سه شنبه, مارچ 10, 2026
Homeخبریںحکومت کو اخباری بیانات سے نکل کر عملی طور پر ان تعلیمی...

حکومت کو اخباری بیانات سے نکل کر عملی طور پر ان تعلیمی اداروں کو فنکشنل کرناہوگا: ایکسن کمیٹی

کوئٹہ( ہمگام نیوز) بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مرکزی ترجمان بلال بلوچ نے کہا کہ حکومت نئے میڈیکل کالجز اور یونیورسٹیوں کے قیام کو عملی جامعہ پہنائے حکومت کو اخباری بیانات سے نکل کر عملی طور پر ان تعلیمی اداروں کو فنکشنل کرنا ہوگا تربت میڈیکل کالج، خضدار میڈیکل کالج، لورالائی میڈیکل کالج کے ساتھ ڈیرہ مراد جمالی میڈیکل کالج کے قیام کے لیئے بھی عملی اقدامات کرنا ہونگے جبکہ چاکر اعظم یونیورسٹی سبی کا قیام بھی وقت کی اہم ضرورت ہے جبکہ طلباء زرعی یونیورسٹی کے قیام کا بھی۔منتظر ہیں ترجمان نے کہا کہ بلوچستان میں قائم تعلیمی اداروں میں اس حکومتی دور میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی ، آئی ٹی یونیورسٹی کوئٹہ میں کئی عرصہ گزرنے کے باوجود بھی ضلعی میرٹ کا نظام نافذ نہیں ہوسکا حکومت کے بلند و ببانگ دعوؤں کے باوجود آج بھی ادارے میں بلوچ اسٹوڈنٹس کی تعداد دو فیصد ہے ، جبکہ بلوچستان انجینئرنگ یونیورسٹی خضدار میں حکومت کی جانب سے چار نئے فیکلٹی کے قیام کا وعدہ اب بھی پورا نہیں ہوسکا یونیورسٹی میں اب تک اصلاحات نہیں کیا گیا طلباء اب بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں دوسری جانب میرین یونیورسٹی اوتھل مکمل طور پر زون حالی کا شکار ہے ادارے کا انتظامیہ تعلیم پر کم اور اپنے ذاتی مراعات کے لیئے زیادہ کوششیں کررہا ہے بلوچستان یونیورسٹی کوئٹہ میں بلوچ دشمنی عروج تک پہنچ گئی ہے انتظامی معاملات ہوں یا داخلہ پالیسی سب میں بلوچ قوم کو نظرانداز کرنے کا سلسلہ تیز رفتاری سے جاری ہے جبکہ بلوچستان کا واحد میڈیکل کالج میں اب تک نئے سیشن کی کلاسز کا اجراء اب تک نہیں ہوسکا ترجمان نے کہا کہ بلوچستان کے بنیادی تعلیمی ادارے ہوں یا اعلی تعلیمی مراکز سب کے سب بے بسی کا عالم پیش کررہے ہیں اداروں کو بانجھ رکھنا حکومتی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے حکومت کو اخباری بیانات سے نکل کر عملی طور پر تعلیم سے وابستگی کے ثبوت دینے ہونگے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز