اب تک بیرونی دنیا کی آنکھوں سے اوجھل دروز کمیونٹی کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے تھے۔ یہ برادری طویل عرصے تک اپنے مذہبی تقدس، اندرونی ہم آہنگی اور خاموش طرزِ زندگی کے باعث عالمی میڈیا اور سیاسی منظرنامے سے دور رہی۔ مگر عرب بہار اور اس کے بعد شام میں شروع ہونے والی خانہ جنگی نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔ اس جنگ نے نہ صرف سیاسی ڈھانچے کو ہلا دیا بلکہ ان چھپی ہوئی شناختوں کو بھی دنیا کے سامنے لے آیا جو برسوں پردوں کے پیچھے تھیں۔
دنیا کو معلوم ہوا کہ شام صرف اکثریتی عرب سنی آبادی پر مشتمل ملک نہیں بلکہ یہاں دروز، کرد، شیعہ، علوی، ارمنی اور دیگر نسلی و مذہبی گروہ بھی بستے ہیں۔ یہ سب گروہ شام کے معاشرتی تانے بانے کا حصہ ہیں، لیکن دہائیوں تک ریاستی پروپیگنڈے اور مرکزیت نے ان کی انفرادی حیثیت کو کم کر کے پیش کیا۔ عرب بہار کے بعد یہ حقیقت کھل کر سامنے آئی کہ شام ایک کثیرالقومی اور کثیرالمذہب ملک ہے، جہاں ہر گروہ اپنی بقا اور شناخت کی جنگ لڑ رہا ہے۔
دروز برادری اس تنوع کا ایک اہم جزو ہے۔ جنوبی شام کے صوبے سویداء میں ان کی اکثریت آباد ہے۔ ان کی آبادی نسبتاً کم ہے، مگر تاریخی طور پر انہوں نے اپنی برادری کو محفوظ رکھنے اور اپنی زمین سے جڑے رہنے کے لیے مزاحمت اور صبر کا سہارا لیا ہے۔ مگر جولائی 2025 میں ہونے والی شدید جھڑپوں اور انسانی جانوں کے بڑے پیمانے پر نقصان نے ان کی خاموشی کو توڑ دیا۔
شیخ حکمت الهجری، جو دروز برادری کے روحانی رہنما ہیں، بارہا اعلان کر چکے ہیں کہ اہلِ سویداء کے لیے حقِ خودارادیت ایک مقدس حق ہے جس سے پیچھے ہٹنا ممکن نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ شام کے مرکزی نظام سے علیحدہ ہو کر اپنی سیاسی و انتظامی حیثیت کا تعین خود کرنا چاہتے ہیں۔ اہلِ سویداء عالمی برادری سے اپیل کر رہے ہیں کہ علاقے میں بین الاقوامی مبصرین بھیجے جائیں تاکہ عام شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ ساتھ ہی بین الاقوامی فوجداری عدالت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ سویداء میں ہونے والی ہلاکتوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آزادانہ تحقیقات کرے۔
جولائی 2025 کے بعد سویداء میں ایک اعلیٰ قانونی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو مقامی سطح پر عدلیہ، انتظامیہ اور سروسز کی نگرانی کر رہی ہے۔ اسی طرح کئی مسلح گروہ متحد ہو کر “الحرس الوطني” کے نام سے ایک مقامی دفاعی ڈھانچے میں شامل ہو گئے ہیں۔ اس کا مقصد علاقے کو بیرونی حملوں اور حکومتی دباؤ سے بچانا ہے۔ اہلِ سویداء کا کہنا ہے کہ علاقے پر عملاً محاصرہ ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ بین الاقوامی انسانی راہداری قائم کی جائے تاکہ خوراک، ادویات اور بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن ہو سکے۔
حالیہ مہینوں میں ہونے والے بڑے احتجاجی مظاہروں میں لوگ کھل کر استقلال اور علیحدہ شناخت کے نعرے لگا رہے ہیں۔ کچھ مظاہروں میں اسرائیلی پرچم بھی لہرائے گئے، جنہیں دروز برادری کی طرف سے “انسانی مداخلت” پر شکریہ کے طور پر پیش کیا گیا۔ دروز قیادت نے کھل کر امریکہ، اسرائیل، خلیجی ممالک اور کرد انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا ہے جبکہ یورپی ممالک سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ سویداء کے عوام کی جدوجہد کو تسلیم کریں اور ان کے حقِ خودارادیت کی حمایت کریں۔
اہلِ سویداء آج کھلے عام اپنے حقِ خودارادیت، بین الاقوامی تحفظ، مقامی خودمختاری اور انسانی وقار کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔ ان کے مطالبات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ وہ شام کے موجودہ نظام پر اعتماد کھو چکے ہیں اور اپنی تقدیر کے فیصلے خود کرنا چاہتے ہیں۔ دروز برادری کے اس ابھرتے ہوئے موقف نے شام کے مستقبل کے بارے میں ایک نیا سوال کھڑا کر دیا ہے: کیا یہ کثیرالقومی اور کثیرالمذہب معاشرہ مرکزیت کے تحت قائم رہ سکے گا یا مختلف برادریاں اپنی اپنی خودمختار راہیں اختیار کریں گی؟















