تحریر: سنگت نوشکلی
شہید بشیر بلوچ عرف جلت نے 2017 میں بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) میں شمولیت اختیار کی اور اپنے ہم فکر ساتھیوں کے ساتھ بلوچ قومی آزادی کی جدوجہد میں عملی کردار ادا کیا۔ وہ ایک باکردار، مخلص اور باہمت نوجوان تھے میری ان سے پہلی ملاقات بولان میں ہوئی، جہاں ان کی سادگی، خلوص اور قومی وابستگی نے مجھے بے حد متاثر کیا
شہید بشیر بلوچ نے بولان، زامران، تمپ، تربت، ہرنائی اور دکی سمیت مختلف علاقوں میں اپنی قومی ذمہ داریاں سرانجام دیں۔ انہوں نے ایک سال سے زائد عرصے تک اپنے آبائی علاقے میں شہری گوریلا سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ جب ریاست کی جانب سے انہیں مطلوب قرار دیا گیا تو انہوں نے بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں کا رخ کیا اور عملی مزاحمت کا حصہ بن گئے
وہ نہایت دلیر اور ثابت قدم ساتھی تھے۔ میدانِ جنگ میں قابض قوتوں کے خلاف ہمیشہ پیش پیش رہے۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے
“اگر ہم خود اپنی قومی شناخت اور آزادی کے لیے میدانِ عمل میں نہ آئیں تو دشمن ہماری شناخت کو ہمیشہ کے لیے مٹا دے گا
شہید بشیر اپنے فرائض انتہائی دیانت داری اور خلوص کے ساتھ انجام دیتے تھے۔ وہ ساتھیوں کو تلقین کرتے تھے کہ آزادی کی جدوجہد میں اٹھایا گیا ہر قدم ایمانداری اور قربانی کے جذبے کے ساتھ ہونا چاہیے ان کا کہنا تھا
“اگر ہم آج اخلاص اور دیانت داری کے ساتھ آزادی کی جدوجہد نہ کریں تو ہماری آنے والی نسلیں بھی غلامی کی زنجیروں میں جکڑی رہیں گی۔ دشمن ہمیں ہمیشہ غلام رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، اس لیے ہمیں ہر لمحہ بلوچستان کی آزادی کے لیے جدوجہد جاری رکھنی ہوگی
بولان میں ایک موقع پر وہ تقریباً سترہ ساتھیوں کے ہمراہ گشت پر تھے۔ ان کے ساتھ شہید کمانڈر قادر بخش، شہید وحید، شہید بابل اور شہید دوستین بھی موجود تھے اسی دوران ساتھی بارودی مواد تیار کر رہے تھے کہ اچانک ڈیٹونیٹر پھٹنے کی آواز آئی۔ شہید وحید نے فوراً آواز دی کہ سنگت بشیر زخمی ہو گئے ہیں۔
علاقے میں کوئی ڈاکٹر موجود نہیں تھا، چنانچہ شہید دوستین دو ساتھیوں کے ساتھ انہیں محفوظ مقام پر لے گئے اور کچھ ادویات اور درد کش انجیکشن کا انتظام کیا۔ خوش قسمتی سے ایک ساتھی ڈاکٹر اوتک میں موجود تھا، جس نے ان کا علاج کیا۔ چند دنوں کے بعد ان کے زخم بھر گئے اور وہ دوبارہ ساتھیوں کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں میں شامل ہو گئے زخمی ہونے کے باوجود ان کا حوصلہ بلند رہا اور وہ مسلسل ساتھیوں کو آزادی کی راہ میں ثابت قدم رہنے کی تلقین کرتے رہے۔
شہید بشیر بلوچ مختلف ہتھیاروں کے استعمال میں مہارت رکھتے تھے۔ انہوں نے کبھی یہ شکوہ نہیں کیا کہ کوئی ہتھیار بھاری ہے یا اسے اٹھانا مشکل ہے۔ وہ “بلبل” چلانے میں خاص مہارت رکھتے تھے۔ بولان میں انہوں نے ایک سال سے زائد عرصے تک اس بھاری ہتھیار کو اپنے کندھوں پر اٹھائے رکھا اور دشمن کے مورچوں کو نشانہ بنایا۔ آج بھی بولان کے کئی مورچوں پر ان کی گولیوں کے نشانات موجود ہیں
آج بھی بولان کی ہوائیں ان کی آواز کو تلاش کرتی ہیں۔ آج بھی بولان ان کی میٹھی باتوں اور مسکراہٹوں کا دیوانہ ہے۔ آج بھی وطن کے فرزند ان کی کمی شدت سے محسوس کرتے ہیں۔ شہید بشیر بلوچ صرف ایک فرد نہیں تھے، بلکہ عزم، قربانی، بہادری اور قومی وفاداری کی ایک روشن مثال تھے، جن کی یاد ہمیشہ آزادی کے متوالوں کے دلوں میں زندہ رہے گی ۔















