Homeخبریںبندر عباس میں قابض ایرانی سیکیورٹی فورسز کی براہ راست فائرنگ،...

بندر عباس میں قابض ایرانی سیکیورٹی فورسز کی براہ راست فائرنگ، معذور بلوچ شہید

بندرعباس(ہمگام نیوز ) اطلاع کے مطابق گزشتہ روز ا منگل 6 اکتوبر 2026 کو بندرعباس کے محور میں قابض ایرانی سیکیورٹی فورسز کی براہ راست فائرنگ کے بعد گاڑی الٹنے اور آگ لگنے کے نتیجے میں ایک جسمانی معذوری کا شکار بلوچ ایندھن بردار شخص شہید ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق شہید ہونے والے ایندھن بردار بلوچ کی شناخت 33 سالہ علی براہوئی زیرکاری ولد رضا کے نام سے ہوئی ہے۔ وہ شادی شدہ اور تین بیٹیوں کے والد تھے اور زابل کے علاقے میں واقع گاؤں مادہ کاریز کے رہائشی تھے۔

مقامی ذرائع کے مطابق بندرعباس کے داخلی راستے پر یگان امداد کے اہلکاروں نے بغیر کسی پیشگی انتباہ کے ایندھن لے جانے والی گاڑی پر براہِ راست فائرنگ کی۔ گولی لگنے کے بعد گاڑی بے قابو ہو کر سڑک سے اتر گئی، الٹ گئی اور شدید آگ کی لپیٹ میں آگئی۔ آگ اور دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ علی براہوئی کا جسم مکمل طور پر جل گیا۔

ذرائع کے مطابق علی براہوئی جسمانی معذوری کے باوجود شدید غربت، زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور علاج معالجے کے بھاری اخراجات پورے نہ کر پانے کے باعث ہرمزگان میں ایندھن کی غیر قانونی ترسیل، یعنی سوختبری، کرنے پر مجبور تھے۔

ذرائع نے بتایا کہ ان کی ایک کم عمر بیٹی گردوں کے مرض میں مبتلا تھی اور ایک ماہر ڈاکٹر کے زیر علاج تھی۔ اس کے علاج اور ادویات پر ماہانہ کئی ملین ایرانی تومان خرچ ہوتے تھے۔

علی براہوئی کی لاش خاندان کے حوالے کیے جانے کے بعد ان کے آبائی گاؤں مادہ کاریز، زابل میں سپرد خاک کر دی گئی۔ ان کی موت کے بعد تین کم عمر بیٹیاں، جن میں ایک بیمار بچی بھی شامل ہے، اپنے خاندان کے واحد کفیل اور سرپرست سے محروم ہوگئی

ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز