Homeخبریںسراوان: معاشی تنگی کے باعث ایندھن کی ترسیل (سوختبری) پر مجبور معروف...

سراوان: معاشی تنگی کے باعث ایندھن کی ترسیل (سوختبری) پر مجبور معروف بلوچ گلوکار بارودی سرنگ کے دھماکے میں شہید

سراوان (ھمگام نیوز) 15 جون 2026ء بروز پیر، ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے معروف لوک فنکار “گوھرام گمشاد زہی” کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس میں وہ بلوچی گیت گاتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ یہ ویڈیو ان کی موت کے بعد سامنے آئی ہے، جس نے ایک بار پھر بلوچ فنکاروں کی کسمپرسی اور متعلقہ اداروں کی بے حسی کو بے نقاب کر دیا ہے۔ گوھرام گمشاد زہی 11 جون 2026ء کی رات سراوان کے علاقے ‘اسفندک’ میں قابض ایرانی پاسدارانِ انقلاب (سپاہ پاسداران) کی جانب سے بچھائی گئی ایک بارودی سرنگ کے دھماکے کی زد میں آ کر جان کی بازی ہار گئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق 45 سالہ گوھرام گمشاد زہی شادی شدہ اور 7 بچوں کے باپ تھے، اور ان کا تعلق سراوان کے علاقے ‘گشت’ سے تھا۔ وہ فنِ موسیقی سے وابستگی کے ساتھ ساتھ اپنے خاندان کی کفالت کے لیے انتہائی پرخطر سمگلنگ یا ایندھن کی ترسیل (سوختبری) کا کام کرنے پر مجبور تھے۔

 آرٹسٹوں کی کسمپرسی اور پرخطر روزگار

گوھرام کی روایتی بلوچی شاعری اور موسیقی گاتے ہوئے ویڈیوز نے سوشل میڈیا پر بحث چھیڑ دی ہے اور یہ تلخ حقیقت عیاں کی ہے کہ کس طرح باصلاحیت بلوچ فنکار بنیادی مالی امداد، انشورنس اور پیشہ ورانہ سرپرستی سے محروم ہیں۔ زندگی کا پہیہ چلانے کے لیے انہیں ایسے پرخطر کاموں کا سہارا لینا پڑتا ہے جہاں موت ہر وقت سر پر منڈلاتی ہے۔

 ذرائع کے مطابق، بلوچستان میں متعدد ایسے گلوکاروں، سازندوں اور ثقافتی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو روزگار کے مواقع نہ ہونے، سخت پابندیوں اور ‘محکمہ ثقافت و ارشاد’ سمیت دیگر ذمہ دار اداروں کی عدم توجہی کے باعث اپنے فن سے ایک روپیہ بھی کمانے سے قاصر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے سوختبری، سخت مزدوری اور دیگر جان لیوا کام کرنے پر مجبور ہیں۔

 بلوچستان میں سوختبروں کی اموات کا بڑھتا ہوا رجحان

حالیہ برسوں میں، اپنے خاندان کا پیٹ پالنے کے لیے ایندھن کی ترسیل (سوختبری) کے شعبے سے وابستہ درجنوں بلوچ شہری سیکیورٹی فورسز کی براہِ راست فائرنگ، بارودی سرنگوں کے دھماکوں، تعاقب کے دوران گاڑیوں کے الٹنے اور دیگر حادثات میں اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ ان میں ایسے تخلیقی اور ثقافتی شعبوں سے وابستہ افراد بھی شامل ہیں جنہیں اگر ریاستی سرپرستی ملتی تو وہ ملک کا سرمایہ بن سکتے تھے۔

گوھرام گمشاد زہی کی موت محض ایک عام شہری یا سوختبر کی موت نہیں، بلکہ بلوچ معاشرے کے ایک فنکار اور ایک منفرد آواز کا ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جانا ہے۔ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جب ریاستی ادارے فنکاروں کو تحفظ دینے میں ناکام ہو جائیں، تو انہیں فن اور روٹی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے—اور اکثر یہ انتخاب ان کی زندگی کا آخری انتخاب ثا

بت ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز