اسلام آباد ( ہمگام نیوز ) پاکستان میں جبری گمشدگیوں کے مقدمات کی پیروی کرنے والی انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری اور اُن کے شوہر ہادی علی چٹھہ کا کہنا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں مبینہ سکیورٹی خلاف ورزی اور کارِ سرکار میں مداخلت کے الزام پر اُن کے خلاف درج مقدمہ ملک میں انسانی حقوق کے کارکنوں اور وکلا کو نشانہ بنانے کے وسیع تر سلسلے کی کڑی ہے۔
بدھ (28 اکتوبر) کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج نے اس مقدمے کی سماعت اڈیالہ جیل میں کرتے ہوئے عندیہ دیا کہ اگر اس کیس میں حتمی دلائل مکمل ہو گئے تو وہ جمعرات کو اس مقدمے کا فیصلہ سُنا سکتے ہیں۔
ایمان مزاری اور ان کے شوہر پر الزام ہے کہ انھوں نے 25 اکتوبر 2024 کو انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان راولپنڈی ٹیسٹ کے دوران اسلام آباد کے زیرو پوائنٹ پر لگائی گئی رکاوٹوں کو ہٹا کر کارِ سرکار میں مداخلت کی اور پولیس پر ’تھپڑوں اور آہنی مکوں سے حملہ کیا، دوسری جانب ایمان مزاری اور ہادی اِن الزامات کی تردید کرتے ہیں۔


