تہران (ہمگام نیوز) ایران کے شہر تایباد کی جیل میں بدھ 29 جولائی 2026 کی صبح پانچ قیدیوں کو پھانسی دے دی گئی، جن میں ایک بلوچ شہری اور افغانستان کے متعدد شہری شامل ہیں۔ تمام قیدیوں کو منشیات سے متعلق مقدمات میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔
پھانسی پانے والے بلوچ شہری کی شناخت نادر آبیل کے نام سے ہوئی ہے۔ ان کی عمر تقریباً 40 سال تھی۔ وہ ظاہر خان کے بیٹے، شادی شدہ، چار بیٹیوں کے والد، ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے رہائشی اور مشہد میں مقیم تھے۔
ذرائع کے مطابق نادر آبیل کو اتوار 26 جولائی 2026 کو مشہد کی وکیل آباد جیل سے تایباد جیل منتقل کیا گیا تھا۔ اہل خانہ سے آخری ملاقات کے بعد بدھ کی صبح ان کی سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا۔ اسی دوران وکیل آباد جیل سے منتقل کیے گئے افغانستان کے متعدد قیدیوں کو بھی ان کے ساتھ پھانسی دی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نادر آبیل کو چند سال قبل منشیات سے متعلق ایک مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد ازاں، مقدمے میں شریک دیگر ملزمان کو پھانسی دیے جانے کے بعد انہیں الزامات سے بری کر کے رہا کر دیا گیا تھا۔ تاہم تقریباً ایک سال قبل قابض ایرانی سیکیورٹی فورسز نے ان کے گھر پر چھاپہ مار کر انہیں دوبارہ گرفتار کیا۔ ذرائع کے مطابق انہیں اسی مقدمے میں دوبارہ نامزد کیا گیا، جس سے وہ پہلے بری ہو چکے تھے، اور بالآخر ان کی سزائے موت پر عمل درآمد کر دیا گیا۔
ذرائع مزید دیگر پھانسی پانے والے قیدیوں، جن میں افغانستان کے شہری بھی شامل ہیں، کی شناخت کی تصدیق کر رہے ہیں۔ مزید معلومات سامنے آنے پر جاری کی جائیں گی۔















