سراوان(ہمگام نیوز ) اطلاع کے مطابق ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے ضلع سراوان کے سرحدی علاقے مک سوختہ میں شدید پیاس اور پانی کی قلت کے باعث کم از کم 17 افغان مہاجرین جاں بحق ہوگئے، جن میں خواتین، مرد اور بچے شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ 10 ستمبر 2026 کو سراوان کے روٹک سرحدی علاقے میں پیش آیا۔ جاں بحق افراد کی لاشیں علاقے سے منتقل کرکے تدفین سے قبل محفوظ رکھنے کے لیے خاش کے سرد خانے منتقل کردی گئی ہیں۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق جاں بحق ہونے والے افراد میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد بھی شامل ہیں، جن کا تعلق افغانستان کے صوبہ بغلان وسطی سے تھا۔ ان میں ایک 45 سالہ ماں اور اس کی چار بیٹیاں شامل ہیں، جن کی عمریں بالترتیب 22، 18، 16 اور 14 سال تھیں۔ خاندان کے دیگر رشتہ دار ضلع سراوان میں مقیم ہیں اور ان کی نماز جنازہ آج ادا کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق اس واقعے میں جاں بحق ہونے والوں میں 14 سال سے کم عمر کم از کم چھ بچے بھی شامل ہیں۔ عینی شاہدین اور متاثرہ خاندانوں کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ یہ افراد سفر کے دوران پانی کی شدید کمی کا شکار ہوئے اور پیاس کے باعث جان کی بازی ہار گئے۔ بعض افراد نے ایک دوسرے کے قریب ہی دم توڑا۔
جاں بحق افراد کے ایک رشتہ دار نے ذرائع کو بتایا کہ سفر کے دوران اس گروپ کے ساتھ موجود مرد درمیان راستے میں خواتین اور بچوں سے الگ ہوگئے تھے، جس کے بعد خواتین اور بچے مناسب مقدار میں پانی تک رسائی کے بغیر آگے بڑھتے رہے۔
ذرائع کے مطابق واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد متاثرہ خاندان صرف اپنے رشتہ داروں کی لاشیں منتقل کرنے میں کامیاب ہوئے، جبکہ دیگر لاشوں کو منتقل کرنا ممکن نہیں ہوسکا۔
مقامی ذرائع نے بتایا ہے کہ سراوان کے سرد خانے میں گنجائش نہ ہونے کے باعث لاشوں کو خاش منتقل کیا گیا۔ واقعے کو چار روز گزرنے کے باوجود متاثرہ خاندان اپنے پیاروں کی لاشوں کی منتقلی اور تدفین کے انتظامات کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔
علاقائی نے واضح کیا ہے کہ وہ جاں بحق افراد کی حتمی تعداد اور واقعے کی تمام تفصیلات کی آزادانہ طور پر تصدیق کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ دیگر جاں بحق افراد کی شناخت اور واقعے کے حالات سے متعلق مزید معلومات کی جانچ جاری ہے۔


