کوئٹہ ( ہمگام نیوز ) گزشتہ کئی مہینوں سے جاری رہنے والے طوفانی بارشوں اور سیلاب کے بعد بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ نصیر آباد ڈویژن میں ملیریا ، جلد اور سانس کے امراض کے پھیلاؤ میں تیزی مختلف بیماریوں کے ساڑھے پانچ ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں ، جبکہ تین اضلاع میں ڈینگی کے 37 کیسز بھی رپورٹ ہوئے ۔
محکمہ صحت بلوچستان کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ نصیر آباد ڈویژن کے اضلاع نصیر آباد ، جھل مگسی ، صحبت پور ، ڈیرہ مراد جالی اور ضلع لسبیلہ سے مختلف امراض کے مجموعی طور پر 5574 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں ۔ بلوچستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سانس لینے کی بیماریوں کے 1660 ، جلد کے امراض کے 1467 ، ملیریا کے 1075 ، اسہال کے 875 ، آنکھوں کے انفکیشن کے 386 ، ہیضہ کے 191 کیںسز رپورٹ
ہوئے ہیں ۔
محکمہ صحت کے حکام کے مطابق بلوچستان میں بچوں میں امراض کے پھیلاؤ کی شرح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے گذشتہ 24 گھنٹوں میں بچوں میں اسہال کے 408 ، ہیضہ کے 144 ، سانس لینے کی تکالیف کے 615 ، جلد کے 549 ، آنکھوں کے انفکیشن کے 188 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں 21 ستمبر سے اب تک 38 ہزار 476 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جبکہ گذشتہ روز 23 میڈکل کیمپیں لگائے گئے جن میں ساڑھے پانچ ہزار سے زائد مریضوں کو طبی سہولیات مہیا کی گئیں ۔ علاوہ ازیں بلوچستان کے تین اضلاع میں ڈینگی کے 37 نئے کیسز رپورٹ رواں ہفتے کیسز کی تعداد 95 ہوگئی ۔ محکمہ صحت بلوچستان کے ڈینگی وائرس کے پھیلاؤ سے متعلق جاری کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ روز بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں ڈینگی کے 16 ، کچی میں 13 جبکہ گوادر میں 8 کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد رواں ہفتے رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد 95 ہوگئی ہے ۔
اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان میں اس سال کے 3364 کیسز رپورٹ ہوئے چکے ہیں ۔
واضح رہے کہ یہ سب سرکاری اعدادوشمار ہیں لیکن زمینی حقائق اور علاقائی ذرائع سے پتہ چلتا ہے کہ سیلاب کے بعد بلوچستان کی حالت انتہائی خراب ہے وبائی امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں سرکاری سطح پر مخصوص جگہوں پر میڈیکل کیمپ اس تک لگائے گئے ہیں کہ چند مریضوں کو طبی امداد دینے کے بعد دیگر مریضوں کو سرکاری عملے چھوڑ کر خانہ پری کے لیئے ایک آدھ بیان میڈیا میں دیتے ہیں ـ


