بمپور (ہمگام نیوز) اطلاع کے مطابق
کو ایرانی مقبوضہ کے بلوچستان کے شہر بمپور میں قابض ایرانی فوج اور سکیورٹی اہلکاروں نے ایک رہائشی مکان پر بڑے پیمانے پر چھاپہ مار کر ایک ہی خاندان کے کم از کم چھ بلوچ شہریوں کو گرفتار کر لیا۔ اطلاعات کے مطابق اہلکاروں نے خاندان کے مردوں کو حراست میں لینے کے بعد آر پی جی (راکٹ لانچر) سے مکان کو نشانہ بنایا اور اسے تباہ کر دیا۔
ذرائع کی جانب سے تصدیق شدہ گرفتار ہونے والے چھ بلوچ شہریوں کی شناخت درج ذیل ناموں سے ہوئی ہے، جن کا تعلق بمپور سے ہے:
* علی ناروئی: 26 سالہ، ولد صاحب، شادی شدہ۔
* زبیر ناروئی: 31 سالہ، ولد مراد محمد، شادی شدہ۔
* جمعہ ناروئی: 76 سالہ، ولد نظر خان، شادی شدہ، آبائی تعلق بمپور سے جبکہ رہائش ضلع لاشار میں تھی۔
* نظر محمد ناروئی: 41 سالہ، ولد مراد محمد، شادی شدہ اور دو بچوں کے والد۔
* ابوالحسن ناروئی: 43 سالہ، ولد مراد محمد، شادی شدہ اور آٹھ بچوں کے والد۔
* رستم ناروئی: 36 سالہ، شادی شدہ اور ایک ماہ کے بچے کے والد۔
ذرائع کے مطابق گرفتار ہونے والے تمام افراد عام شہری اور ایک ہی خاندان کے افراد ہیں، جبکہ ان میں سے تین آپس میں بھائی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فوج اور سکیورٹی اہلکاروں نے کسی پیشگی اطلاع یا وارننگ کے بغیر سادہ لباس میں خاندان کی رہائش گاہ پر دھاوا بولا۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق اہلکاروں نے گھر میں موجود خواتین کو باہر نکالنے کی کوشش کی، تاہم خواتین نے اس اقدام کے خلاف مزاحمت کی، جس کے دوران انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ خاندان کے مردوں کو گرفتار کرنے کے بعد اہلکاروں نے آر پی جی (راکٹ لانچر) کا استعمال کرتے ہوئے رہائشی مکان کو نشانہ بنایا اور اسے تباہ کر دیا۔
ذرائع کے مطابق اس خاندان کے دو افراد ایران کی مخالف مسلح تنظیموں سے وابستہ ہیں۔ ان ذرائع کا خیال ہے کہ سکیورٹی فورسز کی جانب سے یہ کارروائی اور مکان کی تباہی ممکنہ طور پر ان دونوں افراد کی سرگرمیوں سے متعلق ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب بلوچستان پولیس کے اطلاعاتی مرکز نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبے کے محکمہ اطلاعات (ادارہ کل اطلاعات) کے تعاون سے مسلح گروہوں سے وابستہ افراد کی شناخت اور گرفتاری کے لیے جاری انٹیلی جنس اور آپریشنل کارروائیوں کے سلسلے میں ضلع بمپور کے متعدد گھروں کی تلاشی لی گئی۔
پولیس کے جاری کردہ بیان کے مطابق اس کارروائی کے دوران چھ افراد کو گرفتار کیا گیا، جبکہ تین کلاشنکوف رائفلیں اور ان کے ساتھ گولہ بارود بھی برآمد کرکے ضبط کیا گیا۔
تاہم پولیس کے بیان میں رہائشی مکان کو تباہ کرنے، آر پی جی استعمال کیے جانے اور کارروائی کے دوران خواتین کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور تشدد کے حوالے سے کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
رپورٹ کی تیاری تک گرفتار کیے گئے چھ افراد کی حراست کے مقام، ان میں سے ہر ایک کے خلاف عائد کیے گئے مخصوص الزامات اور رہائشی مکان کو تباہ کرنے کی قانونی بنیاد کے بارے میں کوئی معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔ یہ بھی واضح نہیں ہو سکا کہ کارروائی کے بعد خاندان کو اپنے تباہ شدہ گھر اور وہاں موجود باقی ماندہ سامان تک رسائی دی گئی ہے یا نہیں۔
واضح رہے کہ یہ واقع 27 اکتوبر کو پیش آیا انٹرنیٹ کی شدید بندش اور قلت کی وجہ سے ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے کئی شہروں اور علاقوں کے خبریں تاخیر سے موصول ہوتی ہیں ۔


