لندن(ہمگام نیوز)۔ فری بلوچستان موومنٹ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستانی مقبوضہ بلوچستان کے علاقے گدر سوراب میں عام بلوچ آبادیوں پر ہونے والی پاکستانی ائیر فورس کی طرف سے جدید جنگی طیاروں کے زریعے وحشانیہ فضائی بمارمنٹ نے یہ ثابت کردیاہے کہ قابض پاکستان بلوچ قومی تحریک آزادی کی مقبولیت سے خائف ہوکر ایک بار پھر سے نہتے بلوچوں پر آتش و آہن کی برسات کررہی ہے اور نہتے بلوچ بچوں و خواتین پر اس فضائی جارحیت نے ایک بار پھر سے ایرانی و پاکستانی قابضین کے جانب سے چمالنگ میں کی گئی جارحیت کے یادیں تازہ کردی ہیں۔

آج سے تقریباً باون سال قبل، 1974 میں، چمالنگ کے علاقے میں پاکستانی فوج نے بلوچ مزاحمتی تحریک کے خلاف ایک بڑی فوجی کارروائی کی۔ اس وقت ایران کے شاہی نظام نے بھی پاکستان کی فوجی مدد کی۔ تاریخی مطالعات کے مطابق ایرانی جنگی ہیلی کاپٹر اور ایرانی پائلٹ پاکستانی فوج کی کارروائیوں میں استعمال ہوئے، جبکہ پاکستانی فضائیہ نے بھی چمالنگ آپریشن میں فضائی طاقت استعمال کی اور بلوچستان کے طول وعرض میں بلوچ جنگی قیدیوں کو ہیلی کاپٹروں کے زریعے فضا سے زمین پر پھینکا گیا جس کے سبب سینکڑوں کے حساب سے بلوچ فرزند شہید ہوئے۔

چمالنگ محض ایک فوجی معرکہ نہیں تھا بلکہ بلوچ آبادیوں، خاندانوں، مال مویشیوں اور روزمرہ زندگی پر پڑنے والی جنگ کے اثرات کی ایک تلخ تاریخی مثال بن گیا۔ اس وقت بھی ریاستی طاقت کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ عسکری دباؤ کے ذریعے بلوچ قوم کو اس کے سیاسی مطالبات اور قومی حقوق سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا جائے۔ تاریخی ریکارڈ یہ بھی دکھاتا ہے کہ 1973 سے 1977 تک جاری رہنے والی اس تحریک میں پاکستانی فوج کی تعداد دسیوں ہزار تک پہنچ گئی اور ایران نے پاکستان کو اہم فوجی معاونت فراہم کی۔

بلوچ قوم کو خاموش کرنے کے لیے چمالنگ میں بم برسائے گئے، پہاڑوں کا محاصرہ کیا گیا، بستیاں اجاڑی گئیں، آج گدر میں بھی وہی پرانی ریاستی منطق دہرائی جارہی ہے۔ لیکن تاریخ کا سبق واضح ہے طاقت کے ذریعے کسی قوم کے وجود کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ چمالنگ سے قبل اور بعد میں بھی بلوچ قوم نے مختلف ادوار میں اپنی سیاسی اور قومی آزادی کے لیے مزاحمت کی۔ 1948، 1958-59، 1960 کی دہائی، 1973-77 اور پھر اکیسویں صدی میں اٹھنے والی بلوچ مزاحمت اس تاریخی حقیقت کی گواہ ہے کہ بلوچ مسئلے کو محض فوجی طاقت، جبری انضمام اور ریاستی جبر کے ذریعے ختم نہیں کیا جاسکا۔

ازاں بعد مشرف حکومت کے ابتدائی ادوار میں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دوہزار ایک سے دوہزار پانچ تک عام بلوچ آبادیوں پر شدید نوعیت کی فضائی بمباری کی گئے

