Homeخبریںجہاں عوام ایک مقصد پر متحد ہو جائیں، وہاں بڑی سے بڑی...

جہاں عوام ایک مقصد پر متحد ہو جائیں، وہاں بڑی سے بڑی رکاوٹ بھی مستقل مزاجی اور اجتماعی قوت کے سامنے زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی: ڈاکٹر نسیم بلوچ

شال(ھمگام نیوز) بلوچ نیشنل موومنٹ کے مطابق پارٹی کے ادارۂ تعلیم و تربیت کی جانب سے “موثر پالیسی سازی اور سیاسی جماعت پر اس کے اثرات” کے عنوان سے ایک تربیتی نشست منعقد کی گئی۔

اس موضوع پر پارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ نے تفصیلی گفتگو کی اور پارٹی کارکنان کے سوالات کے جوابات دیے۔ پروگرام کی میزبانی برطانیہ چیپٹر نے کی۔

ڈاکٹر نسیم بلوچ نے موضوع پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آزادی کی جدوجہد میں ہر کارکن کے لیے ضروری ہے کہ اس کے پاس ایک واضح مقصد اور مؤثر حکمت عملی ہو۔ مقصد کے بغیر جدوجہد اپنی سمت کھو دیتی ہے، جبکہ حکمت عملی کے بغیر وسائل، وقت اور قربانیاں ضائع ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک باشعور کارکن کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ کس مقصد کے لیے کام کر رہا ہے، اس کے اہداف کیا ہیں، اور انہیں حاصل کرنے کے لیے کس نوعیت کی حکمت عملی اختیار کرنی ہے۔ حالات کے مطابق فیصلے کرنا، عوام سے مضبوط رابطہ رکھنا، تنظیمی نظم و ضبط کی پابندی کرنا اور ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا کامیاب جدوجہد کی بنیادی شرائط ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آزادی کی تحریکیں صرف جذبے سے کامیاب نہیں ہوتیں بلکہ ان کے لیے منصوبہ بندی، مستقل مزاجی، اتحاد اور دانشمندانہ قیادت بھی ضروری ہوتی ہے۔ جب کارکن اپنے مقصد پر ثابت قدم رہتے ہیں تو قومی جدوجہد کو استحکام ملتا ہے، تاہم اس میں عوامی حمایت بنیادی اور ناگزیر حیثیت رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کوئی بھی تحریک اس وقت تک اپنی منزل حاصل نہیں کر سکتی جب تک اسے عوام کا اعتماد، شرکت اور اخلاقی تائید حاصل نہ ہو۔ عوام ہی کسی بھی قومی تحریک کی اصل طاقت ہوتے ہیں۔ جب لوگ کسی مقصد کو اپنا مقصد سمجھ لیتے ہیں تو وہ اپنی آواز، اپنی محنت اور اپنے وسائل کے ذریعے اس جدوجہد کو مضبوط بناتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک کامیاب قومی تحریک صرف چند افراد یا رہنماؤں کی کوششوں سے آگے نہیں بڑھتی بلکہ اس کی حقیقی قوت عوام کے اتحاد، شعور اور مسلسل حمایت میں مضمر ہوتی ہے۔ اسی لیے ہر کارکن اور ہر تنظیم کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے ساتھ مضبوط تعلق قائم کرے، ان کے مسائل کو سمجھے، ان کے اعتماد کو برقرار رکھے اور اپنے کردار سے یہ ثابت کرے کہ جدوجہد عوام کے مفاد اور مستقبل کے لیے کی جا رہی ہے۔

بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا کہ عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے دیانت داری، شفافیت، نظم و ضبط اور مؤثر رابطہ ناگزیر ہیں۔ جب تحریک کے مقاصد واضح ہوں، قیادت قابل اعتماد ہو اور کارکن عوام کے درمیان موجود رہیں تو لوگوں کا اعتماد مضبوط ہوتا ہے۔ یہی اعتماد وقت کے ساتھ عوامی طاقت میں تبدیل ہوتا ہے، جو ہر قومی جدوجہد کی کامیابی میں فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ وہی قومی تحریکیں دیرپا کامیابی حاصل کر سکیں جن کے پاس عوام کو یکجا کرنے کی وسیع حکمت عملی موجود تھی۔ جہاں عوام ایک مقصد پر متحد ہو جائیں، وہاں بڑی سے بڑی رکاوٹ بھی مستقل مزاجی اور اجتماعی قوت کے سامنے زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی۔

انہوں نے کہا کہ ہر قومی جدوجہد کی بنیاد عوامی حمایت، قومی اتحاد اور مشترکہ مقصد پر ہونی چاہیے، جبکہ ایک واضح حکمت عملی ہی وہ ذریعہ ہے جس کے تحت مشکلات کا بہتر مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور جدوجہد کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تاریخ اس بات کی بھی گواہ ہے کہ وہی تحریکیں کامیابی سے ہمکنار ہوئیں جنہوں نے اپنے نظریے کے ساتھ مضبوط تنظیم، واضح سمت اور عملی حکمت عملی کو بھی اہمیت دی۔

