تحریر ۔ سلام سنجر
جنگ آزادی کی تحریکوں میں بہت سارے مسائل کے ساتھ ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ کارکنان و رہنما جب تھک جاتے ہیں ، بیزار ہو جاتے ہیں وہ یہ سوچ کر آتے تحریک میں شامل ہو جاتے ہیں کہ بہت جلد ہم منزل مقصود کو پہنچ جاتے ہیں جب ان کے ارادوں کے برعکس چیز الٹ پلٹ جاتی ہیں تو وہ تھک کر یہ سوچتے ہیں کہ اب ہم سے تحریک کا بوجھ برداشت نہیں ہوتا اس لیے اس بوجھ کو کندھوں پر اتارنے کے مختلف راہیں ہموار کرنے لگتے ہیں تاکہ فرار کی راہ آسان اور ممکن ہو جائے ۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی قومی تحریک اپنی منزل کے قریب پہنچتی ہے تو اس کا سب سے بڑا امتحان دشمن کی طاقت نہیں، بلکہ اپنے لوگوں کی ثابت قدمی ہوتی ہے ۔ جدوجہد کے ابتدائی دنوں میں نعرے لگانا، جذبات کا اظہار کرنا اور قربانیوں کے دعوے کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے، مگر جیسے جیسے فیصلہ کن مراحل قریب آتے ہیں، بہت سے لوگ راستے سے ہٹنے لگتے ہیں ۔ بہت سے ہٹنے سے کئی الزامات لگا کر ہٹ جاتے ہیں ۔
کچھ لوگ تھکن کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ کچھ خوف کے باعث خاموشی اختیار کر لیتے ہیں ۔ کچھ اختلافات کو ہوا دے کر صفوں میں تقسیم پیدا کرتے ہیں ۔ اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی سابقہ وابستگی اور حلف کو محفوظ رکھتے ہوئے خاموشی کی ایسی راہ تلاش کرتے ہیں کہ کل ان سے کوئی یہ سوال نہ پوچھ سکے کہ جب تحریک کو آپ کی سب سے زیادہ ضرورت تھی، تب آپ کہاں تھے؟ آپ نے کیوں راہ سے بے راہ ہوگئے ۔
یہ خاموشی محض آرام کی خواہش نہیں ہوتی، بلکہ بعض اوقات اپنی ساکھ بچانے کی ایک کوشش بن جاتی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ کل تاریخ انہیں بھی تحریک کے ساتھیوں میں شمار کرے، لیکن آج ان سے کوئی قربانی یا ذمہ داری نہ مانگی جائے ۔ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ ان کے ماضی کے نعروں، وعدوں اور شہیدوں کے نام پر کھائی گئی قسموں کا کوئی حساب نہ لیا جائے ۔ وہ شہید جو وہ ان کے ہمراہ و ہم منزل ہونے کی قسم ایک ساتھ کھائی تھی ۔
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ آزادی کی تحریکیں صرف میدان جنگ میں نہیں جیتیں جا سکتی ہیں ، بلکہ عزم، صبر اور مسلسل استقامت سے کامیاب ہوتی ہیں ۔ آزادی کا راستہ طویل ضرور ہوتا ہے مگر اس کی آخری منزل اکثر سب سے زیادہ کٹھن ثابت ہوتی ہے ۔ یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں بہت سے لوگ تھک کر رک جاتے ہیں اور بہت کم لوگ آخری قدم تک ساتھ نبھاتے ہیں ۔ جو تھک کر رک جاتے ہیں میرے خیال میں اچھی بات ہے بشرطیکہ وہ خاموشی سے کنارے کر لیتے ہیں لیکن کچھ ایسے بھی افراد تحریک آزادی میں شامل ہوتے ہیں جو کہ تھک جاتے ہیں یا ان کی خواہشات کے برعکس چیزیں الگ روپ دھار لیتے ہیں تو وہ نہ صرف بدگمانی پیدا کرکے بھاگنے کا راستہ اختیار کرتے بلکہ وہ یہ بھی عمل کر جاتے ہیں کہ بھاگتے بھاگتے وقت کوئی انہیں پیچھے سے کسی شہید یا زمین کا واسطہ نہ دے انہیں کوئی عہد و پیمان کا واسطہ نہ دے وہ جاتے ہوئے کئی ایسے عمل کر جاتے ہیں جس سے تحریک نقصان پہنچ جائے وہ تقسیم کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ اس تقسیم میں ہمارے کرتوت دب کر نشیب میں جائے لوگ اس تقسیم کو لے کر بحث و مباحثہ کرتے ہوئے زخم چاٹتے رہیں کیونکہ قومی تقسیم کا زخم صدیوں تک مندمل نہیں ہو سکتا ہے ۔ اس کی مثال رند و لاشار کی جنگ کے بعد کی تقسیم ہے بھلے ہی چاکر و گوھرام نے بلوچی میارجلی کے لیے یعنی اپنے کوڈز آف کنڈکس کو فالو کرتے ہوئے آپس میں لڑ پڑے لیکن اس لڑائی نے بلوچوں کی وحدت کو پارہ پارہ کر دیا ۔
دنیا میں ایسے کئی مثالیں پائی جاتے ہیں جو کہ تحریکوں میں کون ثابت قدیم رہا اور کون پیچھے ہٹ گیا ۔
جنوبی افریقہ میں نسل پرستی کے خلاف طویل جدوجہد کے دوران ہزاروں کارکن راستے میں مایوس ہوئے، مگر چند لوگوں کی استقامت نے تاریخ کا رخ بدل دیا۔ نیلسن منڈیلا نے کہا تھا:”یہ ہمیشہ ناممکن دکھائی دیتا ہے، جب تک کہ وہ ہو نہ جائے۔”
اسی طرح مہاتما گاندھی نے کہا تھا:
“پہلے وہ تمہیں نظر انداز کریں گے، پھر تم پر ہنسیں گے، پھر تم سے لڑیں گے، اور آخرکار تم جیت جاؤ گے۔”
آئرلینڈ کی آزادی کی جدوجہد، الجزائر کی تحریک آزادی، ویتنام کی مزاحمت، اور دنیا کی متعدد قومی تحریکوں کی تاریخ یہی سبق دیتی ہے کہ فیصلہ کن مرحلے پر اتحاد، برداشت اور ثابت قدمی سب سے بڑی طاقت ہوتے ہیں ۔ بھگت سنگھ نے لکھا تھا: “انقلاب کی تلوار خیالات کی سان پر تیز ہوتی ہے۔”
یہ الفاظ یاد دلاتے ہیں کہ تحریکیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ نظریے، شعور اور مسلسل وابستگی سے زندہ رہتی ہیں۔
فرانز فینن، جنہوں نے نوآبادیاتی نظام کے خلاف جدوجہد پر گہرا اثر چھوڑا، لکھتے ہیں کہ آزادی صرف قبضے کے خاتمے کا نام نہیں بلکہ ایک ایسی مسلسل ذمہ داری ہے جس میں قوم کو اپنی صفوں کو مضبوط رکھنا پڑتا ہے۔ جبکہ ویکلاو ہیول نے کہا تھا:
“امید یہ یقین نہیں کہ کوئی کام ضرور کامیاب ہوگا، بلکہ یہ یقین ہے کہ وہ کام اپنی اصل میں درست ہے، چاہے نتیجہ کچھ بھی ہو۔”
اسی لیے ہر قومی تحریک میں ایک ایسا وقت ضرور آتا ہے جب انسان کو اپنے آپ سے سوال کرنا پڑتا ہے کہ کیا وہ تاریخ کا تماشائی بنے گا یا اس کا کردار بنے گا ؟ یہ حقیقت بھی تسلیم کرنی چاہیے کہ ہر انسان تھکتا ہے ۔ تھکن انسانی فطرت ہے مگر تھکن اور دستبرداری ایک ہی چیز نہیں ہیں ۔ وقتی آرام لینا اور خاموشی سے ہمیشہ کے لیے کنارہ کش ہو جانا، دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔ جو لوگ وقتی وقفے کے بعد پھر اپنی قوم کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں تاریخ ان کے عزم کو یاد رکھتی ہے ۔ لیکن جو لوگ اپنی ذمہ داری سے فرار کو حکمت کا نام دیتے ہیں، بہانے تراشتے ہیں ، الزامات عائد کرتے ہیں تقسیم کی کوشش کرتے ہیں عوام میں بدگمانی پیدا کرتے ہیں ، ان کے بارے میں تاریخ اکثر خاموش رہتی ہے ۔
کسی بھی قومی تحریک کی اصل قوت صرف اس کے قائدین نہیں ہوتے، بلکہ وہ عام کارکن ہوتے ہیں جو شہرت، منصب یا ذاتی فائدے کے بغیر مسلسل اپنا کردار ادا کرتے ہیں ۔ انہی کے صبر، قربانی اور استقامت سے قوموں کی تقدیر بدلتی ہے ۔
اس لیے جب آزادی کی منزل قریب محسوس ہونے لگے تو سب سے زیادہ ضرورت اتحاد، برداشت، باہمی اعتماد اور مستقل مزاجی کی ہوتی ہے ۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب دشمن صفوں میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے اور کمزور ارادوں کو خاموشی، مایوسی یا اختلاف کے پردے میں چھپا دیتا ہے ۔
بلوچ سماج میں یہی چل رہا ہے چاہے وہ اآزادی کی تحریک کے دعویدار تنظیمیں ہوں ، پارلیمانی تنظیم، سمیت بلوچستان کے ادبی ، سماجی ، صحافتی،وکلا کی تنظیموں ہوں حتی کہ بلوچستان کے دینی و مذہبی جماعتیں بھی بالکل ایسا ہی ہیں اس مراد بکھرے ہوئے ہیں اور مزید انتشارات کا بھی انتظام کر رہے ہیں ۔
بلوچستان کے سماج کو انگریزوں نے اس طرح تقسیم کر دیا کہ ہر نئی جماعت بلوچستان میں بننے سے پہلے اپنے انتشار کے ساز و سامان خود ہی تیار کر لیتا ہے سیاسی جماعتیں تو دور کی بات ہیں اگر کوئی نیا ادبی تنظیم بلوچستان میں بن جائے تو اسے تقسیم کیا جاتا ہے یا اس تنظیم کے ارکان کی آپسی چپقلش اور ڈیڈھ انچ کی مسجد بنانے کی تگ و دو بکھر جاتا ہے ۔
آخرکار تاریخ صرف یہ نہیں
پوچھتی کہ کس نے آزادی کا نعرہ لگایا تھا، بلکہ یہ بھی پوچھتی ہے کہ جب فیصلہ کن وقت آیا تو کون ثابت قدم رہا، کس نے اپنے عہد کو نبھایا، اور کون خاموشی کے پردے میں گم ہو الزامات کا بوچھاڑ کرکے بھاگ نکلا ۔
قومیں نعروں سے نہیں، بلکہ آخری سانس تک اپنے عہد پر قائم رہنے والے لوگوں سے آزاد ہوتی ہیں۔اگر آپ اسے بلوچستان کی قومی جدوجہد کے تناظر میں ایک زیادہ ادبی، فلسفیانہ اور تاریخی مضمون بنانا چاہتے ہیں، تو اسے مزید مؤثر انداز میں وسعت دی جا سکتی ہے۔