اسی طرح ایرانی زیرِ قبضہ بلوچستان میں بھی بلوچ عوام دہائیوں سے سیاسی، ثقافتی، معاشی اور قومی حقوق کے لیے ریاستی جبر کا سامنا کرتے آئے ہیں۔ ایران اور پاکستان کی ریاستی سرحدیں بلوچ قومی وجود کی تاریخی وحدت کو ختم نہیں کرتیں۔ بلوچ قوم ایک تاریخی، جغرافیائی، ثقافتی اور قومی وحدت ہے، جس کی سرزمین آج پاکستانی اور ایرانی نام نہاد ریاستی حدود کے درمیان تقسیم ہے۔

فری بلوچستان موومنٹ کے نزدیک بلوچ قومی آزادی کسی ایک ریاست کے خلاف عارضی سیاسی مطالبہ نہیں بلکہ پورے تاریخی بلوچستان کی آزادی کا اصولی مطالبہ ہے۔ چاہے بلوچ سرزمین پر جبر اسلام آباد سے آئے یا تہران سے، قابض طاقت کا نام بدلنے سے بلوچ قوم کا حقِ آزادی تبدیل نہیں ہوتا۔

آج پاکستانی قابض ریاست جس منطق کے تحت بلوچ مزاحمت کو ختم کرنے کے لیے فوجی طاقت، فضائی حملوں، جبری گمشدگیوں، گرفتاریوں اور آبادیوں پر دباؤ کو استعمال کررہی ہے، یہی منطق ایرانی قابض ریاست بھی ایرانی زیرِ قبضہ بلوچستان میں مختلف شکلوں میں استعمال کرتی رہی ہے۔ دونوں ریاستیں مختلف نعروں اور مختلف آئینی و سیاسی جواز پیش کرتی ہیں، لیکن بلوچ قوم کے قومی حقِ آزادی کے سامنے دونوں کا رویہ بنیادی طور پر یکساں ہے۔

فری بلوچستان موومنٹ واضح کرتی ہے کہ بلوچ قوم کا مسئلہ چند مسلح افراد کا مسئلہ نہیں اور نہ ہی اسے محض امن و امان کا مسئلہ بنا کر پیش کیا جاسکتا ہے۔ یہ ایک تاریخی قومی مسئلہ ہے، جس کا پائیدار حل فوجی آپریشن، بمباری، جبری گمشدگی یا ریاستی تشدد نہیں بلکہ بلوچ قوم کی مکمل حقِ آزادی کو تسلیم کرنا ہے۔

قابض ریاستی طاقت وقتی طور پر کسی علاقے کو خاموش کرسکتی ہے، مگر کسی قوم کے سیاسی شعور کو ختم نہیں کرسکتی۔ بم، گولیاں اور فوجی آپریشن کسی قوم کے سیاسی مطالبے کو شکست نہیں دیتے، وہ صرف نئی نسلوں میں محرومی، غصے اور مزاحمت کو مزید گہرا کرتے ہیں۔

فری بلوچستان موومنٹ اقوام متحدہ، عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں، بین الاقوامی میڈیا اور دنیا کی جمہوری قوتوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ سوراب گدر کے واقعے سمیت بلوچ آبادیوں پر ہونے والی تمام فوجی کارروائیوں کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں، متاثرہ علاقوں تک آزاد میڈیا اور انسانی حقوق کے مبصرین کو رسائی دی جائےاورجنیوا کنونشن کے تحت بلوچ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور بلوچ قوم کے سیاسی حقِ آزادی کی جد و جہد کو محض عسکری مسئلہ سمجھنے کی پالیسی ترک کی جائے

فری بلوچستان موومنٹ اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ بلوچ قوم کی آزادی کا مطالبہ نہ اسلام آباد کی طاقت سے ختم ہوگا اور نہ تہران کے جبر سے۔ بلوچ قوم پاکستانی اور ایرانی قبضے سے اپنی مکمل قومی آزادی تک اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھے گی۔

آزاد بلوچستان ہی بلوچ قوم کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ ہے۔