زاہدان (ہمگام نیوز) حالوش کے حوالے سے رپورٹ کے مطابق آج بروز ہفتہ، 20 اگست کو طلوع آفتاب کے وقت ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے مرکزی شہر زاہدان کے سینٹرل جیل میں ایک بچہ سمیت پانچ بلوچ قیدیوں کی سزائے موت پر عمل درآمد کیا۔
تفصلات کے مطابق آج ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے مرکزی شہر زاہدان کے جیل میں ایک بچہ سمیت 5 بلوچ قیدیوں کو پھانسی دی گئی جن کے نام یہ ہیں 21 سالہ امید عالیزہی ولد گل محمد ساکن زاہدان، 24 سالہ مرتضٰی دہواری ولد اللہ داد ساکن گاؤں محمدی، سراوان سے، 23 سالہ عبدالباسط براہوئی ولد نادر ساکن زاہدان، 30 سالہ عبدالرحیم اسماعیلزہی ولد محمد ساکن کلچات زاہدان اور 28 سالہ محسن سالارزہی ولد حنیف ساکن زاہدان شناخت ہوئی ہیں ـ
رپورٹ کے مطابق امید کو 2017 میں “قتل” کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا جب وہ 16 سال کا تھا اور مرتضیٰ کو 2019 میں سراوان شہر سے اسی طرح کے الزامات میں گرفتار کیا گیا تھا۔
عبدالباسط اور عبدالرحیم کو بھی 2019 میں زاہدان میں دو الگ الگ مقدمات میں گرفتار کیا گیا تھا اور اس شہر کی انقلابی عدالت نے موت کی سزا سنائی تھی اور تب سے وہ اس جیل کے وارڈ سات میں قید تھے ـ
اس کے علاوہ محسن سالارزہی کو 2016 میں گرفتار کیا گیا تھا اور کچھ عرصے بعد وہ ضمانت پر رہا ہو گئے تھے تاہم 2021 میں انہیں منشیات کی نقل و حمل اور رکھنے کے الزام میں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا تھا۔
جمعرات 19 اگست کو ان قیدیوں کو جیل حکام نے سزائے موت پر عمل درآمد کے لیے قید تنہائی میں منتقل کیا تھا اور ان افراد کے اہل خانہ کی ان کے بچوں سے گزشتہ روز زاہدان سینٹرل جیل میں آخری ملاقات ہوئی۔


