مشہد(ہمگام نیوز ) خراسان رضوی کے شہر مشہد کی وکیل آباد جیل میں منگل 27 اکتوبر 2026 کی صبح پانچ قیدیوں کی سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا، جن میں دو بلوچ شہری بھی شامل ہیں۔ بلوچ انسانی حقوق کی ویب سائٹ حالوش کے مطابق، اب تک تین قیدیوں کی شناخت کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ دیگر دو قیدیوں کی شناخت اور تفصیلات سامنے نہیں آسکی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، تمام قیدیوں کو منشیات سے متعلق الزامات کے تحت سزائے موت سنائی گئی تھی۔ ان کی سزاؤں پر عمل درآمد اہل خانہ کو پیشگی اطلاع دیے بغیر اور آخری ملاقات کا موقع فراہم کیے بغیر کیا گیا۔
تین قیدیوں کی شناخت کی تصدیق
ذرائع کے مطابق، شناخت ہونے والے قیدیوں میں 26 سالہ علیرضا آفاق ولد رجب، بلوچ شہری حبیب اللہ داوودی ولد عزیز اور 67 سالہ رسول ایرک المعروف براهویی ولد عبدالصمد شامل ہیں۔
علیرضا آفاق مشہد کے نواحی گاؤں خلق آباد کے رہائشی اور غیر شادی شدہ تھے۔ ذرائع کے مطابق، انہیں 2021 میں گرفتار کیا گیا تھا اور مشہد کی عدالت نے منشیات سے متعلق الزامات کے تحت سزائے موت سنائی تھی۔ انہیں پیر 26 اکتوبر 2026 کو پھانسی پر عمل درآمد سے قبل جیل کے قرنطینہ حصے میں منتقل کیا گیا تھا۔
حبیب اللہ داوودی کا تعلق زاہدان سے تھا اور وہ مشہد میں مقیم تھے۔ وہ شادی شدہ اور چار کم سن بچوں کے والد تھے۔ ذرائع کے مطابق، انہیں 2023 میں مشہد سے گرفتار کیا گیا اور منشیات سے متعلق الزامات کے تحت سزائے موت سنائی گئی تھی۔ انہیں پیر 26 اکتوبر کو انفرادی سیل میں منتقل کیا گیا اور اگلی صبح اہل خانہ سے آخری ملاقات کرائے بغیر پھانسی دے دی گئی۔
حبیب اللہ داوودی کے ایک قریبی رشتہ دار نے بتایا تھا کہ ان کے پاس سے کوئی منشیات برآمد نہیں ہوئی تھی، تاہم عدالت نے ان کے دفاعی مؤقف پر توجہ دیے بغیر انہیں سزائے موت سنا دی۔
رسول ایرک (براهویی) بلوچ شہری کی عمر 67 سال تھی۔ وہ شادی شدہ اور سات بچوں کے والد تھے۔ ان کی رہائش گلستان صوبے کے شہر گالیکش کے نواحی گاؤں سرچشمہ میں تھی، جبکہ ان کا آبائی تعلق ایرانی مقبوضہ بلوچستان سے بتایا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، انہیں تقریباً تین سال قبل مشہد میں منشیات سے متعلق الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا اور عدالت نے سزائے موت سنائی تھی۔ ان کی پھانسی بھی منگل 27 اکتوبر کی صبح اہل خانہ کو پیشگی اطلاع دیے بغیر اور آخری ملاقات کا موقع فراہم کیے بغیر عمل میں لائی گئی۔ ذرائع کے مطابق، ساتھی قیدیوں کی جانب سے اطلاع ملنے کے بعد ان کے اہل خانہ بدھ 28 اکتوبر کو میت وصول کرنے کے لیے جیل پہنچے۔
ایک خاندان کے تین بھائیوں کو پھانسی
اس واقعے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ علیرضا آفاق کے دو بھائی، جواد آفاق اور جلال آفاق، بھی گزشتہ دو برس کے دوران اسی وکیل آباد جیل میں منشیات سے متعلق الزامات کے تحت پھانسی دیے جا چکے ہیں۔
حالوش کے مطابق، جواد آفاق کو ستمبر 2025 میں جبکہ جلال آفاق کو 2 مارچ 2025 کو پھانسی دی گئی تھی۔ علیرضا آفاق کو پھانسی دیے جانے کے بعد اس خاندان کے تین بھائی سزائے موت کا شکار ہوچکے ہیں۔
دو مزید قیدیوں کی شناخت تاحال نامعلوم
حالوش کی رپورٹ کے مطابق، منگل 27 اکتوبر 2026 کی صبح وکیل آباد جیل میں پانچ قیدیوں کو پھانسی دی گئی۔ ان میں سے تین کی شناخت کی تصدیق ہوچکی ہے، جن میں دو بلوچ شہری شامل ہیں، جبکہ دیگر دو قیدیوں کی شناخت اور ان کے مقدمات کی تفصیلات تاحا
ل سامنے نہیں آئی ہیں۔












