زاہدان(ہمگام نیوز ) ذرائع کو موصول ہونے والی ایک خصوصی ویڈیو میں زاہدان کے علاقے رودماہی کی پہاڑیوں میں مسلح اور فوجی یونیفارم میں ملبوس فاطمیون سے وابستہ مبینہ نیم فوجی اہلکاروں کو دکھایا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، 29 ستمبر 2026 کو موصول ہونے والی اس ویڈیو میں متعدد مسلح افراد کو فوجی سازوسامان اور ہتھیاروں کے ساتھ پہاڑی علاقے میں نقل و حرکت اور گشت کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو بغیر آواز کے موصول ہوئی ہے۔
ویڈیو میں بعض افراد نے اپنے چہرے ڈھانپ رکھے ہیں، جبکہ ان کے پاس موجود ہتھیار اور دیگر فوجی سازوسامان واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔ ویڈیو کے ایک حصے میں ایک شخص، جس کا چہرہ نمایاں ہے اور جسے فاطمیون کا رکن بتایا گیا ہے، دیگر مسلح افراد کے ہمراہ رودماہی کی پہاڑیوں میں سیلفی بناتے ہوئے بھی دکھائی دیتا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق، ویڈیو میں نظر آنے والے افراد فاطمیون سے وابستہ نیم فوجی اہلکار ہیں اور یہ ویڈیو 27 ستمبر 2026 کو ریکارڈ کی گئی تھی۔
یہ ویڈیو ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ہمگام نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں فاطمیون اور زینبیون سے منسلک افراد کی موجودگی، نقل و حرکت، تعیناتی اور گشت سے متعلق متعدد رپورٹس شائع کی ہیں۔
اس سے قبل 21 ستمبر 2026 کو ہمگام نے ایک خصوصی ویڈیو جاری کی تھی، جس کے بارے میں مقامی ذرائع کا کہنا تھا کہ اس میں فاطمیون کے متعدد ارکان سراوان کے علاقے گشت میں ایک نو تعمیر شدہ گرلز اسکول کے اندر آتشیں ہتھیاروں کے ساتھ فوجی تربیت حاصل کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ بتایا گیا تھا کہ یہ اسکول علاقے کی شیعہ برادری کی مسجد کے عقب میں واقع ہے۔
مقامی ذرائع نے گزشتہ کئی ماہ اور ہفتوں کے دوران ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں فاطمیون اور زینبیون کے ارکان کی موجودگی اور نقل و حرکت کے حوالے سے بھی ذرائع کو متعدد اطلاعات فراہم کی ہیں۔ ان میں سے بعض رپورٹس بلوچ شہریوں کے رہائشی اور دیہی علاقوں سے متعلق ہیں۔
اس سے قبل زاہدان کے کورین ضلع کے علاقے سمسور میں فاطمیون کے نیم فوجی ارکان کی موجودگی اور مقامی آبادی کے لیے مبینہ مشکلات پیدا کرنے کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔ مقامی ذرائع نے بعض واقعات میں ایک بلوچ خاتون کو اپنے شوہر کے ہمراہ سفر کے دوران مبینہ طور پر تعاقب کیے جانے اور عارضی شادی کے بارے میں پوچھ گچھ کیے جانے کا دعویٰ کیا تھا۔ بعض دیگر رپورٹس میں بچوں کے ساتھ نامناسب رویے اور مقامی لوگوں کے مویشیوں پر قبضے یا انہیں ہلاک کیے جانے کے الزامات بھی شامل تھے۔ حال وش کے مطابق یہ تمام اطلاعات مقامی ذرائع کے بیانات پر مبنی ہیں اور وہ ان کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں کر سکا۔
مقامی ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق فاطمیون اور زینبیون کے ارکان کی موجودگی زاہدان، میرجاوہ، کورین، گشت، سراوان، راسک، زابل، سیب و سوران، ایرانشہر، چابہار، کنارک اور زرآباد کے بعض علاقوں میں رپورٹ ہوئی ہے۔
رپورٹس میں میرجاوہ کے لادیز، پشتِ سد گزو اور جون آباد، زاہدان کے اطراف پدگ، کورین کے بعض حصوں اور رودماہی، جبکہ ایرانشہر، چابہار، کنارک اور زرآباد کے اطراف کے علاقوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
ماضی کی بعض رپورٹس میں مقامی ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ بسیج کے بعض مقامی اڈے فاطمیون اور زینبیون کے حوالے کیے گئے ہیں۔ ان اطلاعات کے مطابق بعض علاقوں میں وہ اڈے جو پہلے مقامی فورسز کے زیرِ انتظام تھے، ان گروہوں کو منتقل کیے گئے۔ حال وش کا کہنا ہے کہ وہ موصول ہونے والی ان رپورٹس کی مزید جانچ اور دستاویز بندی جاری رکھے ہوئے ہے۔
فاطمیون اور زینبیون ایران کی حمایت یافتہ نیم فوجی تنظیمیں ہیں، جن کے ارکان کی بڑی تعداد افغانستان اور پاکستان کی شیعہ برادریوں سے بھرتی کی گئی ہے۔ دونوں گروہوں کے ارکان شام کی جنگ میں بھی لڑ چکے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، اسے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ایرانی مقبوضہ بلوچستان میں ان نیم فوجی گروہوں کی موجودگی اور سرگرمیوں سے متعلق متعدد اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جن کی دستاویز بندی اور مزید جانچ کا عمل جاری ہے۔


