راسک(ہمگام نیوز ) منگل، 4 اگست 2026 کی صبح راسک کے دوراہی جنگل کے علاقے میں ایندھن لے جانے والی ایک ٹویوٹا لینڈ کروزر گاڑی الٹنے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آ گئی، جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار دو افراد جھلس کر جاں بحق ہوگئے۔
ذرائع کے مطابق گاڑی الٹنے کے فوراً بعد اس میں شدید آگ بھڑک اٹھی۔ آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ گاڑی میں سوار دونوں افراد کو باہر نکلنے کا موقع نہیں مل سکا اور وہ جائے وقوعہ پر ہی جان کی بازی ہار گئے۔
ذرائع کو موصول ہونے والی ایک ویڈیو میں الٹی ہوئی اور آگ سے جلتی گاڑی دیکھی جا سکتی ہے۔ ویڈیو میں جاں بحق افراد کی لاشوں کے انتہائی دلخراش مناظر بھی موجود ہیں۔
رپورٹ کے وقت تک جاں بحق ہونے والے دونوں بلوچ ایندھن برداروں کی شناخت اور گاڑی الٹنے کی اصل وجہ معلوم نہیں ہوسکی تھی۔
ایرانی مقبوضہ بلوچستان میں روزگار کے مواقع کی شدید کمی کے باعث ایندھن برداری، جسے مقامی طور پر سوختبری کہا جاتا ہے، بہت سے بلوچ شہریوں کے لیے مجبوری میں روزی کمانے کا واحد ذریعہ بن چکی ہے۔ یہ ایک انتہائی خطرناک کام ہے، جس کے دوران ہر سال متعدد ایندھن بردار سڑک حادثات، گاڑیوں میں آگ لگنے، تعاقب و گریز اور قابض ایرانی سکیورٹی فورسز کی فائرنگ کے واقعات میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔


