ہرمز پر اپنے اثر و رسوخ کی منظوری اور منجمد اثاثوں کی بحالی پر اصرار کر رہا ہے۔ اس حوالے سے ایک امریکی ذریعے نے تجویز دی کہ ایران کے اثاثے خلیجی ممالک کو دیے جائیں تاکہ ایران کے حملوں سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ ہو سکے، تاہم ایران نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اثاثے واشنگٹن کی جنگی غنیمت نہی

ں ہیں۔