Homeخبریںزاہدان میں مسجد مکی کے سامنے سے ایک نوجوان لاپتہ

زاہدان میں مسجد مکی کے سامنے سے ایک نوجوان لاپتہ

زاہدان(ہمگام نیوز ) بدھ، 26 اگست 2026 کی شام زاہدان کی مسجد مکی کے سامنے نامعلوم مسلح افراد نے ایک بلوچ سنی مذہبی کارکن کو مبینہ طور پر اغوا کر لیا۔ اغوا کے بعد اسے زبردستی ایک گاڑی میں منتقل کیا گیا، جس کے بعد سے اس کی حالت، مقام اور حراست کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں مل سکی۔

ذرائع کے مطابق اغوا ہونے والے شہری کی شناخت تقریباً 19 سالہ انس احمدزہی ولد احمد کے طور پر ہوئی ہے۔ وہ سراوان کے علاقے ہوشک سے تعلق رکھتے ہیں اور زاہدان میں مقیم تھے۔

ذرائع کے مطابق انس احمدزہی سنی مذہبی سرگرمیوں سے وابستہ اور تبلیغ جماعت کے رکن تھے۔ وہ مسجد مکی میں چار ماہ کی تبلیغی تشکیل میں موجود تھے۔

ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ شام مسجد مکی کے داخلی راستے کے سامنے چند نامعلوم افراد نے انس کو آواز دے کر بلایا۔ ان کے قریب آنے کے بعد مسلح افراد نے مبینہ طور پر طاقت اور اسلحے کا استعمال کرتے ہوئے انہیں ایک گاڑی میں زبردستی منتقل کیا اور موقع سے فرار ہو گئے۔

انس احمدزہی کے رشتہ داروں کے مطابق اغوا کے طریقۂ کار کو دیکھتے ہوئے یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انہیں تاوان یا بھتہ وصول کرنے کی غرض سے یرغمال بنایا گیا ہو سکتا ہے۔ تاہم اس وقت حملہ آوروں کی شناخت یا اغوا کے اصل محرکات کے بارے میں کوئی آزادانہ معلومات دستیاب نہیں ہیں اور حال وش بھی اس امکان کی تصدیق نہیں کر سکا۔

رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب گزشتہ چند ماہ کے دوران ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں اغوا اور یرغمال بنانے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جس سے شہریوں اور صوبے کے عوام میں تشویش بڑھ گئی ہے۔

 مولوی عبدالحمید بھی اس سے قبل بلوچستان میں بڑھتے ہوئے اغوا اور بدامنی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ دار اداروں سے ان واقعات میں ملوث افراد کے خلاف سنجیدہ کارروائی اور شہریوں کی سلامتی یقینی بنانے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔

ذرائع کے مطابق انس احمدزہی کے اغوا کے طریقۂ کار، اغوا کاروں کی شناخت، ان کے ممکنہ ٹھکانے اور اس کارروائی کے محرکات کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کی کوشش جاری ہے۔ قابلِ تصدیق معلومات موصول ہونے کی صورت میں مزید رپورٹ شائع کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز