بی ایم سی بھوک ہڑتال میں بیٹھے طلباء کی طبیعت ناساز
کوئٹہ (ہمگام نیوز) اطلاعات کے مطابق مقبوضہ بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں تحریک بحالی بی ایم سی کیلئے تادم مرگ بھوک ہڑتال میں بیٹھے افراد کی حالت کافی خراب ہونے کے باعث انہیں ہسپتال منتقل کردیا گیا۔
یاد رہے جمعرات کے روز حکومتی نمائندے صوبائی وزیر میر اسد بلوچ، میر عبدالروف رند اور سردار نور احمد بنگلزئی کے ساتھ ناکام مذاکرات کے بعد بی ایم سی بحالی تحریک کی جانب سے تادم مرگ بھوک ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔
دو دن سے تادم مرگ بھوک ہڑتال میں بیٹھے ڈاکٹر مشتاق بلوچ بے ہوش ہوگئے اور ان ساتھ ڈاکٹر طارق فیض اللہ و بالاچ قادر کی طبیعت شدید ناساز ہونے کی وجہ سے انہیں ہسپتال منتقل کردیا گیا۔
ہڑتال میں بیٹھے طلبہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوے کہا کہ دو دن سے ہماری جاری احتجاج میں ابھی تک کسی بھی حکومتی نمائندے نے ہمارے پاس آنے کی تکلیف نہیں کی اور نہ ہی ہم سے کسی قسم کی رابطہ کرنے کی کوشش کی، انہوں نے مزید کہا کہ طلبہ کی حالت بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے اور حکومت ہمیں ایمبولینس تک فراہم نہیں کررہی ہے۔
طلبہ کا مزید کہنا ہےکہ اگر مظاہرین میں سے اگر کسی کو کچھ بھی ہوجائے تو اسکا ذمہ دار حکومت ہوگی اور ہم اس کی ایف آئی آر وزیراعلی جمال کمال پر کریں گے۔


