تہران /زاہدان(ہمگام نیوز) انسانی حقوق کی تنظیم ہەنگاو کے مطابق، جولائی 2026 کے دوران ایران کی مختلف جیلوں میں کم از کم 67 قیدیوں کو سزائے موت دے کر پھانسی دی گئی، جن میں 9 سیاسی و مذہبی قیدی بھی شامل ہیں۔
ہەنگاو کے اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں پھانسیوں کی تعداد میں کم از کم 29 کیسز، یعنی تقریباً 30 فیصد کمی ہوئی ہے۔ جولائی 2025 میں ایران کی جیلوں میں کم از کم 96 قیدیوں کو پھانسی دی گئی تھی۔
ہەنگاو کے اعداد و شمار اور دستاویزات مرکز میں درج معلومات کے مطابق، جولائی 2026 میں ایران کی مختلف جیلوں میں کم از کم 67 قیدیوں کی سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ پھانسی دیے گئے تمام 67 قیدیوں کی مکمل شناخت اس کے لیے معلوم اور تصدیق شدہ ہے۔
دو خواتین اور ایک کم عمر بلوچ قیدی بھی پھانسی پانے والوں میں شامل
رپورٹ کے مطابق، گزشتہ ماہ ایران کی جیلوں میں دو خواتین کو بھی پھانسی دی گئی۔
جہرُم سے تعلق رکھنے والی ستایش محمدپور کو منشیات سے متعلق جرائم کے الزام میں شیراز جیل میں، جبکہ یاسوج سے تعلق رکھنے والی اعظم گرامی کو قتل عمد کے الزام میں یاسوج جیل میں پھانسی دی گئی۔
اسی دوران میثم ایرندگانی نامی 18 سالہ بلوچ قیدی کو بھی پھانسی دی گئی۔ ہەنگاو کے مطابق میثم نے مبینہ جرم اس وقت کیا تھا جب اس کی عمر 16 سال تھی۔
ہەنگاو کے مطابق جولائی میں پھانسی دیے گئے 67 قیدیوں میں سے صرف 8 کیسز، یعنی مجموعی تعداد کے 12 فیصد کی اطلاع ایران کے سرکاری ذرائع اور عدلیہ سے وابستہ ویب سائٹس نے دی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 7 قیدیوں کو خفیہ طور پر پھانسی دی گئی، جن کے اہل خانہ کو پیشگی اطلاع نہیں دی گئی اور انہیں آخری ملاقات کا حق بھی نہیں دیا گیا۔ جبکہ دو قیدیوں کو سرعام پھانسی دی گئی۔
9 سیاسی و مذہبی قیدیوں کو پھانسی
ہەنگاو کے مطابق، جولائی 2026 کے دوران کم از کم 9 سیاسی و مذہبی قیدیوں، جن میں دی ماہ ( 22 دسمبر 2022 تا 20 جنوری 2023 تک) احتجاجی تحریک اور ’’ژن، ژیان، ئازادی‘‘ تحریک کے دوران گرفتار کیے گئے افراد بھی شامل تھے، کو محاربہ، جاسوسی اور دیگر الزامات کے تحت پھانسی دی گئی۔
ان کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
1. محی الدین عبداللہی، ایک کرد مذہبی قیدی اور جوانرود کے رہائشی، کو 14 جولائی 2026 کو کرمانشاہ کی مرکزی جیل میں پھانسی دی گئی۔
2. حسین پالانی جاف، کرد مذہبی قیدی اور سرپل ذهاب کے رہائشی، کو 14 جولائی 2026 کو کرمانشاہ کی مرکزی جیل میں پھانسی دی گئی۔
3. محمد امینی دہقانی، دی ماہ احتجاج کے دوران گرفتار کیے گئے افراد میں شامل تھے۔ انہیں 15 جولائی 2026 کو اصفہان کی مرکزی جیل میں پھانسی دی گئی۔
4. عارف خوشکار، ’’ژن، ژیان، ئازادی‘‘ تحریک کے دوران گرفتار ہوئے تھے۔ انہیں 15 جولائی 2026 کو کرج کی قزل حصار جیل میں پھانسی دی گئی۔
5. عرفان اسفندیاری، دی ماہ احتجاج کے دوران گرفتار ہوئے تھے۔ انہیں 19 جولائی 2026 کو اصفہان کی مرکزی جیل میں پھانسی دی گئی۔
6. گل محمد محمدی، افغانستان کے شہری اور دی ماہ احتجاج کے دوران گرفتار کیے گئے افراد میں شامل تھے۔ انہیں 19 جولائی 2026 کو اصفہان کی مرکزی جیل میں پھانسی دی گئی۔
7. مہدی خانکی کو اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں 22 جولائی 2026 کو کرج کی قزل حصار جیل میں پھانسی دی گئی۔
8. ابوالفضل سپاہی، دی ماہ احتجاج کے دوران گرفتار ہوئے تھے۔ انہیں 28 جولائی 2026 کو اصفہان شہر میں سرعام پھانسی دی گئی۔
9. امیر حسین صفری، دی ماہ احتجاج کے دوران گرفتار ہوئے تھے۔ انہیں 28 جولائی 2026 کو اصفہان شہر میں سرعام پھانسی دی گئی۔
الزامات کے اعتبار سے پھانسیوں کی تفصیل
ہەنگاو کے مطابق جولائی 2026 میں سب سے زیادہ پھانسی قتل عمد کے الزام میں گرفتار قیدیوں کو دی گئی۔ ایسے کیسز کی تعداد 35 تھی، جو مجموعی تعداد کا تقریباً 52 فیصد بنتی ہے۔
– سیاسی، مذہبی اور جاسوسی کے الزامات: 9
– قتل عمد کے الزامات: 35
– منشیات سے متعلق جرائم: 22
– جنسی زیادتی کے الزام: 1
قومی اور نسلی اقلیتوں کے اعتبار سے تفصیل
ہەنگاو کے مطابق جولائی 2026 کے دوران ایران کی مختلف جیلوں میں کم از کم 22 فارسی قیدیوں کو پھانسی دی گئی، جو مجموعی تعداد کا 33 فیصد بنتے ہیں۔
اس کے علاوہ 10 کرد، 10 ترک، 6 لر اور 5 بلوچ قیدیوں کو بھی پھانسی دی گئی۔
– کرد قیدی: 10
– ترک قیدی: 10
– بلوچ قیدی: 5
– لر قیدی: 6
– گیلک اور مازندرانی قیدی: 5
– ترکمان قیدی: 2
– عرب قیدی: 1
– فارسی قیدی: 22
– افغانستان کے شہری: 1
– ہەنگاو کے مطابق جن کی نسلی شناخت کی تصدیق نہیں ہوسکی: 5
صوبوں کی جیلوں کے اعتبار سے پھانسیوں کی تفصیل
ہەنگاو کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2026 میں سب سے زیادہ سزائے موت پر عمل درآمد اصفہان صوبے کی جیلوں میں ہوا، جہاں 10 قیدیوں کو پھانسی دی گئی۔
مجموعی طور پر ایران کے 24 صوبوں میں سزائے موت پر عمل درآمد کے کیسز ریکارڈ کیے گئے۔ اصفہان کے بعد مشرقی آذربائیجان اور فارس کے صوبوں میں سب سے زیادہ پھانسیاں ریکارڈ ہوئیں، جہاں ہر صوبے میں 8، 8 قیدیوں کو پھانسی دی گئی۔
تفصیلات:
– اصفہان کی جیلیں: 10
– مشرقی آذربائیجان اور فارس کی جیلیں: 8، 8
– البرز صوبے کی جیلیں: 6
– لرستان، گلستان، سمنان، مازندران، ارومیہ (مغربی آذربائیجان) اور رضوی خراسان کی جیلیں: ان تمام جیلوں میں تین تین قیدی ،
– کرمانشاہ، بلوچستان، زنجان اور شمالی خراسان کی جیلیں: ان علاقوں کے تمام جیلوں میں دو دو قیدیوں کو پھانسی دے دی گئی ۔
– کردستان (سنندج)، ہمدان، گیلان، کرمان، کہگیلویہ و بویراحمد، قزوین، خوزستان، اردبیل اور ایلام کی جیلیں: ان تمام علاقوں کے جیلوں میں ایک ایک قیدی کو پھانسی دے دی گئی
ہەنگاو کے مطابق یہ اعداد و شمار ان کیسز پر مبنی ہیں جنہیں تنظیم نے ریکارڈ اور تصدیق کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ایران میں سزائے موت پر عمل درآمد کے ایسے مزید کیسز بھی ہوسکتے ہیں جن کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔















