دوشنبه, مارچ 9, 2026
Homeخبریںایران بلوچ قومی شناخت مٹانے کے لیے مختلف حربے استعمال کر رہا...

ایران بلوچ قومی شناخت مٹانے کے لیے مختلف حربے استعمال کر رہا ہے ایف بی ایم

لندن (ہمگام نیوز) فری بلوچستان موومنٹ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران مقبوضہ بلوچستان میں بلوچ قومی شناخت اور غیرت پر حملہ آور ہے ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے علاقے چابہار میں ایرانی پولیس کے ہاتھوں
بلوچ بیٹی کی عصمت دری اس کی تازہ ترین مثال ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔
بلوچ قوم کو یہ بات ذہن نشین کرنی چاہیے کہ ایران ایک قابض اور دشمن ملک ہے، کوئی بھی قابض کسی قوم کو ترقی دینے کے لیے اس کی زمین پر قبضہ نہیں کرتا بلکہ وہ مقبوضہ سرزمین پر موجود خزانوں کو لوٹنے اور ساحل و وسائل کے لیے قبضہ کرتا ہے قابض اور مقبوضہ قوم کے درمیاں صرف غلامی کے سوا کچھ اور رشتہ نہیں ہوتا مقبوضہ قوم کی عزت و ناموس اس دن داؤ پر لگ جاتی ہے جب کوئی دوسری قوم سے تعلق رکھنے والے اس کی سرزمین پر قبضہ کرتے ہیں۔
ایران نے بلوچستان پر قبضہ کرتے ہی بلوچ قوم کے خلاف ظلم کے پہاڑ توڑنے شروع کیے بلوچ نوجوانوں کو منشیات کے نام پر گرفتار کیا گیا، اور آج بھی مختلف حیلے بہانوں سے ایرانی قبضہ گیر بلوچ فرزندانِ وطن کو گرفتار کرکے ان پر کئی کئی سالوں تک عقوبت خانوں میں ٹارچر کیے جاتے ہیں اور پھر سر عام پھانسی دی جاتی ہے ـ

اسی طرح اب قابض ایرانی پولیس اور فورسز بلوچ عورتوں کو پولیس اسٹیشنوں میں تحقیقات کے نام پر بلا کر ان کی عصمت دری کر رہی ہے، ویسے تو یہ قبیح عمل بلوچ عورتوں کے خلاف دہائیوں سے جاری ہے لیکن ابھی سوشل میڈیا کی تشہیر اور اطلاعات کی جلد اور عام رسائی کی وجہ سے یہ باتیں بر وقت منظر عام پر آ رہی ہیں ـ
علاوہ ازیں ایف بی ایم نے مھسا امینی کی ایرانی پولیس تحویل میں قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے گزشتہ جمعے کے روز مہھسا نامی کرد خاتون کو حجاب نہ پہننے کی وجہ سے گرفتار کر کے اس پر تشدد کر کے اسے قتل کیا بلوچ و کرد خواتین پر ایرانی تشدد ایران کی بوکھلاہٹ کو ظاہر کر رہا ہے ایران بلوچ، کرد اور آلاحوازی کی آزادی کی صدا کو خاموش کرنے کے لیے ایسے گھناونی ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے ـ

بیان میں مزید کہا گیا کہ قابض جو بھی ہو جہاں بھی ہو وہ مقبوضہ عوام کے ساتھ یہی کرتا ہے، چاہے ایران ہو یا پا کستان دونوں قابض قوتوں کو بلوچ قوم کی زمین اور ساحل و وسائل سے سروکار ہے وہ بلوچ قوم کو مخلتف حربوں کے ذریعے اپنے ہی ملک بلوچستان میں آبادکاری کے ذریعے اقلیت میں تبدیل کر رہی ہیں ـ
ایران مقبوضہ بلوچستان کے نام کو ختم کرنے کے لیے گزشتہ ایک عشرے سے مختلف طریقوں سے کاربند ہے بلوچستان کے علاقوں کی نام تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے مختلف علاقوں کو انتظام کے نام پر ایرانی علاقوں میں شامل کر رہا ہے اور بلوچ قوم کو ایرانی مقبوضہ بلوچستان میں بلوچی نام تک رکھنے کی جازت نہیں ہے ـ

فری بلوچستان موومنٹ نے کہا کہ بلوچ قوم کو سمجھنا چاہیے کہ قابض سے انصاف کی امید نہیں رکھی جاتی بلکہ اپنی مادر وطن کو قبضے سے وا گزار کرنے کے لیے اس کے خلاف متحد ہو کر جدوجہد کی جاتی ہے بلوچ قوم کو چاہیے کہ ایران و پاکستان کے قبضہ سے بلوچستان کو چھڑانے کے لیے جدوجہد میں شامل ہوجائیں اور اس بات پر یقین رکھیں کہ آزاد بلوچستان ہی بلوچ قومی غیرت، حمیت اور ننگ و ناموس کی ضمانت دے سکتا ہے ـ

یہ بھی پڑھیں

فیچرز