انہوں نے کہا کہ ہر کارکن کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مقصد کو ہمیشہ سامنے رکھے، حالات کا درست جائزہ لے اور اپنی قومی یا سیاسی جدوجہد کی سمت کو صحیح انداز میں سمجھے۔ ہر کارکن اور ہر تنظیم کو اس بات کا شعور ہونا چاہیے کہ موجودہ حالات میں کون سا سیاسی ماحول ان کے مقاصد کے لیے زیادہ سازگار ہے اور کن مواقع سے فائدہ اٹھا کر اپنی جدوجہد کو مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حالات کا درست تجزیہ کیے بغیر نہ تو مضبوط حکمت عملی مرتب کی جا سکتی ہے اور نہ ہی طویل المدتی اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ پہچاننا بھی ضروری ہے کہ کون سے افراد، ادارے، سماجی حلقے یا سیاسی قوتیں ہماری پالیسی، نظریے اور قومی مقاصد کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔ ایسے فریقوں کے ساتھ مثبت اور اصولی تعاون تحریک کو مضبوط بنا سکتا ہے، اس کے پیغام کو وسیع سطح تک پہنچا سکتا ہے اور بہتر حکمت عملی مرتب کرنے میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک ذمہ دار سیاسی کارکن صرف جذبات کی بنیاد پر فیصلے نہیں کرتا بلکہ حقائق، حالات، عوامی رائے اور سیاسی تبدیلیوں کا مسلسل جائزہ لیتا ہے۔ وہ بدلتے ہوئے حالات کے مطابق اپنی حکمت عملی کو بہتر بناتا ہے، نئے مواقع سے فائدہ اٹھاتا ہے اور ایسے تعلقات استوار کرتا ہے جو تحریک کی ساکھ، مؤثریت اور عوامی اعتماد میں اضافہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ کامیاب قومی تحریکیں ہمیشہ سیاسی بصیرت، درست تجزیے اور دانشمندانہ فیصلوں پر قائم ہوتی ہیں۔ جب ایک تحریک اپنے دوست اور مخالف، اپنے مواقع اور چیلنجز، اور اپنے ممکنہ اتحادیوں کو صحیح طور پر پہچان لیتی ہے تو وہ زیادہ مؤثر پالیسی تشکیل دے سکتی ہے اور اپنے قومی مقاصد کے حصول کے لیے مضبوط بنیاد قائم کر سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی ماحول کا شعور، بااعتماد شراکت داروں کا انتخاب اور حقیقت پسندانہ پالیسی سازی ہر قومی جدوجہد کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی قومی یا سیاسی جدوجہد میں ایک واضح طویل المدتی پالیسی ہونا ناگزیر ہے۔ ایسی پالیسی تحریک کے نظریے، مقاصد، ترجیحات اور عملی طریقۂ کار کی واضح رہنمائی فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب کسی تحریک کے پاس ایک منظم اور مستقل پالیسی موجود ہو تو کارکن بہتر انداز میں سمجھ سکتے ہیں کہ انہیں کن اصولوں کے تحت کام کرنا ہے، کن اہداف کو حاصل کرنا ہے اور مختلف حالات میں کس طرز عمل کو اختیار کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ طویل المدتی پالیسی تحریک کو وقتی دباؤ، جذباتی فیصلوں اور غیر ضروری تبدیلیوں سے محفوظ رکھتی ہے۔ یہ قیادت اور کارکنوں کے درمیان یکسانیت پیدا کرتی ہے، جس سے ہر فرد اپنی ذمہ داری اور کردار کو بہتر طور پر سمجھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے نتیجے میں تنظیم کے اندر نظم و ضبط مضبوط ہوتا ہے، فیصلوں میں ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے اور تمام کارکن ایک ہی سمت میں آگے بڑھتے ہیں۔

انہوں نے آخر میں کہا کہ واضح پالیسی نئے کارکنوں کی تربیت میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جب تنظیم کے اصول، مقاصد اور طریقۂ کار تحریری اور واضح صورت میں موجود ہوں تو نئے افراد کے لیے تحریک کے نظریے کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سے کارکنوں میں اعتماد پیدا ہوتا ہے، ان کے جذبے کو درست سمت ملتی ہے اور وہ زیادہ ذمہ داری اور شعور کے ساتھ اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کامیاب تحریکیں ہمیشہ مضبوط نظریے کے ساتھ ایک واضح اور دیرپا پالیسی بھی رکھتی ہیں۔ یہی پالیسی مشکل حالات میں رہنمائی فراہم کرتی ہے، تنظیمی استحکام کو برقرار رکھتی ہے اور کارکنوں کو اس یقین کے ساتھ آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہے کہ ان کی جدوجہد ایک منظم منصوبے اور واضح مقصد کے تحت جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز